کیا بنگلہ دیش کی ٹیم ٹیسٹ درجے کی حقدار ہے؟

آخری وقت اشاعت:  منگل 11 دسمبر 2012 ,‭ 11:20 GMT 16:20 PST

بنگلہ دیش کی ٹیم کی اب تک کی کارکردگی کچھ زیادہ متاثر کن نہیں ہے مگر اس کی کرکٹ کے معیار میں بہتری لانے کے لیے کیا کیا جا سکتا ہے؟

بنگلہ دیش کو بارہ سال قبل آج ہی کے دن ٹیسٹ کرکٹ کھیلنے والی ٹیم کا درجہ ملا تھا تو اس وقت کرکٹ کی دنیا آج کی دنیا سے بہت مختلف تھی۔

ٹی ٹوئنٹی اس وقت ایک خواب کی مانند تھا۔ادھر جنوبی افریقہ کے سابق کپتان ہانسی کرونیے پر میچ فکسنگ کے باعث پابندی عائد کردی گئی تھی، جس کی وجہ سے کرکٹ کی دنیا بدنامی کا شکار تھی۔

اس موقعے پر یہ بنگلہ دیش کے لیے فخر کا مقام تھا کہ وہ اب کرکٹ کھیلنے والے ممالک کی فہرست میں شامل ہو گئے تھے۔

جب بنگلہ دیش کے کھلاڑی امین الاسلام نے بھارت کے خلاف پہلے ہی میچ میں سنچری بنا ڈالی اور بنگلہ دیش نے چار سو رنز سکور کیے تو انٹرنیشنل کرکٹ کونسل کا بنگلہ دیش کو ٹیسٹ کرکٹ کھیلنے والی ٹیم کا درجہ دینے کا فیصلہ دانشمندانہ لگا۔

لیکن بدقسمتی سے بنگلہ دیش کو اس کے بعد سے کوئی اچھی خبر نہیں ملی۔ اس نے 73 میچز میں سے 63 میچ ہارے ہیں۔ جو تین میچ بنگلہ دیش نے جیتے ہیں ان میں ایک سنہ 2005 میں اپنے ہی ملک میں زمبابوے کی ٹیم سے اور دو سنہ 2009 میں ویسٹ انڈیز کے خلاف اس وقت جب ویسٹ انڈیز کے بڑے کھلاڑی میچ سے باہر تھے۔

یہ نہایت خراب اعداد و شمار ہیں۔ تو اب بنگلہ دیش کے لیے کیا کیا جا سکتا ہے کہ اس کی کرکٹ کے معیار میں بہتری آئے؟

بنگلہ دیش کے سابق کوچ سٹورٹ لا کا کہنا ہے ’ٹیم کو اپنے اہداف کچھ کم کرنے ہوں گے۔ میں جانتا ہوں کہ ٹیم اپنے آپ کو بہترین ٹیم کے طور پر دیکھنا چاہتی ہے لیکن یہ کام آہستہ آہستہ کرنا ہو گا۔ ٹیم کا خیال ہے کہ یہ ان کا حق ہے، لیکن ان کو پہلے کمزور ٹیموں کے ساتھ کھیلنا چاہیے جیسے کہ افغانستان اور آئرلینڈ۔‘

"ٹیم کو اپنے ہدف کچھ کم کرنے ہوں گے۔ میں جانتا ہوں کہ ٹیم اپنے آپ کو بہترین ٹیم کے طور پر دیکھنا چاہتی ہے لیکن یہ ان کو آہستہ آہستہ کرنا ہو گا۔ ٹیم کا خیال ہے کہ یہ ان کا حق ہے لیکن ان کو پہلے کمزور ٹیموں کے ساتھ کھیلنا چاہیے جیسے کہ افغانستان اور آئرلینڈ۔"

بنگلہ دیش کے سابق کوچ سٹورٹ لا

جہاں ایک طرف سٹوارٹ لا کا مشورہ معقول لگتا ہے وہاں اس مشورے پر شاید عمل نہ ہو۔ آئرلینڈ کی ٹیم کے بولر ٹرینٹ جونسٹن کا کہنا ہے کہ بنگلہ دیش ان سے کھیلنے سے خوفزدہ ہے کہ کہیں ان کا ٹیسٹ کا درجہ متاثر نہ ہو۔

آئرلینڈ بھی ٹیسٹ کا درجہ لینے کا خواہشمند ہے اور قابل ذکر بات یہ ہے کہ اس نے پچھلے ورلڈ کپ میں انگلینڈ، پاکستان اور بنگلہ دیش کو شکست دی تھی۔

سٹوارٹ کا کہنا ہے ’میں آئرلینڈ سے متفق ہوں۔ انہوں نے اپنی ٹیم کی ورلڈ کپ میں نمائندگی احسن طریقے سے کی ہے، اور افغانستان نے بھی۔ انہوں نے زیادہ میچ نہیں جیتے لیکن انہوں نے وہ جذبہ دکھایا ہے۔ میں یہ نہیں کہتا کہ آئرلینڈ اور افغانستان کو ٹیسٹ کرکٹ کا درجہ دے دیا جائے لیکن ایک چیمپیئن ٹرافی ہو جس میں ان دونوں ٹیموں کے ساتھ بنگلہ دیش اور زمبابوے کی ٹیمیں بھی ہوں۔ کیوں نہ اس طریقے سے ٹیسٹ درجے میں سب سے نچلی ٹیموں اور ایسوسی ایٹ ٹیموں کی ترقی کی جائے۔‘

سٹوارٹ لا کی اس تجویز کو آئرلینڈ کی ٹیم کی حمایت حاصل ہے۔ آئرلینڈ کے وکٹ کیپر نیئل او برائن کہتے ہیں ’اگر ہم بنگلہ دیش، زمبابوے یا نیوزی لینڈ کے خلاف کھیل رہے ہوں تو میرے خیال میں ہم ان کو آسانی سے جیتنے نہیں دیں گے۔ میں یہ نہیں کہہ رہا کہ ہم ایم سی جی میں آسٹریلیا کو شکست دیں گے لیکن یہ اچھا ہو گا اگر ہم دوسری ٹیموں کے ساتھ کھیلیں تاکہ ہمیں معلوم ہو کہ ہم کتنے پانی میں ہیں۔‘

بنگلہ دیش کی ٹیم نے اب تاک بہتر کارکردگی نہیں دکھائی اور ٹیم میں ٹیسٹ کے اچھے کھلاڑی پیدا نہیں کیے ہیں۔

بنگلہ دیش میں ایک ہی آل راؤنڈر شکیب الحسن ہے، لیکن ان کی اوسط بھی 39 رنز سے کم ہے۔ اس کے علاوہ ایک ہی بیٹس مین تمیم اقبال ہیں جن کی اوسط تیس سے زیادہ ہے۔

بنگلہ دیش کے سابق کوچ سٹوارٹ لا کا کہنا ہے کہ یہ ٹیم جیتنے کی صلاحیت رکھتی ہے، لیکن اگر ہار جائے تو بری طرح ہارتی ہے۔ ’اس ٹیم کے ساتھ درمیانہ راستہ کوئی نہیں ہے۔ یا تو بھرپور جارحانہ کھیل یا پھر کچھ نہیں۔ وہ زیادہ سے زیادہ کھیل کر ہی سیکھیں گے اور بہتر ہوں گے چاہے وہ چار روزہ کرکٹ ہی کیوں نہ ہو۔‘

لا کا کہنا ہے، ’بنگلہ دیش کو آئی سی سی سے بہت مدد ملتی ہے لیکن اب ان کو اپنی مدد خود کرنی ہے۔ آگے جانے کا طریقہ چھوٹے چھوٹے قدم لینا ہے۔ سری لنکا کی طرف دیکھیں اور سیکھیں۔ سری لنکا بیس سال تک کھیلتا رہا اور پھر ورلڈ کپ کا فاتح بنا۔‘

اسی بارے میں

متعلقہ عنوانات

BBC © 2014 بی بی سی دیگر سائٹوں پر شائع شدہ مواد کی ذمہ دار نہیں ہے

اس صفحہ کو بہتیرن طور پر دیکھنے کے لیے ایک نئے، اپ ٹو ڈیٹ براؤزر کا استعمال کیجیے جس میں سی ایس ایس یعنی سٹائل شیٹس کی سہولت موجود ہو۔ ویسے تو آپ اس صحفہ کو اپنے پرانے براؤزر میں بھی دیکھ سکتے ہیں مگر آپ گرافِکس کا پورا لطف نہیں اٹھا پائیں گے۔ اگر ممکن ہو تو، برائے مہربانی اپنے براؤزر کو اپ گریڈ کرنے یا سی ایس ایس استعمال کرنے کے بارے میں غور کریں۔