ڈیونیڈن: نیوزی لینڈ کی برتری 235 رنز

آخری وقت اشاعت:  جمعـء 8 مارچ 2013 ,‭ 08:29 GMT 13:29 PST

ہمیش ردرفرڈ نے بائیس چوکوں اور تین چھکوں کی مدد ایک سو ستتر رنز بنائے

ڈیونیڈن میں کھیلے جا رہے پہلے ٹیسٹ میچ کے تیسرے دن کے اختتام پر نیوزی لینڈ نے انگلینڈ کے خلاف پہلی اننگز میں سات وکٹوں کے نقصان پر 402 رنز بنا لیے۔

نیوزی لینڈ کو انگلینڈ کے خلاف 235 رنز کی برتری حاصل ہے اور پہلی اننگز میں اس کی تین وکٹیں ابھی باقی ہیں۔

کلِک میچ کا تفصلی سکور کارڈ

دوسرے دن کھیل کے اختتام پر برینڈن مکلم 44 اور بروس مارٹن 17 رنز کے ساتھ پر کریز پر موجود تھے۔

نیوزی لینڈ کی اننگز کی خاص بات اپنا پہلا ٹیسٹ کھیلنے والے ہمیش ردرفرڈ کی شاندار بیٹنگ تھی، انہوں نے 22 چوکوں اور تین چھکوں کی مدد 171 رنز بنائے۔ پیٹر فلٹن نے آٹھ چوکوں کی مدد سے 55 رنز سکور کیے۔

انگلینڈ کی جانب سے جیمز اینڈرسن نے چار، سٹورٹ براڈ نے دو اور مونٹی پنیسر نے ایک کھلاڑی کو آؤٹ کیا۔

اس سے قبل انگلینڈ کی ٹیم اپنی پہلی اننگز میں صرف 167 رنز بنا کر آؤٹ ہوگئی تھی۔

بارش کی وجہ سے پہلے دن کے کھیل کی منسوخی کے بعد جمعرات کو دوسرے دن جب میچ شروع ہوا تو پہلی اننگز میں انگلینڈ کا آغاز اچھا نہ تھا۔

اٹھارہ کے مجموعی سکور پر انگلینڈ کی تین وکٹیں گر گئی تھیں اور بعد میں بھی جوناتھن ٹراٹ اور ایئن بیل کے درمیان 44 رنز کی شراکت کے علاوہ کوئی قابلِ ذکر شراکت قائم نہ ہو سکی۔

انگلش بلے بازوں میں جوناتھن ٹراٹ کے علاوہ کوئی بھی بلے باز وکٹ پر زیادہ دیر نہیں ٹھہر سکا۔ انہوں نے 165 گیندوں پر پینتالیس رنز کی اننگز کھیلی۔

انگلینڈ کا 167 رنز کا مجموعہ نیوزی لینڈ کے خلاف ٹیسٹ کرکٹ میں پہلی اننگز میں اس کا سب سے کم سکور ہے۔

نیوزی لینڈ کی جانب سے اپنا پہلا ٹیسٹ کھیلنے والے بائیں ہاتھ کے سپنر بروس مارٹن 43 رنز کے عوض چار وکٹوں کے ساتھ نمایاں رہے جبکہ ویگنر نے بھی چار انگلش بلے بازوں کو آؤٹ کیا۔

اسی بارے میں

متعلقہ عنوانات

BBC © 2014 بی بی سی دیگر سائٹوں پر شائع شدہ مواد کی ذمہ دار نہیں ہے

اس صفحہ کو بہتیرن طور پر دیکھنے کے لیے ایک نئے، اپ ٹو ڈیٹ براؤزر کا استعمال کیجیے جس میں سی ایس ایس یعنی سٹائل شیٹس کی سہولت موجود ہو۔ ویسے تو آپ اس صحفہ کو اپنے پرانے براؤزر میں بھی دیکھ سکتے ہیں مگر آپ گرافِکس کا پورا لطف نہیں اٹھا پائیں گے۔ اگر ممکن ہو تو، برائے مہربانی اپنے براؤزر کو اپ گریڈ کرنے یا سی ایس ایس استعمال کرنے کے بارے میں غور کریں۔