پاکستان بھارت ہاکی سیریز کا معاہدہ طے پاگیا

آخری وقت اشاعت:  ہفتہ 29 دسمبر 2012 ,‭ 17:48 GMT 22:48 PST

اس معاہدے کے تحت آئندہ برس مارچ میں پاکستان کی ہاکی ٹیم بھارت جا کر پانچ میچ کھیلے گی

پاکستان اور بھارت کی ہاکی فیڈریشنز کے درمیان چھ سال کے لیے ہر سال دو طرفہ سیریز منعقد کرانے کا معاہدہ طے پا گیا۔

بھارت کی ہاکی فیڈریشن کے سیکرٹری نریندر بٹرا سنیچر کو واہگہ باڈر کے ذریعے لاہور پہنچے اور انھوں نے پاکستان ہاکی فیڈریشن کے حکام کے ساتھ لاہور کے نیشنل ہاکی سٹیڈیم میں دونوں ممالک کے درمیان ہاکی سیریز کے معاہدے پر دستخط کیے۔

اس معاہدے کے تحت آئندہ برس مارچ میں پاکستان کی ہاکی ٹیم بھارت جا کر پانچ میچ کھیلے گی جبکہ بھارتی ٹیم اپریل میں پاکستان آئے گی اور وہ بھی پاکستان کے خلاف پانچ میچ کھیلے گی۔

بی بی سی کی نامہ نگار کے مطابق بھارت کی ہاکی فیڈریشن کے سیکرٹری نریندر بٹرا نے کہا کہ بھارت میں ہاکی کا کھیل زوال پزیر ہے اور اسے بچانے کا واحد حل یہ ہے کہ پاکستان اور بھارت کے درمیان باقاعدہ میچ ہوں جنہیں دیکھنے کے لیے جب شائقین سٹیڈیم آئیں گے تو ایک بار پھر لوگوں میں ہاکی کا شوق اور جذبہ پیدا ہو گا۔

نریندر بٹرا کا کہنا تھا کہ ایشین چمپئنز ٹرافی کے فائنل میں پاکستان اور بھارت کے درمیان میچ بہت پر جوش تھا لیکن افسوس کی بات یہ کہ اسے بھارت اور پاکستان کے کسی بھی ٹی وی چینل نے براہ راست نہیں دکھایا۔

ان کے بقول سکیورٹی کے مسئلے کو لے کر اس سیریز کو نہیں روکا جائے گا۔

پاکستان ہاکی فیڈریشن کے سیکرٹری آصف باجوہ نے کہا کہ بھارتی ہاکی ٹیم کو فول پروف سکیورٹی مہیا کی جائے گی۔

اس موقعے پر پاکستان ہاکی فیڈریشن کے صدر قاسم ضیاء نے کہا کہ اگر دونوں ممالک کے درمیان ہاکی سیریز باقاعدگی سے ہوتی رہی تو دونوں ٹیمیں ہاکی میں اپنا کھویا ہوا مقام حاصل کر سکیں گی اور دونوں ممالک کے درمیان تسلسل سے ہاکی کے مقابلے ہونے سے ہاکی کو بہت فروغ ملے گا۔

اسی بارے میں

متعلقہ عنوانات

BBC © 2014 بی بی سی دیگر سائٹوں پر شائع شدہ مواد کی ذمہ دار نہیں ہے

اس صفحہ کو بہتیرن طور پر دیکھنے کے لیے ایک نئے، اپ ٹو ڈیٹ براؤزر کا استعمال کیجیے جس میں سی ایس ایس یعنی سٹائل شیٹس کی سہولت موجود ہو۔ ویسے تو آپ اس صحفہ کو اپنے پرانے براؤزر میں بھی دیکھ سکتے ہیں مگر آپ گرافِکس کا پورا لطف نہیں اٹھا پائیں گے۔ اگر ممکن ہو تو، برائے مہربانی اپنے براؤزر کو اپ گریڈ کرنے یا سی ایس ایس استعمال کرنے کے بارے میں غور کریں۔