سنچورین ٹیسٹ میں پاکستان کو فالو آن

آخری وقت اشاعت:  ہفتہ 23 فروری 2013 ,‭ 15:25 GMT 20:25 PST

جنوبی افریقہ کے اے بی ڈویلیئر ایک سو اکیس رنز بنا کر نمایاں بلے باز رہے

سنچورین میں جنوبی افریقہ کے خلاف ٹیسٹ میچ کے دوسرے دن کھیل کے اختتام پر پاکستان کو اننگز کی شکست سے بچنے کے لیے مزید 239 رنز درکار ہیں جبکہ اس کی نو وکٹیں باقی ہیں۔

جنوبی افریقی بولرز کی عمدہ کارکردگی کی وجہ سے اس میچ میں پاکستان کو فالو آن کا سامنا کرنا پڑا ہے۔

کلِک میچ کا تفصیلی سکور کارڈ

فالوآن کے بعد پاکستان کی دوسری اننگز کا آغاز بھی برا رہا اور صفر پر ہی اس کی پہلی وکٹ محمد حفیظ کی صورت میں گری۔

دوسرے دن کے کھیل کے اختتام پر پاکستان نے ایک وکٹ کے نقصان پر چودہ رنز بنائے تھے اور یونس خان اور اظہر علی کریز پر موجود تھے۔

کھیل کے دوسرے دن جنوبی افریقہ کی ٹیم اپنی پہلی اننگز میں چار سو نو رنز بنا کر آؤٹ ہوئی تو اس کے جواب میں پاکستان کی پوری ٹیم 156 رنز بنا سکی۔

پاکستان کی جانب سے محمد حفیظ اور عمران فرحت نے اننگز کا آغاز کیا اور ٹیم کو 46 رنز کا آغاز فراہم کیا۔ تاہم اس کے بعد کوئی بھی بلے باز جم کر نہ کھیل سکا۔

پاکستان کی اننگز میں یونس خان تینتیس اور عمران فرحت تیس رنز بنا کر نمایاں بلے باز رہے جبکہ جنوبی افریقہ کی جانب سے پہلا ٹیسٹ میچ کھیلنے والے ایبٹ نے سات وکٹیں حاصل کیں۔

اس سے قبل میچ کے دوسرے دن جنوبی افریقی اننگز کی خاص بات ابراہم ڈی ویلیئرز کی سنچری اور فیلنڈر کی نصف سنچری رہی۔ ڈی ویلیئرز نے پندرہ چوکوں کی مدد سے ایک سو اکیس رنز جبکہ فلینڈر نے چوہتر رنز بنائے۔

پاکستان کی جانب سے راحت علی نے چھ اور احسان عادل نے دو اور یونس خان نے ایک وکٹ حاصل کی۔

تین ٹیسٹ میچوں پر مشتمل سیریز میں جنوبی افریقہ کی دو صفر کی فیصلہ کن برتری حاصل ہے۔

جوہانسبرگ میں کھیلے جانے والے پہلے ٹیسٹ میچ میں جنوبی افریقہ نے پاکستان کو دو سو گیارہ رنز جبکہ کیپ ٹاؤن میں کھیلے گئے دوسرے ٹیسٹ میچ میں چار وکٹوں سے ہرایا تھا۔

اسی بارے میں

متعلقہ عنوانات

BBC © 2014 بی بی سی دیگر سائٹوں پر شائع شدہ مواد کی ذمہ دار نہیں ہے

اس صفحہ کو بہتیرن طور پر دیکھنے کے لیے ایک نئے، اپ ٹو ڈیٹ براؤزر کا استعمال کیجیے جس میں سی ایس ایس یعنی سٹائل شیٹس کی سہولت موجود ہو۔ ویسے تو آپ اس صحفہ کو اپنے پرانے براؤزر میں بھی دیکھ سکتے ہیں مگر آپ گرافِکس کا پورا لطف نہیں اٹھا پائیں گے۔ اگر ممکن ہو تو، برائے مہربانی اپنے براؤزر کو اپ گریڈ کرنے یا سی ایس ایس استعمال کرنے کے بارے میں غور کریں۔