غیرملکی کھلاڑیوں کے لیے ثقافتی تعلیم کی تجویز

آخری وقت اشاعت:  منگل 11 دسمبر 2012 ,‭ 11:39 GMT 16:39 PST

غیر ملکی کھلاڑیوں کو ’برطانوی ثقافتی ماحول‘ کے حوالے سے لیکچر دیے جائیں گے: رپورٹ

فٹ بال کی گورننگ باڈیز انگلش فٹ بال کلبز میں کھیلنے والے غیر ملکی کھلاڑیوں کے لیے ثقافتی لیکچر ترتیب دے رہی ہے تاکہ نسلی نوعیت کے واقعات میں کمی واقع ہو سکے۔

بی بی سے کو معلوم ہوا ہے کہ فٹ بال گورننگ باڈیز نے وزیر اعظم ڈیوڈ کیمرون کو امتیازی سلوک کی روک تھام کے لیے ایک تفصیلی رپورٹ پیش کی ہے۔

یہ رپورٹ 93 صفحات پر مشتمل ہے۔ اس میں ایک تجویز یہ بھی ہے کہ ہر کھلاڑی اور مینیجر کے معاہدے میں امتیازی سلوک برتنے کے خلاف ایک شق ڈالی جائے۔

اگرچہ ہر کلب کا اپنا طریقہ ہے کہ اس کے ملازمین کا برتاؤ کیسا ہونا چاہیے لیکن یہ معاہدے کا حصہ نہیں ہے۔

لیکن جو تجویز اس رپورٹ میں اہم ہے وہ یہ ہے کہ انگلش کلب میں غیر ملکی کھلاڑیوں کو ’برطانوی ثقافتی ماحول‘ کے حوالے سے لیکچر دیے جائیں گے۔

یہ تجویز پچھلے سال کے متنازع نسلی بیان کے بعد دی گئی ہے جس میں لیورپول کلب کے کھلاڑی لوئی سوریز پر آٹھ میچوں کی پابندی عائد کردی گئی تھی۔

سوریز نے ایورا کو ’نیگریٹو‘ کہا تھا لیکن انضباطی کمیٹی کے سامنے موقف اختیار کیا تھا کہ یہ ان کے ملک یوروگوئے میں ایک عام لفظ ہے۔

انضباطی کمیٹی نے ان کا یہ موقف مسترد کردیا تھا۔

برطانیہ کی پریمیئر لیگ میں کھیلنے والے غیر ملکی کھلاڑیوں کی شرح کم ہو رہی ہے لیکن پھر بھی یہ شرح ساٹھ اور فٹ بال لیگ میں بیس فیصد ہے۔

اسی بارے میں

متعلقہ عنوانات

BBC © 2014 بی بی سی دیگر سائٹوں پر شائع شدہ مواد کی ذمہ دار نہیں ہے

اس صفحہ کو بہتیرن طور پر دیکھنے کے لیے ایک نئے، اپ ٹو ڈیٹ براؤزر کا استعمال کیجیے جس میں سی ایس ایس یعنی سٹائل شیٹس کی سہولت موجود ہو۔ ویسے تو آپ اس صحفہ کو اپنے پرانے براؤزر میں بھی دیکھ سکتے ہیں مگر آپ گرافِکس کا پورا لطف نہیں اٹھا پائیں گے۔ اگر ممکن ہو تو، برائے مہربانی اپنے براؤزر کو اپ گریڈ کرنے یا سی ایس ایس استعمال کرنے کے بارے میں غور کریں۔