کبڈی ورلڈ کپ میں انگلینڈ کی ٹیم کا جلوہ

آخری وقت اشاعت:  جمعرات 20 دسمبر 2012 ,‭ 12:24 GMT 17:24 PST

بھارتی ریاست پنجاب میں انگلینڈ کی ٹیم کو لوگوں نے خوب سراہا

بھارتی ریاست پنجاب میں آج کل کبڈی کا عالمی کپ جاری ہے جس میں انگلینڈ کی خواتین کی ٹیم نے اپنے کھیل سے خوب ستائش حاصل کی۔

بھارت میں یہ ٹیم اتنی مقبول ہوئی کہ بعض کھلاڑیوں پر مداح جھپٹ تک پڑے اور بالآخر انہیں پولیس کو تحفظ بھی مہیا کرنا پڑا۔

بھارت میں کبڈی کا یہ تیسرا عالمی مقابلہ ہے جس میں خواتین کی ٹیمیں دوسری بار حصہ لے رہی ہیں۔

بھارت میں کبڈی آج بھی مقبول ہے اور کھیل دیکھنے اب بھی ہزاروں افراد آتے ہیں خاص طور پر خواتین کے میچ بہت مقبول ہیں۔

انگلینڈ کی ٹیم کی فوجی عملے، سکول کی اساتذہ ، پولیس آ‌فسر اور خنزیر کی فارمنگ جیسے شعبوں سے آئی خواتین پر مبنی ہے۔ یہ سبھی سفید فام خواتین ہیں اور ایک ایسا کھیل کھیل رہی ہیں جس پر جنوبی ایشیا کے لوگوں کا غلبہ رہا ہے۔

ٹیم کے کوچ بھارتی نژاد سابق کبڈی کھلاڑی اشوک داس ہیں جو پنجاب میں ہی پیدا ہوئے تھے۔ انہوں نے دو ہزار پانچ میں برطانوی فوج میں فٹنس کے لیے اس کھیل کو متعارف کیا تھا۔

وہ کہتے ہیں ’میں نےکبھی نہیں سوچا تھا کہ میں جس کھیل کو کھیل کر بڑا ہوا ہوں اسی کھیل میں خواتین کی ٹیم کی اپنے ہی گھر میں قیادت کرونگا۔ یہ کسی خواب کی مانند ہے جو سچ ہوگیا ہو‘

بھارت میں کبڈی کا یہ تیسرا عالمی مقابلہ ہے جس میں خواتین کی ٹیمیں دوسری بار شرکت کر رہی ہیں

ٹیم کے نصف ارکان کا تعلق فوج سے ہے جو افغانستان یا جرمنی میں تعینات ہیں اس لیے انہیں تربیت کے لیے مناسب وقت نہیں مل پاتا ہے۔

ٹیم کی ایک رکن سیلی ٹڈسویل سائنس کی ٹیچر ہیں اور ان کا یہ پہلا مقابلہ ہے۔ وہ کہتی ہیں کہ ان کے لیے یہ ایک الگ طرح کا تجربہ ہے۔ان کا کہنا تھا کہ ’ہم ہزاروں لوگوں کے مجمع کے سامنے کھیل رہے ہیں۔ وہ ہماری حوصلہ افزائی کرتے ہیں اور ہمیں چھونا بھی چاہتے ہیں۔‘

انگلینڈ کی ٹیم نے تین گروپ میچ کھیلے۔ پہلا امریکہ کے خلاف تھا جس میں انہوں نے شاندار کامیابی حاصل کی۔ ملائیشیا کے ساتھ ان کا دوسرا مقابلہ سخت تھا جس میں انہیں شکست ہوئي۔

انگلینڈ کی ٹیم اپنے آپ کو اخبارات اور ٹی وی میں دیکھتی ہے اور جہاں بھی وہ جاتی ہیں تو بہت سے رپورٹر ان کا پیچھا بھی کرتے ہیں۔ جب ٹیم نے ایک سکول کا دورہ کیا تو طلباء نے ان سے آٹوگراف بھی لیے۔

تیسرا مقابلہ ترکمانستان کی ٹیم کے ساتھ تھا اور اس مقابلے میں انگلینڈ نے بہترین کھیل کا مظاہرہ کیا۔ کھیل کے دوران شائقین نے انگلینڈ کی ٹیم کی بڑی حوصلہ افزائی کی اور جب میچ ختم ہوا تو سبھی اٹھ کر جانے لگے جبکہ ابھی بھارتی ٹیم کا میچ ہونا باقی تھا۔

انگلینڈ کی ایک کھلاڑی رائل انجینیئر لوزی ریمنڈ کہتی ہیں کہ انہیں ایسا تجربہ کبھی بھی نہیں ہوا۔ان کا کہنا تھا ’میں نے کبھی اتنے ہجوم کے سامنے نہیں کھیلا، یہ بہت زبردست ہے۔ انگلینڈ میں یہ سب آپ کو نہیں ملے گا‘۔

آخر کار انگلینڈ کی ٹیم سیمی فائنل میں بھارتی ٹیم سے شکست کھا گئی۔ کوچ اشوک داس کا کہتے ہیں ’انہوں نے میچ نہیں جیتا لیکن شائقین کے دل جیت لیے۔‘

اسی بارے میں

متعلقہ عنوانات

BBC © 2014 بی بی سی دیگر سائٹوں پر شائع شدہ مواد کی ذمہ دار نہیں ہے

اس صفحہ کو بہتیرن طور پر دیکھنے کے لیے ایک نئے، اپ ٹو ڈیٹ براؤزر کا استعمال کیجیے جس میں سی ایس ایس یعنی سٹائل شیٹس کی سہولت موجود ہو۔ ویسے تو آپ اس صحفہ کو اپنے پرانے براؤزر میں بھی دیکھ سکتے ہیں مگر آپ گرافِکس کا پورا لطف نہیں اٹھا پائیں گے۔ اگر ممکن ہو تو، برائے مہربانی اپنے براؤزر کو اپ گریڈ کرنے یا سی ایس ایس استعمال کرنے کے بارے میں غور کریں۔