پاکستان کرکٹ کے لیے محفوظ ہے: مصباح

آخری وقت اشاعت:  پير 21 جنوری 2013 ,‭ 16:09 GMT 21:09 PST

پاکستان کرکٹ ٹیم کے کپتان مصباح الحق نے کہا ہے کہ ان کی ٹیم جنوبی افریقہ کے خلاف تین ٹیسٹ میچوں پر مشتمل سیریز کھیلنے کے لیے تیار ہے۔

اڑتیس سالہ مصباح کے مطابق پاکستانی ٹیم کا شمار کرکٹ کی دنیا کی بڑی ٹیموں میں ہوتا ہے اس لیے آئی سی سی کو پاکستان میں کرکٹ کی بحالی کے لیے سنجیدگی سے سوچنا ہو گا۔

خبر رساں ایجنسی اے ایف پی کے مطابق مصباح الحق نے جوہانسبرگ میں ایک پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان میں حال ہی میں منعقد ہونے والے ٹی ٹوئنٹی ٹورنامنٹ کے دوران شائقین کی بڑی تعداد نے سٹیڈیمز کا رخ کیا اور اس موقع پر سکیورٹی کا مناسب انتظام کیا گیا تھا۔

انہوں نے کہا کہ پاکستان میں سکیورٹی کی صورتِ حال پہلے کی نسبت بہتر ہوئی ہے اس لیے بین الاقوامی ٹیموں کو کرکٹ کھیلنے پاکستان کا دورہ کرنا چاہیے۔

ان کا کہنا تھا کہ پاکستان میں بین الاقوامی ٹیموں کے نہ آنے کی وجہ سے پاکستانی کرکٹ ٹیم کو ہوم سیریز کھیلنے کے لیے متحدہ عرب امارات آنا پڑتا ہے جس کی وجہ سے ٹیم کی کاررکردگی متاثر ہو رہی ہے۔

انہوں نے کہا کہ دنیا کے دیگر ممالک کی طرح پاکستان بھی کرکٹ کھیلنے کے لیے محفوظ ملک ہے۔

خبر رساں ایجنسی رائٹرز کےمطابق مصباح الحق نے کہا کہ بین الاقوامی ٹیموں کی جانب سے پاکستان میں کرکٹ نہ کھیلنے کی وجہ سے پاکستان کے سٹیڈیمز ویران ہو رہے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ پاکستان میں حال ہی میں ورلڈ الیون اور آل سٹار پاکستانی ٹیموں کے درمیان گزشتہ سال اکتوبر میں منعقد کیے جانے والے ٹیسٹ میچوں نے یہ ثابت کیا کہ ان کا ملک بین الاقوامی کرکٹ کے لیے بالکل محفوظ ہے۔

واضح رہے کہ پاکستان میں سنہ دو ہزار نو میں لاہور میں سری لنکن ٹیم پر حملے کے بعد سے بین الاقوامی کرکٹ میچ منعقد نہیں ہوئے اور پاکستان اپنی ہوم سیریز نیوٹرل میدانوں میں کھیلتا رہا ہے۔

اسی بارے میں

متعلقہ عنوانات

BBC © 2014 بی بی سی دیگر سائٹوں پر شائع شدہ مواد کی ذمہ دار نہیں ہے

اس صفحہ کو بہتیرن طور پر دیکھنے کے لیے ایک نئے، اپ ٹو ڈیٹ براؤزر کا استعمال کیجیے جس میں سی ایس ایس یعنی سٹائل شیٹس کی سہولت موجود ہو۔ ویسے تو آپ اس صحفہ کو اپنے پرانے براؤزر میں بھی دیکھ سکتے ہیں مگر آپ گرافِکس کا پورا لطف نہیں اٹھا پائیں گے۔ اگر ممکن ہو تو، برائے مہربانی اپنے براؤزر کو اپ گریڈ کرنے یا سی ایس ایس استعمال کرنے کے بارے میں غور کریں۔