کرکٹ کا ’دبنگ‘

آخری وقت اشاعت:  جمعـء 8 مارچ 2013 ,‭ 11:31 GMT 16:31 PST

حسیب احسن (درمیان میں) کی دبنگ شخصیت ہر کسی کو اپنی جانب متوجہ کرلیتی تھی

سابق ٹیسٹ کرکٹر حسیب احسن کے انتقال سے پاکستانی کرکٹ کا ایک ایسا باب ختم ہوگیا جو انہوں نے اپنی صاف گوئی اصول پسندی اور جرات مندی سے رقم کیا تھا۔

حسیب احسن جیسے افراد کرکٹ کے لیے ہی پیدا ہوئے تھے۔ انہوں نے شادی نہیں کی شاید اس لیے کہ وہ ساری زندگی کے لئے کرکٹ کو اپنا چکے تھے۔

وہ کرکٹ کو جتنی گہرائی سے سمجھتے تھے اس اعتبار سے انہوں نے بہت کم بین الاقوامی کرکٹ کھیلی البتہ ان کا وسیع تجربہ انتظامی معاملات میں پاکستانی کرکٹ کے بہت کام آیا۔

آف سپنر کی حیثیت سے حسیب احسن کے صرف بارہ ٹیسٹ میچز کھیلنے کی بڑی وجہ بہت سے مبصرین ان کے بولنگ ایکشن کو قرار دیتے ہیں لیکن ایک اہم وجہ پسند ناپسند بھی رہی۔

1962 کا دورۂ انگلینڈ پاکستانی کرکٹ کی تاریخ میں نتائج اور ٹیم کے مورال کے اعتبار سے بدترین دورہ تھا۔

اس کی وجہ یہ تھی کہ امتیاز احمد، فضل محمود، سعید احمد اور حنیف محمد جیسے سینیئر کھلاڑیوں کے ہوتے ہوئے ایک فوجی جرنیل کے انتہائی جونیئر کرکٹر بیٹے جاوید برکی کو ٹیم کی کمان سونپ دی گئی تھی۔

حسیب احسن بھی اس دورے میں پاکستانی ٹیم کا حصہ تھے لیکن کہا جاتا ہے کہ جاوید برکی نے اپنے فیورٹ جاوید اختر کو کھلانے کے لیے ٹیسٹ سیریز سے قبل انگریز امپائر کو ایک کاؤنٹی میچ میں حسیب احسن کے بولنگ ایکشن پر اعتراض کرنے کا کہہ دیا جس کے بعد حسیب احسن پھر کبھی بھی ٹیسٹ نہ کھیل سکے اور جاوید اختر ایک ٹیسٹ میچ کھیلنے میں کامیاب ہوگئے۔

حسیب احسن کی دبنگ شخصیت ہر کسی کو اپنی جانب متوجہ کر لیتی تھی۔ وہ اصول پسند تھے اور مصلحت پسندی کے قائل نہیں تھے۔اگرچہ وہ ان چند لوگوں میں سے ایک تھے جن پر ایئرمارشل نورخان مکمل اعتماد کرتے تھے لیکن ایک وقت ایسا بھی آیا جب انہوں نے اصولوں پر ایئرمارشل نورخان سے سمجھوتہ کرنے سے انکار کردیا۔

1983 کے دورۂ آسٹریلیا کے لیے جب ان فٹ عمران خان کو کپتان مقرر کیا گیا تو انہوں نے چیف سلیکٹر کی حیثیت سے اس فیصلے کو ماننے سے انکار کردیا اور اپنے عہدے سے استعفٰی دے دیا۔

بولنگ ایکشن

حسیب احسن بھی اس دورے میں پاکستانی ٹیم کا حصہ تھے لیکن کہا جاتا ہے کہ جاوید برکی نے اپنے فیورٹ جاوید اختر کو کھلانے کے لیے ٹیسٹ سیریز سے قبل انگریز امپائر کو ایک کاؤنٹی میچ میں حسیب احسن کے بولنگ ایکشن پر اعتراض کرنے کا کہہ دیا جس کے بعد حسیب احسن پھر کبھی بھی ٹیسٹ نہ کھیل سکے اور جاوید اختر ایک ٹیسٹ میچ کھیلنے میں کامیاب ہوگئے

حسیب احسن نے ایئر مارشل نورخان جیسی قد آور شخصیت کے سامنے برملا یہ موقف اختیار کیا کہ وہ ایک ان فٹ کرکٹر کو ٹیم کا کپتان بنتا نہیں دیکھ سکتے البتہ ٹیم کے سترہویں کھلاڑی کی حیثیت سے عمران کو آسٹریلیا بھیج سکتے ہیں۔

حسیب احسن نے چیف سلیکٹر کی حیثیت سے نوجوان کرکٹرز کی ہر ممکن حوصلہ افزائی کی اور انہیں صحیح وقت پر پاکستانی ٹیم میں لانے کی جرات دکھائی۔

ان کے دور میں کئی نوجوان کھلاڑی ٹیم میں شامل ہوئے اور اس کی سب سے بڑی مثال وسیم اکرم ہیں جنہیں حسیب احسن نے اس وقت ٹیم میں پہلی بار شامل کیا جب کسی کو بھی ان کے ٹیلنٹ کے بارے میں معلوم نہ تھا اور اس سلیکشن پر اکثریت تذبذب کا شکار تھی لیکن حسیب احسن نے متعرضین کو بھی وسیم ا کرم کے ٹیلنٹ پر قائل کرلیا۔

حسیب احسن پاکستانی کرکٹ ٹیم کے مینیجر بھی رہے۔1987 میں انگلینڈ کے دورے میں ان کی ذات سے سکینڈل بھی برطانوی میڈیا نے اچھالا لیکن اس دورے میں انہوں نے انگلش پریس کے دباؤ کا بڑی ہمت سے مقابلہ کیا اور اپنے کرکٹرز کو اس سے دور رکھا یہی وجہ ہے کہ عمران خان کی قیادت میں پاکستانی ٹیم نے پہلی بار انگلینڈ کی سرزمین پر ٹیسٹ سیریز جیتی۔

حسیب احسن کی انتظامی صلاحیتوں کی ایک مثال 1987 کا عالمی کپ ہے جس کی آرگنائزنگ کمیٹی کے وہ سربراہ تھے ۔ وہ کراچی میں آئرلینڈ کے اعزازی قونصل جنرل بھی رہے۔

متعلقہ عنوانات

BBC © 2014 بی بی سی دیگر سائٹوں پر شائع شدہ مواد کی ذمہ دار نہیں ہے

اس صفحہ کو بہتیرن طور پر دیکھنے کے لیے ایک نئے، اپ ٹو ڈیٹ براؤزر کا استعمال کیجیے جس میں سی ایس ایس یعنی سٹائل شیٹس کی سہولت موجود ہو۔ ویسے تو آپ اس صحفہ کو اپنے پرانے براؤزر میں بھی دیکھ سکتے ہیں مگر آپ گرافِکس کا پورا لطف نہیں اٹھا پائیں گے۔ اگر ممکن ہو تو، برائے مہربانی اپنے براؤزر کو اپ گریڈ کرنے یا سی ایس ایس استعمال کرنے کے بارے میں غور کریں۔