’بھارتی کھلاڑی میدان میں پسینہ نہیں نکالتے‘

آخری وقت اشاعت:  ہفتہ 5 جنوری 2013 ,‭ 07:29 GMT 12:29 PST

جب تک کھلاڑی کا پسینہ میدان میں نہیں نکلے گا تب تک کچھ نہیں حاصل ہوگا: بشن سنگھ بیدی

ان دنوں بھارتی کرکٹ ٹیم کے ستارے گردش میں ہیں اور بھارت کے بیٹسمین کے ساتھ ساتھ بولنگ بھی بحث کے مرکز بنی ہوئی ہے۔

بھارت کے دورے پر پاکستان کرکٹ ٹیم نے پہلے تو ٹی ٹوئنٹی میں شاندار کھیل کا مظاہرہ کیا اور پھر اس کے بعد تین میچوں کی ون ڈے سیریز کے پہلے دو میچ جیت کر سیریز جیت لی۔

پاکستان اور بھارت کے درمیان سب سے بڑا فرق بولرز کا ہے۔ پاکستان کے نئے تیز بولر محمد عرفان اور جنید خان کے سامنے ہندوستانی بیٹسمین ناکام رہے۔

آف سپنر سعید اجمل بھی پیچھے نہیں رہے۔ کولکتہ میں کھیلے گئے میچ میں بھارتی گیند کتنی خراب تھی اس بات کا اندازہ اسی سے لگایا جا سکتا ہے کہ پاکستان نے پہلی وکٹ کی 141 رنز کی شراکت کے ساتھ ہی میچ بھی بھارت کے ہاتھ سے چھین لیا۔

سابق فاسٹ بولر اتل واسن کہتے ہیں’ایشانت شرما، اشوک ڈنڈا اور کمار تینوں ہی بہت عام نظر آئے۔ دوسری طرف پاکستان میں ٹیلنٹ کی کمی نہیں ہے۔ وہاں کوئی کرکٹ اکیڈمی ہے یا نہیں، کوئی وہاں کی کرکٹ پر توجہ دیتا ہے یا نہیں اس کا پتہ نہیں۔ لیکن پھر بھی وہاں سے مسلسل نئے فاسٹ بولرز آتے رہتے ہیں۔ اب چاہے سات فٹ سے زیادہ لمبائی والے عرفان ہوں یا جنید۔‘

گزشتہ ایک سال میں بھارت انگلینڈ اور آسٹریلیا سے ٹیسٹ اور ون ڈے سیریز ہارا تو اپنی ہی زمین پر انگلینڈ سے 28 سال بعد ٹیسٹ سیریز بھی ہار گیا۔

"ایشانت شرما، اشوک ڈنڈا اور کمار تینوں ہی بہت عام نظر آئے۔ دوسری طرف پاکستان میں ٹیلنٹ کی کمی نہیں ہے۔ وہاں کوئی کرکٹ اکیڈمی ہے یا نہیں، کوئی وہاں کی کرکٹ پر توجہ دیتا ہے یا نہیں اس کا پتہ نہیں۔ لیکن پھر بھی وہاں سے مسلسل نئے فاسٹ بولرز آتے رہتے ہیں۔ اب چاہے سات فٹ سے زیادہ لمبائی والے عرفان ہوں یا جنید۔"

سابق فاسٹ بولر اتل واسن

انیل کمبلے کی ریٹائرمنٹ کے بعد ہربھجن سنگھ بھی اپنے کرکٹ کیریئر کی آخری منزل پر ہیں۔ آر اشون، امت مشرا، پرگیان اوجھا اور پیوش چاولہ فی الحال سپن میں بھارت کے حال بھی ہیں اور مستقبل بھی۔ تو اشانت شرما، بھونیشور کمار، اشوک ڈنڈا، شمي احمد فاسٹ بولنگ میں۔

اب ذرا ان کے بارے میں کرکٹ ماہرین کیا رائے رکھتے ہیں۔

پاکستان کے سابق فاسٹ بولر اور ریورس سوئنگ کے ماہر سرفراز نواز نے بی بی سی سے خصوصی بات چیت میں کہا ’عام طور پر کوئی بھی ٹیم اپنے پانچ ماہرین بولرز کے ساتھ میدان میں اترتی ہے۔ لیکن بھارت چار اہم بولرز کے ساتھ کھیلتا ہے۔ پارٹ ٹائم بولر اتنے مؤثر نہیں ہیں۔ ایسے میں ہندوستانی بولرز آدھے تیتر آدھے بٹیر کی طرح ہیں۔‘

"عام طور پر کوئی بھی ٹیم اپنے پانچ ماہرین بولرز کے ساتھ میدان میں اترتی ہے۔ لیکن بھارت چار اہم بولرز کے ساتھ کھیلتا ہے۔ پارٹ ٹائم بولر اتنے مؤثر نہیں ہیں۔ ایسے میں ہندوستانی بولرز آدھے تیتر آدھے بٹیر کی طرح ہیں۔"

سرفراز نواز

سرفراز کے مطابق میچ ہمیشہ بولر جتاتے ہیں اور اگر بھارت کے بلے باز میچ جتانے والے ہوتے تو پہلے ون ڈے میں اس کے پانچ کھلاڑی 29 رن پر آؤٹ نہیں ہوتے۔

بھارت کے فاسٹ بولرز ٹیم میں آتے ہی کیوں زخمی ہو جاتے ہیں؟ یا پھر ان کی رفتار میں اچانک کمی کیوں آ جاتی ہے؟ اس کا جواب ایشانت شرما کے کوچ سننے کمار دیتے ہوئے کہتے ہیں ’آج کے فاسٹ بولرز ٹیم میں آتے ہی سٹار بن جاتے ہیں اور پریکٹس کرنا چھوڑ دیتے ہیں۔ نتیجہ میچ کھیلتے ہی تھکان اور چوٹ۔‘

بھارت کے سابق فاسٹ بولر كرسن گھاوري کہتے ہیں کہ آج کے بولرز جِم میں فٹنس کرتے ہیں جبکہ میچ فٹنس میدان میں کھیلنے سے آتی ہے۔

سپن کے حوالے بھارت کے سابق عظیم سپنر بشن سنگھ بیدی کا ہمیشہ موقف رہا ہے کہ جب تک کھلاڑی کا پسینہ میدان میں نہیں نکلے گا تب تک کچھ نہیں حاصل ہوگا۔

ایسے میں آج بھی بھارتی کرکٹ شائقین اور کرکٹ ماہرین کو اگر کپل دیو کی ياركر، سری ناتھ کی تیزی، پرساد کی سوئنگ، پرسنا کی پرواز یاد آتی ہے تو ان کی مجبوری کو آسانی سے سمجھا جا سکتا ہے۔

اسی بارے میں

متعلقہ عنوانات

BBC © 2014 بی بی سی دیگر سائٹوں پر شائع شدہ مواد کی ذمہ دار نہیں ہے

اس صفحہ کو بہتیرن طور پر دیکھنے کے لیے ایک نئے، اپ ٹو ڈیٹ براؤزر کا استعمال کیجیے جس میں سی ایس ایس یعنی سٹائل شیٹس کی سہولت موجود ہو۔ ویسے تو آپ اس صحفہ کو اپنے پرانے براؤزر میں بھی دیکھ سکتے ہیں مگر آپ گرافِکس کا پورا لطف نہیں اٹھا پائیں گے۔ اگر ممکن ہو تو، برائے مہربانی اپنے براؤزر کو اپ گریڈ کرنے یا سی ایس ایس استعمال کرنے کے بارے میں غور کریں۔