بھارتی کرکٹ ٹیم: ’مسائل کی کمی نہیں‘

آخری وقت اشاعت:  منگل 22 جنوری 2013 ,‭ 14:39 GMT 19:39 PST
دھونی اور فلیچر

کہا جارہا ہے کہ مہندر سنگھ دھونی بھی واپس فارم میں آگئے ہیں

حال ہی میں انگلینڈ کے خلاف دو میچوں میں فتح حاصل کرنے کے بعد کہا جارہا ہے کہ بھارتی کرکٹ ٹیم واپس فارم میں آگئی ہے لیکن اس کے سامنے ابھی بعض مسائل ہیں۔

گزشتہ دنوں پہلے تو پاکستان کے خلاف تیسرے اور آخری ایک روزہ میچ میں کم سکور والے میچ میں فتح اور اس کے بعد انگلینڈ کے خلاف پہلا میچ نو رن سے ہارنے کے بعد مسلسل دو میچيز بے حد آسانی سے اپنے نام کرنے کے ساتھ ہی بھارتی کرکٹ ٹیم کے ستارے بھی جیسے بدل گئے ہیں۔

کہا جا رہا ہے کہ بھارتی ٹیم کے کپتان مہندر سنگھ دھونی کی ’مڈاس ٹچ‘ بھی واپس لوٹ آیا ہے لیکن اس کے باجود بعض ایسے مسائل اور سوال ہیں جو ٹیم کا پیچھا نہیں چھوڑ رہے ہیں۔

سب سے بڑا سوال تو بھارتی ٹیم کی اوپنرز ہیں جو گزشتہ ایک سال سے مسلسل لڑکھڑا رہے ہیں۔گزشتہ اکیس ون ڈے میچز میں سے صرف تین میچوں میں بھارتی اوپنرز بہتر کارکردگی کا مظاہرہ کرسکے ہیں۔

اس دوران بھارت نے گوتم گمبھیر، وریندر سہواگ، سچن تندولکر اور اجانکی رہانے کو اوپنرز کے طور پر آزمایا۔

اس دوران سچن تندولکر ایک روزہ کرکٹ کو الوداع کہ چکے ہیں تو سلیکٹرز وریندر سہواگ کو باہر کا راستہ دکھا چکے ہیں۔

اب اس مسئلے کے حل کے بارے میں بھارتی ٹیم کے سابق کھلاڑی مہندر امرناتھ کا کہنا ہے کہ نئے کھلاڑیوں پر بھروسہ کرنا ہی ہوگا۔

مہندر سنگھ دھونی

دھونی پر دباؤ تھا کہ وہ خود بھی بہتر کارکردگی کا مظاہرہ نہیں کررہے ہیں

’ہوسکتا ہے کہ اس کوشش میں کچھ میچز میں شکست ہہو لیکن مستقبل کی ٹیم بنانے کے لیے اتنا خطرہ تو اٹھانا ہی ہوگا۔‘

بھارتی ٹیم کے سابق وکٹ کیپر اور بیٹسمین نئین مونگیا کا کہنا ہے کہ رہانے کی تکنیکی کمزوری انگلینڈ کے گیند بازوں کے سامنے ابھركر سامنے آئی اور اس کے علاوہ گمبھیر بھی تیس چالیس رن بنا کر آؤٹ ہو رہے ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ اب جبکہ سہواگ بھی ٹیم سے باہر ہے تو انہیں اپنی ذمہ داری کو سمجھنا ہوگا اور لمبی اننگز کھیلنی ہوں گی۔

اس کے علاوہ رویندر جدیجہ، ورات کوہلی، ایشانت شرما بھی لگاتار اچھی کارکردگی کا مظاہرہ نہیں کر پا رہے ہیں۔

اس بارے میں سابق سپنر منندر سنگھ کہتے ہیں ’سیلیکٹرز کو مبارکباد دینی چاہیے کہ انہوں نے ان پر اعتماد کیا۔ اب یہ لوگ اچھی کارکردگی کا مظاہرہ کررہے ہیں لیکن اب آگے ذمہ داری کوچ ڈنکن فلیچر کی ہے۔‘

ان کا کہنا ہے کہ اب دیکھیے اشانت شرما نے تین میچوں میں اچھی بولنگ کی لیکن بعد کے دو میچز میں پرفارمنس نہ دکھا سکے اور رویندر جدیجہ ایک دو میچوں میں اچھا کھیلنے کے بعد اچانک فارم کھو بیٹھتے ہیں۔

گوتم گمبھیر اور اجانکی رہانے کی فارم کے بارے میں منندر سنگھ کا کہنا ہے ’اب بات ایک بار پھر کوچ پر آ جاتی ہے جو تکنیکی طور پر بہت اچھے مانے جاتے ہیں۔ لیکن یہاں پر بھی کوچ کیا کر رہے ہیں۔ دیکھیے ان دونوں بیٹسمین کا فٹ ورك بالکل نہیں ہے۔‘

وہیں نئے فاسٹ بولر بھونیشور کمار اور شمی احمد کے بارے میں منندر سنگھ کا کہنا ہے کہ ابھی ان کے بارے میں کچھ بھی کہنا جلد بازی ہوگی۔

پاکستان کے خلاف پہلے میچ میں انہوں نے بہت اچھی بولنگ کی لیکن اس کے بعد دباؤ میں لڑکھڑا گئے لیکن ان میں صلاحیت ہے۔

منندر سنگھ کا کہنا ہے کہ بھونیشور کا استعمال دھونی کو سوچ سمجھ کر کرنا ہوگا کیونکہ ابھی ان کے پاس اتنی رفتار نہیں ہے کہ وہ آخری اوورز میں بیٹسمین کو پریشان کر سکتے ہیں۔

اب دیکھنا ہے کہ بھارتی کرکٹ ٹیم ان سوالوں کے گھیرے سے کب تک نکلتی ہے اور جیت کی یہ راہ کتنی لمبی ثابت ہوتی ہے۔

اسی بارے میں

متعلقہ عنوانات

BBC © 2014 بی بی سی دیگر سائٹوں پر شائع شدہ مواد کی ذمہ دار نہیں ہے

اس صفحہ کو بہتیرن طور پر دیکھنے کے لیے ایک نئے، اپ ٹو ڈیٹ براؤزر کا استعمال کیجیے جس میں سی ایس ایس یعنی سٹائل شیٹس کی سہولت موجود ہو۔ ویسے تو آپ اس صحفہ کو اپنے پرانے براؤزر میں بھی دیکھ سکتے ہیں مگر آپ گرافِکس کا پورا لطف نہیں اٹھا پائیں گے۔ اگر ممکن ہو تو، برائے مہربانی اپنے براؤزر کو اپ گریڈ کرنے یا سی ایس ایس استعمال کرنے کے بارے میں غور کریں۔