2012 میں کرکٹ ایک بار پھر حاوی

آخری وقت اشاعت:  منگل 1 جنوری 2013 ,‭ 03:42 GMT 08:42 PST

اس سال پاکستان نے مصباح الحق کی قیادت میں ایشیا کپ بھی جیتا

2012ء ویسے تو لندن اولمپکس کا سال تھا لیکن ہمیشہ کی طرح اس بار بھی پاکستان میں کھیل کی دنیا میں کرکٹ دوسرے کھیلوں پر حاوی رہی۔

اگرچہ اس سال پاکستانی کرکٹ ٹیم کو بہت زیادہ انٹرنیشنل کرکٹ کھیلنے کو نہیں ملی لیکن اس کھیل میں پاکستان کے لیے سب سے بڑی خبر انگلینڈ کے خلاف پاکستانی کرکٹ ٹیم کی تاریخی جیت تھی۔

انگلینڈ کی ٹیم اس وقت عالمی نمبر ایک تھی لیکن مصباح الحق کی قیادت میں پاکستانی ٹیم نے اسے سیریز کے تینوں ٹیسٹ میچز میں آؤٹ کلاس کردیا۔

آف سپنر سعید اجمل کی 24 وکٹوں نے پاکستان کی جیت میں کلیدی کردار ادا کیا۔ انگلش ٹیم نے ان کے بولنگ ایکشن پر اعتراض کر کے ان کی شاندار کارکردگی کوگہنانے کی کوشش کی تاہم آئی سی سی نے ان کا بولنگ ایکشن درست قرار دے کر یہ بحث ہی ختم کر دی۔

پاکستان نے دو ہزار بارہ میں صرف چھ ٹیسٹ میچز کھیلے جن میں سے تین میں اسے فتح نصیب ہوئی، دو بے نتیجہ رہے جبکہ سری لنکا کے خلاف ایک ٹیسٹ میں اسے شکست ہوئی۔ اس ٹیسٹ میں قیادت کی ذمہ داریاں محمد حفیظ کے پاس تھیں کیونکہ مصباح الحق کو ایک میچ کی معطلی کا سامنا تھا۔

ٹیسٹ کرکٹ میں انفرادی کارکردگی میں اظہرعلی قابل ذکر رہے جنہوں نے چھ ٹیسٹ میچز میں 551 رنز بنائے جس میں تین سنچریاں بھی شامل تھیں۔

پاکستان نے سال بھر میں اٹھارہ ون ڈے کھیلے جن میں سات جیتے اور دس میں اسے شکست کا سامنا کرنا پڑا۔ اس سال کا اختتام پاکستان نے بھارت کے خلاف پانچ سال بعد بھارت میں ہونے والی سیریز کا پہلا ایک روزہ میچ جیت کر کیا۔

اس سال پاکستان نے مصباح الحق کی قیادت میں ایشیا کپ بھی جیتا اور فائنل میں بنگلہ دیش کو سنسنی خیز مقابلے کے بعد دو رنز سے شکست دی۔ ون ڈے انٹرنیشنل مقابلوں میں کپتان مصباح الحق ہی چار سو ترانوے رنز کے ساتھ قابل ذکر بلے باز رہے۔

سعید اجمل تینوں فارمیٹس میں سب سے زیادہ وکٹیں حاصل کر کے سب سے آگے رہے

2012 میں ٹی ٹوئنٹی کرکٹ میں پاکستان آٹھ میچ جیتنے میں کامیاب ہوا اور سات میں اسے شکست ہوئی۔ سری لنکا میں منعقدہ ورلڈ ٹی ٹوئنٹی میں محمد حفیظ کی کپتانی میں پاکستانی ٹیم کا سفر سیمی فائنل تک رہا جس میں اسے سری لنکا نے شکست دی۔

محمد حفیظ ہی ٹی ٹوئنٹی میں اس سال پاکستان کی جانب سے 398 رنز کے ساتھ سرفہرست بلے باز رہے۔

بولنگ کے شعبے میں سعید اجمل تینوں فارمیٹس میں سب سے زیادہ وکٹیں حاصل کر کے سب سے آگے رہے۔ ٹیسٹ میچز میں ان کی حاصل کردہ وکٹوں کی تعداد انتالیس رہی جبکہ ون ڈے میں انہوں نے اکتیس وکٹیں حاصل کیں۔ ٹی ٹوئنٹی میں بھی وہ پچیس وکٹوں کے ساتھ دنیا بھر کے بولرز میں سب سے آگے رہے۔

پاکستان میں انٹرنیشنل کرکٹ کی بحالی کی کوششیں اس سال بھی جاری رہیں لیکن بنگلہ دیش نے دو بار رضامندی ظاہر کرنے کے باوجود اپنی ٹیم پاکستان بھیجنے سے گریز کیا۔

روایتی حریفوں پاکستان اور بھارت کے مابین کرکٹ تعلقات کا تعطل دور کرنے کے لیے پاکستان کرکٹ بورڈ کے چیئرمین ذکا اشرف کی کوششیں رنگ لائیں اور پاکستانی کرکٹ ٹیم پانچ سال کے صبر آزما انتظار کے بعد دو طرفہ سیریز کھیلنے بھارت پہنچی۔

ہاکی

پاکستان نے بھارت کو پہلے عالمی چیمپیئنز ٹرافی اور پھر ایشین چیمپیئنز ٹرافی میں ہرایا

پاکستانی ہاکی کے لیے یہ سال ملا جلا رہا۔ جہاں لندن اولمپکس میں پاکستانی ہاکی ٹیم مایوس کن کارکردگی دکھاتے ہوئے ساتویں نمبر پر آئی وہیں چیمپیئنز ٹرافی میں پاکستانی ٹیم آٹھ سال بعد کانسی کا تمغہ جیتنے میں کامیاب ہوئی۔

چیمپئنز ٹرافی اس بار نئے فارمیٹ کے تحت کھیلی گئی جس میں تمام آٹھ ٹیموں نے لیگ کے بعد کوارٹرفائنلز بھی کھیلے اور یہ نیا فارمیٹ پاکستانی ٹیم کو راس آیا اور وہ لیگ میں آسٹریلیا اور ہالینڈ سے ہارنے کے باوجود کوارٹر فائنل کھیلی جس میں اس نے نئے کھلاڑیوں کے ساتھ شرکت کرنے والی جرمنی کی ٹیم کو ہراکر سیمی فائنل تک رسائی حاصل کی جہاں اسے ہالینڈ کے ہاتھوں شکست کا سامنا کرنا پڑا۔

پاکستان نے تیسری پوزیشن کے لیے کھیلے گئے میچ میں بھارت کو شکست دی۔ سال کے آخری مہینے میں پاکستان اور بھارت کی ٹیمیں دوحہ میں ایشین ہاکی چیمپیئنز ٹرافی کے فائنل میں پھر مدمقابل آئیں اور فتح ایک بار پھر پاکستان کا ہی مقدر ٹھہری۔

لندن اولمپکس کے بعد دنیا میں سب سے زیادہ گول کرنے والے پاکستانی ہاکی کھلاڑی سہیل عباس کا بین الاقوامی کیریئر بظاہر اختتام کو پہنچا جس کا اشارہ ٹیم کے ہیڈ کوچ اختررسول نے بھی دے دیا اور پھر پاکستان ہاکی فیڈریشن نے ان کا نام پرائیڈ آف پرفارمنس کے لیے تجویز کر دیا۔

دو ہزار بارہ کے آخر میں پاکستان اور بھارت کی ہاکی فیڈریشنز کے درمیان چھ سال کے لیے ہر سال دو طرفہ سیریز منعقد کرانے کا معاہدہ طے پایا۔اس معاہدے کے تحت مارچ 2013 میں پاکستان کی ہاکی ٹیم بھارت جا کر پانچ میچ کھیلے گی جبکہ بھارتی ٹیم اپریل میں پاکستان آئے گی اور وہ بھی پاکستان کے خلاف پانچ میچ کھیلے گی۔

دیگر کھیل

محمد آصف امیچیور چیمپیئن بننے والے دوسرے پاکستانی کیوئسٹ ہیں

انفرادی کھیلوں میں اس سال کی سب سے بڑی خبر سنوکر سے آئی جب محمد آصف نے عالمی امیچیور چیمپئن شپ جیت لی۔ فائنل میں انہوں نے انگلینڈ کے گیری ولسن کو شکست دی۔ وہ محمد یوسف کے بعد سنوکر کے عالمی امیچیور چیمپئن بننے والے دوسرے پاکستانی ہیں۔

ٹینس میں اعصام الحق پچھلے کچھ برسوں کے برعکس اس سال غیرمعمولی کارکردگی کا مظاہرہ نہ کرسکے اور انہوں نے دو ٹورنامنٹس جیتے۔ گرینڈ سلام مقابلوں میں وہ فرنچ اوپن اور یوایس اوپن کے سیمی فائنل تک پہنچنے میں کامیاب ہو سکے۔

سکواش میں پاکستان نے کویت میں کھیلی گئی ایشین سکواش چیمپئن شپ کے فائنل میں بھارت کو شکست دی۔

کبڈی کے کھیل میں جہاں بھارت میں منعقدہ کبڈی ورلڈ کپ کے فائنل میں بھارت نے پاکستان کو ہرایا وہیں لاہور میں کھیلے جانے والے ایشیا کپ کبڈی کے فائنل میں پاکستان نے بھارت کو شکست دی۔

پاکستان اولمپک ایسوسی ایشن اور حکومت کے درمیان اختیارات کی جنگ پورے سال جاری رہی جس کا انٹرنیشنل اولمپک کمیٹی نے بھی نوٹس لیا تاہم اس کی جانب سے پاکستانی حکومت کو صرف تنبیہی خطوط ہی بھیجے جاتے رہے۔

اس معاملے میں فریقین عدالت تک جا پہنچے اور اس کا اثر نیشنل گیمز پر بھی پڑا۔ سروسز نے ان کھیلوں کا بائیکاٹ کیا اور جب واپڈا نے قائداعظم ٹرافی جیتی تو گزشتہ سال کی فاتح آرمی نے یہ ٹرافی منتظمین کے حوالے کرنے سے ہی انکار کر دیا۔

اسی بارے میں

متعلقہ عنوانات

BBC © 2014 بی بی سی دیگر سائٹوں پر شائع شدہ مواد کی ذمہ دار نہیں ہے

اس صفحہ کو بہتیرن طور پر دیکھنے کے لیے ایک نئے، اپ ٹو ڈیٹ براؤزر کا استعمال کیجیے جس میں سی ایس ایس یعنی سٹائل شیٹس کی سہولت موجود ہو۔ ویسے تو آپ اس صحفہ کو اپنے پرانے براؤزر میں بھی دیکھ سکتے ہیں مگر آپ گرافِکس کا پورا لطف نہیں اٹھا پائیں گے۔ اگر ممکن ہو تو، برائے مہربانی اپنے براؤزر کو اپ گریڈ کرنے یا سی ایس ایس استعمال کرنے کے بارے میں غور کریں۔