آسکر پسٹوریئس کے تفتیشی افسر پر الزامات

آخری وقت اشاعت:  جمعرات 21 فروری 2013 ,‭ 09:02 GMT 14:02 PST
آسکر پسٹوریئس

آسکر پسٹوریئس کی وکلاء کو ان کی ضمانت کے لیے امید کی ایک کرن نظر آئی ہے

جنوبی افریقہ کی پولیس نے اس بات کی تصدیق کی ہے کہ اتھلیٹ آسکر پسٹوریئس کے کیس کی تفتیشی افسر کو اقدامِ قتل کے سات مقدمات کا سامنا ہے۔

تفتیشی افسر ہلٹن بوتھا کو آسکر پسٹوریئس کی مقدمے کی سماعت کے دوران شدید سوال و جواب کا سامنا کرنا پڑا۔ ان پر الزام ہے کہ وہ مبینہ طور پر دو برس قبل پیش آنے والے فائرنگ کے ایک معاملے میں ملوث تھے۔

آسکر پسٹوریئس اپنی گرل فرینڈ کے قتل سے انکار کرتے ہیں اور ان کا کہنا ہے کہ گولی غلطی فہمی سے چلی کیونکہ انہیں لگا تھا کہ کوئی زبردستی گھر میں گھس آیا ہے۔

جنوبی افریقہ کے شہر پریٹوریہ کی عدالت میں آسکر پسٹوریئس کی ضمانت کی اپیل کی سماعت جمعرات کی دوپہر کو دوبارہ شروع ہونی ہے۔

چھبیس سالہ پسٹوریئس کے قتل کا مکمل مقدمہ کئی مہینوں کے بعد شروع ہونے کا امکان ہے۔

ہلٹن بوتھا

ابھی تک یہ واضح نہیں ہے کہ وہ آسکر پسٹوریئس کے معاملے کی تفتیش کی قیادت جاری رکھیں گے کہ نہیں

دراثناء پولیس کے ترجمان نویل ملیلا کا کہنا ہے کہ ہلٹن بوتھا اور دو دیگر افسران کو مئی کے مہینے میں عدالت میں پیش ہونا تھا۔

مسٹر ملیلا کا کہنا ہے کہ ہلٹن بوتھا اور دیگر افراد پر پر الزام ہے کہ ایک سرکاری گاڑی پر سوار تینوں افراد نے مسافروں سے بھری ایک منی بس پر گولییاں چلائی تھیں۔

آئی وٹنس نیوز نامی خبرر ساں ایجنسی نے پولیس کے حوالے سے کہا ہے کہ ان تینوں افراد کو سنہ دوہزار گیارہ میں گرفتار کیا گیا تھا۔

مسٹر ملیلا نے خبررساں ایجنسی رائٹرز کو بتایا ہے کہ ہلٹن بوتھا پر عائد الزامات رد کرديئے گئے تھے لیکن بدھ کو ان کے خلاف یہ الزامات دوبارہ عائد کیے گئے جب انہوں نے پسٹوریئس کی مقدمے کی ضمانت کے دوران اپنا بیان بدلا۔

حالانکہ ابھی یہ واضح نہیں ہے کہ ہلٹن بوتھا پسٹوریئس کے معاملے کی تفتیش کی قیادت جاری رکھیں گے یا نہیں۔

آسکرپسٹوریئس کے وکیل کے ترجمان میدوپے سماسیکو نے خبر رساں ایجنسی اے پی کو بتایا ہے کہ انہیں ان الزامات کے بارے میں معلومات نہیں تھی لیکن وہ اب اس بات کی تفتیش کریں گے کہ ہلٹن بوتھا اس معاملے کی تفتیش کریں گے یا نہیں۔

اس سے قبل آسکر پسٹوریئس کے وکلاء نے ضمانت کی کارروائی کی سنوائی کے دوسرے دن ان کے خلاف دی جانے والی ہلٹن بوتھا کی شہادت کو چیلنج کر دیا ہے۔

پولیس کے سراغ رساں نے کہا تھا کہ ان کے ایک گواہ نے انہیں بتایا تھا کہ جس رات ریوا سٹین کیمپ کو گولی ماری گئی اس رات انہوں نے آسکر پسٹوریئس کے گھر سے جھگڑے کی آوازیں سنی تھیں۔

لیکن بعد میں افسر ہلٹن بوتھا نے کمرۂ عدالت میں سوالات کے دوران اپنا بیان بدل دیا۔

ہلٹن بوتھا نے پہلے کہا تھا کہ جس شخص نے آوازیں سنی وہ جائے وقوع سے چھ سو میٹر دور تھا لیکن جب لنچ کے وقفے کے بعد پولیس افسر واپس آئے تو انہوں نے اس فاصلے کو تین سو میٹر بتایا۔

اگر آسکر پسٹوریئس کی ضمانت کی درخواست مسترد ہو جاتی ہے تو انہیں اس سال کے آخر میں مکمل ٹرائل شروع ہونے سے پہلے کئی ماہ جیل میں گزارنے پڑیں گے۔

نامہ نگاروں کے مطابق پولیس کے سینیئر سراغ رساں کی شہادت کے متعلق پہلے تو لگتا تھا کہ استغاثہ کا کیس مضبوط ہو گا لیکن اب پسٹوریئس کے وکلاء کی ٹیم کو امید ہو چلی ہے کہ وہ ضمانت کرانے میں کامیاب ہو جائیں گے۔

بی بی سی کے نامہ نگار اینڈریو ہارڈنگ کا کہنا ہے کہ میجسٹریٹ کے سوالات سے بھی لگتا تھا کہ وہ پسٹوریئس کو ضمانت دینے کے متعلق غور کر رہے ہیں۔

آسکر پسٹوریئس کے خاندان نے ایک بیان میں کہا ہے کہ بدھ کی کارروائی سے وہ مطمئن ہیں۔

آسکر پسٹوریئس اور ریوا سٹین کیمپ

آسکر پسٹوریئس پر اپنی گرل فرینڈ ریوا سٹین کیمپ کو قتل کرنے کا الزام ہے

اس سے قبل جنوبی افریقہ کے اولمپکس اور پیرا اولمپکس کے ایتھلیٹ آسکر پسٹوریئس کی گرل فرینڈ کے قتل کے مقدمے کی سماعت کے دوران ایک گواہ نے بتایا تھا کہ جس رات ریوا سٹین کیمپ ہلاک ہوئیں، انہوں نے گولیوں کے بعد چیخنے کی آوازیں سنیں جس کے بعد مزید گولیاں چلنے کی آوازیں آئیں۔

اس مقدمے میں دلچسپی بہت زیادہ ہے اور صحافیوں اور دیکھنے والوں کی ایک بڑی تعداد نے عدالت میں داخل ہونے کی کوشش کی اور ایک صحافی تو اس عمل کے دوران بے ہوش بھی ہو گئے۔

بدھ کے دن عدالت میں مقدمے کی سماعت کے آغاز پر ایک گواہ نے بتایا کہ انہوں نے چودہ فروری کو دو بجے سے تین بجے کے درمیان ’مسلسل تیز آواز میں باتیں جو لڑائی کی طرح لگ رہی تھی سنیں‘۔

دوسری جانب سے پسٹوریئس کا دعویٰ ہے کہ وہ فائرنگ سے چند لمحے قبل تک سو رہے تھے اور دونوں کے درمیان کسی قسم کی کوئی لڑائی یا بحث نہیں ہوئی تھی۔

انہوں نے عدالت میں اپنی ضمانت کی کارروائی کے دوران کہا کہ وہ اپنی گرل فرینڈ ریوا سٹین کیمپ سے محبت کرتے تھے اور ان کا اسے مارنے کا کبھی ارادہ نہیں تھا۔

جنوبی افریقہ میں استغاثہ کے وکیل آسکر پسٹوریئس پر الزام عائد کرتے ہیں کہ انہوں نے ایک سوچے سمجھے منصوبے کے تحت اپنی گرل فرینڈ کو قتل کیا تھا۔

ان کا کہنا ہے کہ آسکر پسٹوریئس نے جان بوجھ کر اپنی گرل فرینڈ پر غسل خانے کے بند دروازے کے باہر سے گولی چلائی۔

اسی بارے میں

متعلقہ عنوانات

BBC © 2014 بی بی سی دیگر سائٹوں پر شائع شدہ مواد کی ذمہ دار نہیں ہے

اس صفحہ کو بہتیرن طور پر دیکھنے کے لیے ایک نئے، اپ ٹو ڈیٹ براؤزر کا استعمال کیجیے جس میں سی ایس ایس یعنی سٹائل شیٹس کی سہولت موجود ہو۔ ویسے تو آپ اس صحفہ کو اپنے پرانے براؤزر میں بھی دیکھ سکتے ہیں مگر آپ گرافِکس کا پورا لطف نہیں اٹھا پائیں گے۔ اگر ممکن ہو تو، برائے مہربانی اپنے براؤزر کو اپ گریڈ کرنے یا سی ایس ایس استعمال کرنے کے بارے میں غور کریں۔