’پاکستانیوں کی شمولیت پر اتفاقِ رائے ضروری‘

آخری وقت اشاعت:  جمعـء 11 جنوری 2013 ,‭ 08:38 GMT 13:38 PST

جب دونوں ممالک جلدی جلدی کھیلیں گے تو تناؤ ختم ہو جائے گا: راجیو شکلا

انڈین پریمیئر لیگ کے چیئرمین راجیو شکلا کا کہنا ہے کہ وہ آئی پی ایل میں پاکستانیوں کی شمولیت کے خلاف نہیں لیکن اس معاملے پر اتفاقِ رائے کے بغیر فیصلہ نہیں کیا جا سکتا۔

بی بی سی ہندی سے خصوصی بات چیت کے دوران راجیو شکلا نے کہا، ’آئی پی ایل میں ہم پاکستان کے کوچ لیتے ہیں، پاکستان کے امپائر لیتے ہیں اور ہر جگہ پاکستان کے كمنٹریٹر لیتے ہیں۔ تو اس سے ثابت ہوتا ہے کہ ہم آئی پی ایل میں پاکستان کی شمولیت کے خلاف بالکل نہیں ہیں۔‘

تاہم آئی پی ایل میں پاکستانی کھلاڑیوں کے کھیلنے کے سوال پر راجیو شکلا نے واضح طور پر کچھ نہیں کہا۔ انہوں نے کہا، ’جہاں تک پاکستان کے کھلاڑیوں کی بات ہے تو اس کا فیصلہ ہم سب سے بات چیت کیے بغیر نہیں کر سکتے۔ اس کے لیے حکومت اور فرنچائزز سے بات کرنی پڑے گی۔‘

راجیو شکلا نے کہا کہ حکومت نے پاکستان کی سیریز کی منظوری میں کوئی دیر نہیں کی۔

وہ کہتے ہیں، ’حال ہی میں ختم ہوئے پاکستانی ٹیم کے اس دورے کے حوالے سے بھی حکومت کی طرف سے کوئی پابندی نہیں تھی۔. مجھے یاد ہے کہ جب اس دورے کے بارے میں میں نے اس وقت کے وزیر داخلہ پی چدمبرم سے خود بات چیت کی تو انہیں اس دورے کو منظوری دینے میں تیس سیکنڈ بھی نہیں لگے تھے۔‘

"ہم ایک دوسرے کی زمین پر ہی کھیلیں گے۔ آپ نيوٹرل وینيو کی تجویز نہ رکھیں۔ آپ اپنی سکیورٹی کا مسئلہ جلد سے جلد سلجھائیں، تاکہ دنیا کی ٹیموں کا دورہ وہاں شروع ہو، باقی کرکٹ بورڈ کو اس بات پر مطمئن کرنا ہے کہ کھلاڑیوں پر دہشت گرد یا کسی بھی دوسری طرح کا حملہ نہیں ہوگا۔ ایک بار پاکستان سکیورٹی کے ٹھوس انتظامات کرے، اس کی ضمانت دے، تو باقی ملک وہاں کا دورہ کر سکتے ہیں۔"

راجیو شکلا

بھارت پاکستان میچ کے دوران کشیدگی کی بات پر راجیو شکلا کا کہنا تھا کہ ’جب دونوں ملک جلدی جلدی کھیلیں گے، روز جيتیں گے اور روز ہاریں گے تو یہ جو وقار کا مسئلہ بن جاتا ہے یہ ختم ہو جائے گا۔ اس کے لیے مسلسل سیریز کا ہونا ضروری ہے۔‘

بھارتی ٹیم کے پاکستان کا دورہ کرنے کے سوال پر راجیو نے کہا کہ ہماری پالیسی ہے کہ ہم تھرڈ وینيو پر میچ نہیں کھیلتے۔ ’ہم ایک دوسرے کی زمین پر ہی کھیلیں گے۔ آپ نيوٹرل وینيو کی تجویز نہ رکھیں۔ آپ اپنی سکیورٹی کا مسئلہ جلد سے جلد سلجھائیں، تاکہ دنیا کی ٹیموں کا دورہ وہاں شروع ہو، باقی کرکٹ بورڈ کو اس بات پر مطمئن کرنا ہے کہ کھلاڑیوں پر دہشت گرد یا کسی بھی دوسری طرح کا حملہ نہیں ہوگا۔ ایک بار پاکستان سکیورٹی کے ٹھوس انتظامات کرے، اس کی ضمانت دے، تو باقی ملک وہاں کا دورہ کر سکتے ہیں۔‘

راجیو کہتے ہیں کہ ’ہم بھی چاہتے تھے کہ پاکستان سے سیریز ہو تاکہ کسی کو یہ محسوس نہ ہو کہ پاکستان کو لوگوں نے بالکل چھوڑ دیا ہے۔‘

انہوں نے کہا کہ وہ چاہتے ہیں کہ یہ رشتے آگے بھی چلیں۔’اس لیے ہم نے اس سے پہلے جنوبی افریقہ میں کھیلی گئی چیمپيئنز لیگ میں بھی پاکستان کی سيالكوٹ کی ٹیم کو کھلایا جو دونوں ممالک کے کرکٹ تعلقات بہتر بنانے کی شروعات تھی۔‘

اسی بارے میں

متعلقہ عنوانات

BBC © 2014 بی بی سی دیگر سائٹوں پر شائع شدہ مواد کی ذمہ دار نہیں ہے

اس صفحہ کو بہتیرن طور پر دیکھنے کے لیے ایک نئے، اپ ٹو ڈیٹ براؤزر کا استعمال کیجیے جس میں سی ایس ایس یعنی سٹائل شیٹس کی سہولت موجود ہو۔ ویسے تو آپ اس صحفہ کو اپنے پرانے براؤزر میں بھی دیکھ سکتے ہیں مگر آپ گرافِکس کا پورا لطف نہیں اٹھا پائیں گے۔ اگر ممکن ہو تو، برائے مہربانی اپنے براؤزر کو اپ گریڈ کرنے یا سی ایس ایس استعمال کرنے کے بارے میں غور کریں۔