دھونی کو ٹیسٹ کپتانی سے ہٹانے کا مطالبہ

آخری وقت اشاعت:  منگل 18 دسمبر 2012 ,‭ 23:20 GMT 04:20 PST

’کوہلی کی سنچری کے بعد مجھے لگتا ہے کہ وہ کپتانی کا بوجھ سنبھالنے کے لیے تیار ہو گئے ہیں‘

بھارت کو اپنی سرزمین پر انگلینڈ سے ستائیس برس بعد پہلی بار ٹیسٹ سیریز میں شکست ہوئی ہے جس کے بعد کپتان مہندر سنگھ دھونی کو ہٹانے کا مطالبہ کیا جا رہا ہے۔

یہ مطالبہ کرنے والوں میں سابق کپتان سنیل گواسکر، سابق چیف سلیکٹر شری کانت اور دوسرے کئی کھلاڑیوں شامل ہیں۔

دھونی کی جگہ کس کھلاڑی کو کپتان بنایا جائے اس پر ویرات کوہلی کے نام پر سب سے زیادہ لوگ متفق ہیں۔

ہندوستانی ٹیم کی ٹیسٹ کرکٹ میں گزشتہ اٹھارہ ماہ میں بے حد مایوس کن کارکردگی رہی ہے۔ اس دوران بھارت نے انگلینڈ اور آسٹریلیا میں سیریز میں شکست کھائی لیکن اب اپنے ہی ملک میں سیریز میں شکست کے بعد دھونی پر تنقید زیادہ ہوگئی ہے۔

خبر رساں ایجنسی پی ٹی آئی کے مطابق سنیل گواسکر نے ناگپور ٹیسٹ کے بعد کہا کہ دھونی سیریز میں کہیں بھی کنٹرول میں نہیں نظر آئے۔

دوسری جانب سابق بیٹسمین سری کانت نے کہا ہے کہ ’دھونی کی سمجھ نہیں آ رہا ہے کہ مشکل حالات میں کیا کرنا چاہیے۔ انہیں ٹیسٹ کپتان سے ہٹانا چاہیے۔ اگر میں سلیکٹر ہوتا تو انہیں کپتانی سے ہٹا دیتا لیکن ٹیم میں بطور وکٹ کیپر اور بیٹسمین ضرور رکھتا۔‘

سابق کرکٹر گواسکر کا کہنا ہے ’ناگپور ٹیسٹ کے چوتھے دن سے پہلے تک مجھے لگتا تھا کہ دھونی کا کوئی متبادل نہیں ہے۔ لیکن کوہلی کی سنچری کے بعد مجھے لگتا ہے کہ وہ کپتانی کا بوجھ سنبھالنے کے لیے تیار ہو گئے ہیں۔‘

گواسکر نے کہا کہ کپتانی میں تبدیلی کو مثبت تبدیلی کے طور پر دیکھنا چاہیے۔

اسی بارے میں

متعلقہ عنوانات

BBC © 2014 بی بی سی دیگر سائٹوں پر شائع شدہ مواد کی ذمہ دار نہیں ہے

اس صفحہ کو بہتیرن طور پر دیکھنے کے لیے ایک نئے، اپ ٹو ڈیٹ براؤزر کا استعمال کیجیے جس میں سی ایس ایس یعنی سٹائل شیٹس کی سہولت موجود ہو۔ ویسے تو آپ اس صحفہ کو اپنے پرانے براؤزر میں بھی دیکھ سکتے ہیں مگر آپ گرافِکس کا پورا لطف نہیں اٹھا پائیں گے۔ اگر ممکن ہو تو، برائے مہربانی اپنے براؤزر کو اپ گریڈ کرنے یا سی ایس ایس استعمال کرنے کے بارے میں غور کریں۔