ایشین سکواش میں پاکستان کی ’واپسی‘

آخری وقت اشاعت:  جمعـء 1 مارچ 2013 ,‭ 15:35 GMT 20:35 PST

کیا سکواش کی دنیا میں پاکستان اپنا پرانا مقام حاصل کر سکے گا؟

ایشین سکواش فیڈریشن میں آٹھ سال کے طویل عرصے کے بعد پاکستان کی دوبارہ ’انٹری‘ کئی اعتبار سے اہمیت کی حامل ہے۔

پاکستان کے ائر وائس مارشل سید رضی نواب بھارتی امیدوار سری نواسن سبرامینم کو شکست دے کر ایشین سکواش فیڈریشن کے نائب صدر منتخب ہوئے ہیں جس کے بعد اس بات کے امکانات روشن ہوگئے ہیں کہ پاکستان ایک بار پھر ایشیائی سکواش میں اہم کردار ادا کرسکے گا۔

سابق عالمی چیمپیئن قمر زمان 2001 سے 2005 تک ایشین سکواش فیڈریشن کے نائب صدر رہے تھے جس کے بعد اس پلیٹ فارم پر نمائندگی نہ ہونے کے سبب پاکستان کی آواز موثر نہیں رہی تھی اور اس تمام عرصے میں پاکستان اور دوسرے ملکوں کے درمیان فاصلے بڑھتے چلے گئے تھے۔

یہ بات سبھی جانتے ہیں کہ آئی سی سی ہو یا فیفا، آئبا ہو یا ایف آئی ایچ ، بین الاقوامی سپورٹس کی پس پردہ اپنی سیاست ہوتی ہے جو طاقت ور ممالک کے گرد گھومتی ہے۔ یہ طاقت ور ممالک بڑی مہارت سے بساط پر شہ اور مات کی بازی کھیلتے ہیں۔

"پاکستان کے ائر وائس مارشل سید رضی نواب بھارتی امیدوار سری نواسن سبرامینم کو شکست دے کر ایشین اسکواش فیڈریشن کے نائب صدر منتخب ہوئے ہیں"

بین الاقوامی کھیلوں میں بھارت اپنی مضبوط معاشی پوزیشن کے سبب حالیہ برسوں میں سپر پاور کے طور پر سامنے آیا ہے۔ آئی سی سی فیصلے کرتے وقت بی سی سی آئی کو ناراض کرنے کی متحمل نہیں ہوسکتی اسی طرح ایف آئی ایچ کے فیصلہ ساز بھی بھارتی سپانسرشپ کی چکاچوند چمک کو بخوبی سمجھتے ہیں اور اب تو فارمولا ون میں بھی بھارت کی گہری دلچسپی واضح طور پر دیکھی جاسکتی ہے۔

ورلڈ سکواش فیڈریشن کی باگ ڈور اس وقت بھارت کے نارائن راما چندرن کے ہاتھوں میں ہے جو اس سے قبل ایشین سکواش فیڈریشن کے بھی صدر رہے ۔اس تناظر میں ایشین سکواش فیڈریشن کے حالیہ الیکشن میں سری نواسن سبرامینم بہت ہی مضبوط پوزیشن میں تھے وہ ایشین سکواش فیڈریشن کے سیکریٹری بھی رہ چکے ہیں اور دوسری مدت کے لیے نائب صدر کا الیکشن لڑ رہے تھے ۔

ان کی انتخابی مہم میں راما چندرن بھی پیش پیش رہے لیکن رکن ممالک کی اکثریت نے تبدیلی کی ضرورت محسوس کرتے ہوئے پاکستان کو ووٹ دیا۔

رضی نواب

پاکستان کے ائر وائس مارشل سید رضی نواب ایشین سکواش فیڈریشن کے نائب صدر منتخب ہوئے ہیں

نومنتخب نائب صدر ائر وائس مارشل رضی نواب جو پاکستان سکواش فیڈریشن کے سینیئر نائب صدر بھی ہیں اس موقع کو ہاتھ سے جانے نہیں دینا چاہتے اور اپنی چار سالہ مدت کے دوران وہ ان فاصلوں کو ختم کرنا چاہتے ہیں جو پاکستان اور ورلڈ سکواش کے درمیان پیدا ہوچکے ہیں۔

ائر وائس مارشل رضی نواب کا کہنا ہے کہ پاکستان نہ صرف عالمی چیمپیئنز کا ملک ہے بلکہ اس نے کوچنگ اور انتظامی معاملات میں بھی ہمیشہ دوسرے ملکوں میں سکواش کی ترقی میں اہم کردار ادا کیا ہے۔

شاید ہی کوئی ایشیائی ملک ہو جہاں پاکستانی کوچز موجود نہ ہوں لیکن یہ بات بھی شدت کے ساتھ محسوس کی گئی ہے کہ پاکستان کو بین الاقوامی اسکواش میں تنہا کیا گیا ہے۔ پاکستان میں بین الاقوامی ٹورنامنٹس نہیں ہو پارہے ہیں جبکہ یورپ اور امریکہ میں ہونے والے مقابلوں میں شرکت کے خواہش مند پاکستانی کھلاڑیوں کو ویزے کے مسائل کا سامنا رہتا ہے۔

سید رضی نواب کا کہنا ہے کہ ان کی کوشش ہوگی کہ پاکستان اور دوسرے ملکوں کے درمیان اسکواش روابط مستحکم کئے جائیں اور دوطرفہ مقابلے شروع کئے جائیں۔ اسکواش میں پاکستان کا وسیع تجربہ کئی ملکوں کے کام آسکتا ہے۔

اسی بارے میں

متعلقہ عنوانات

BBC © 2014 بی بی سی دیگر سائٹوں پر شائع شدہ مواد کی ذمہ دار نہیں ہے

اس صفحہ کو بہتیرن طور پر دیکھنے کے لیے ایک نئے، اپ ٹو ڈیٹ براؤزر کا استعمال کیجیے جس میں سی ایس ایس یعنی سٹائل شیٹس کی سہولت موجود ہو۔ ویسے تو آپ اس صحفہ کو اپنے پرانے براؤزر میں بھی دیکھ سکتے ہیں مگر آپ گرافِکس کا پورا لطف نہیں اٹھا پائیں گے۔ اگر ممکن ہو تو، برائے مہربانی اپنے براؤزر کو اپ گریڈ کرنے یا سی ایس ایس استعمال کرنے کے بارے میں غور کریں۔