’سپر لیگ، پاکستان میں کرکٹ کی بحالی کی امید‘

آخری وقت اشاعت:  جمعرات 10 جنوری 2013 ,‭ 16:31 GMT 21:31 PST

پاکستان کرکٹ بورڈ کے چیئرمین ذکا اشرف کا کہنا ہے کہ پاکستان سپر لیگ کے انعقاد کے ذریعے پاکستان میں بین الاقوامی کرکٹ کی بحالی ممکن ہو سکتی ہے۔

یہ بات پی سی بی کے چیئرمین نے انٹرنیشنل ٹی ٹونٹی کرکٹ لیگ کے لوگو کی نقاب کشائی کی تقریب کے موقع پر کہی۔ اس لیگ کو پاکستان سپر لیگ کا نام دیا گیا ہے اور یہ اس سال چھبیس مارچ سے شروع ہو گی۔

لاہور کے ایک مقامی ہوٹل میں جمعرات کو ہونے والی اس تقریب میں آئی سی سی کے سابق چیف ایگزیکٹو ہارون لوگارٹ بھی موجود تھے۔ انہیں اس سپر لیگ کے انعقاد کے لیے معاون کا کردار سونپا گیا ہے۔

ذکا اشرف نے کہا کہ پاکستان سپر لیگ ٹی ٹونٹی ٹورنامنٹ کے لیے پاکستان کے بڑے تاجروں کے علاوہ یو ایس اے اور یو اے ای میں مقیم پاکستانیوں نے بھی دلچسپی کا اظہار کیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ اس لیگ کے باقاعدہ اعلان سے پہلے پاکستان کی ٹیم کے دونوں کپتانوں اور دیگر کرکٹ ماہرین سے مشاورت کی۔

بھارتی ٹیم کے دورہ پاکستان کی بابت پوچھے گئے ایک سوال پر پاکستان کرکٹ بورڈ کے چیئرمین نے کہا کہ بھارت نے پاکستان آنے سے انکار نہیں کیا۔ بھارتی کرکٹ بورڈ کے صدر سری نواسن نے انہیں یقین دہانی کروا رکھی ہے کہ جیسے ہی پاکستان میں سکیورٹی کے حالات بہتر ہوں گے وہ اپنی ٹیم پاکستان بھیجیں گے۔

ذکاء اشرف نے کہا کہ بنگلہ دیش نے بھی دورے سے مکمل انکار نہیں کیا۔

انہوں نے کہا کہ اگر بنگلہ دیشی کرکٹ بورڈ اپنی ٹیم بھیجنے میں مثبت پیش رفت کرے گا تو اچھی بات ہے بصورت دیگر بنگلہ دیشی پریمیئر لیگ میں شرکت کے لیے بھی پاکستانی کھلاڑیوں کی دیگر مصروفیات کو بھی مد نظر رکھا جا سکتا ہے۔

معروف بینکار سلمان سرور بٹ کو پاکستان سپر لیگ کا مینجنگ ڈائریکٹر بنایا گیا ہے۔ سلمان سرور بٹ کا کہنا تھا کہ آغاز میں پی ایس ایل میں پانچ ٹیمیں ہوں گی اور آئندہ برسوں میں یہ تعداد آٹھ تک ہو سکتی ہے۔

ہر ٹیم میں چھ بین الاقوامی جبکہ دس مقامی کھلاڑی کھیل سکیں گے۔ مقامی کھلاریوں میں دو ابھرتے ہوئے نوجوان کھلاڑی ہونا ضروری ہے۔

یہ ٹورنامنٹ ڈبل لیگ کی بنیاد پر ہو گا اور مجموعی طور پر تیئس میچز ہوں گے۔ یہ تمام میچز ایک ہی مقام پر ہوں گے۔

سلمان بٹ کے بقول پی ایس ایل کا مجموعی مالیاتی حجم سو ملین امریکی ڈالرز تک کا ہو سکتا ہے۔ ٹیموں کی فرنچائز کی فروخت فروری کے وسط تک مکمل کر لی جائے گی۔

پاکستان کرکٹ بورڈ کے اس لیگ کے لیے معاون ہارون لوگارٹ نے کہا کہ تمام دنیا جانتی ہے کہ پاکستان میں کرکٹ کے لیے کتنی محبت اور اہلیت موجود ہے۔ انہوں نے کہا کہ جنوبی افریقہ اور آسٹریلیا سمیت کئی ممالک کے کھلاڑیوں نے اس لیگ میں کھیلنے کے لیے آمادگی کا اظہار کیا ہے۔

بار بار یہ دریافت کرنے پر کہ اس وقت کےدنیا کے نامور کھلاڑیوں میں سے کسی نے اس لیگ میں کھیلنے پر آمادگی ظاہر کی ہے ؟ اس کا ہارون لوگارٹ کوئی جواب نہ دے سکے۔

اسی بارے میں

متعلقہ عنوانات

BBC © 2014 بی بی سی دیگر سائٹوں پر شائع شدہ مواد کی ذمہ دار نہیں ہے

اس صفحہ کو بہتیرن طور پر دیکھنے کے لیے ایک نئے، اپ ٹو ڈیٹ براؤزر کا استعمال کیجیے جس میں سی ایس ایس یعنی سٹائل شیٹس کی سہولت موجود ہو۔ ویسے تو آپ اس صحفہ کو اپنے پرانے براؤزر میں بھی دیکھ سکتے ہیں مگر آپ گرافِکس کا پورا لطف نہیں اٹھا پائیں گے۔ اگر ممکن ہو تو، برائے مہربانی اپنے براؤزر کو اپ گریڈ کرنے یا سی ایس ایس استعمال کرنے کے بارے میں غور کریں۔