’قبائلی علاقے سے ٹورنٹو تک کا سفر آسان نہ تھا‘

آخری وقت اشاعت:  منگل 19 مارچ 2013 ,‭ 12:46 GMT 17:46 PST

ماریہ میں بہترین کھلاڑی بننے کی پوری صلاحیت ہے: جوناتھن پاور

بائیس سالہ ماریہ طورپكے پاکستان میں سكواش کی بہترین خواتین کھلاڑیوں میں سرفہرست ہیں۔

اس وقت وہ کینیڈا کے شہر ٹورنٹو میں سكواش کے سابق عالمی چمپیئن جوناتھن پاور کی اکیڈمی میں تربیت لے رہی ہیں اور پاور کا کہنا ہے کہ ماریہ میں عالمی چیمپیئن بننے کی پوری صلاحیت ہے اور جلد ہی وہ یہ مقام حاصل کر سکتی ہیں۔

لیکن پاکستان کے قبائلی علاقے سے ٹورنٹو تک کا یہ سفر ماریہ کے لیے آسان نہیں رہا ہے۔

لڑکیوں کا کھیلنا تو دور ان کے علاقے میں گھر کے کسی مرد کے بغیر لڑکیوں کا باہر نکلنا بھی برا سمجھا جاتا ہے لیکن ماریہ بچپن سے ہی اپنے بھائیوں کی طرح باہر گھومنا اور کھیلنا چاہتی تھیں۔

ایک دن جب ان کے والدین گھر پر نہیں تھے تو ماریہ نے اپنے بال کاٹ لیے اور بھائی کے کپڑے پہن کر اپنے زنانہ کپڑوں کو آگ لگا دی۔ اس وقت ان کی عمر محض چار سال تھی۔

گھر واپسی پر یہ حالت دیکھ کر ان کے والد ہنسنے لگے اور اس دن ماریہ کو ایک نیا نام ملا، چنگیز خان۔

پھر تو کسی نہ کسی لڑکے سے لڑ کر آنا ماریہ کا روز کا کام ہو گیا۔ وہ گھر جاتیں تو ان کے ہاتھ پاؤں چھلے ہوئے ہوتے اور آنکھ اور چہرے پر چوٹیں لگی ہوتیں۔

ماریہ کے والد شمس القیوم کا خاندان قبائلی علاقے سے پشاور میں منتقل ہوگیا لیکن ماریہ کے رویے میں کوئی تبدیلی نہیں آئی۔

ایسے میں جب ماریہ نے سكواش کے کھیل میں دلچسپی ظاہر کی تو شمس انہیں ایک ایسی سكواش اکیڈمی لے گئے جس کا انتظام پاکستانی فضائیہ کرتی تھی۔

"اسلام اور دیگر کوئی بھی مذہب مرد اور عورت میں کوئی فرق نہیں کرتا۔ میں نے کبھی اپنے بیٹوں اور بیٹیوں میں کوئی فرق نہیں کیا۔ میں چاہتا ہوں کہ ہر قبائلی لڑکی کو یہ موقع ملے۔۔۔مجھے اپنی بیٹی پر بہت فخر ہے۔ پاکستان اور تمام مسلم دنیا کو اس پر فخر ہونا چاہیے۔"

شمس القیوم، ماریہ کے والد

یہاں بھی شمس نے ماریہ کو اپنے بیٹے کے طور پر ہی متعارف کروایا لیکن جب ان کی پیدائش کا سرٹیفکیٹ طلب کیا گیا تو مجبوراً شمس القیوم کو حقیقت بتانی پڑی۔

اکیڈمی کے ڈائریکٹر یہ جان کر بہت خوش ہوئے۔ پہلی بار لڑکی کے طور پر متعارف کروائے جانے سے ماریہ کو کوئی فرق نہیں پڑا: ’اپنے دماغ سے میں ہمیشہ چنگیز خان ہی رہی۔ مجھے لگتا تھا کہ جب میں لڑتی ہوں تو لوگ میری بات سنتے ہیں۔‘

سكواش اکیڈمی میں پہلے مہینے تو لوگوں کو پتہ ہی نہیں چلا کہ وہ ایک لڑکی ہیں لیکن اس کے بعد لڑکوں خاص طور پر ان کا جنہیں ماریہ نے ہرایا تھا، رویہ بدل گیا۔

وہ قابل اعتراض زبان اور اشاروں سے ماریہ کو پریشان کرنے لگے۔ ماریہ کہتی ہیں ’اور اس وقت مجھے پتہ چلا کہ میں ایک لڑکی ہوں۔‘

اس کے بعد انہوں نے اپنے بھائی کو سكواش کی تربیت دینا شروع کی۔ وہ تربیت میں ان کا ساتھی تھا جو اس مسئلے سے نمٹنے کے لیے ان کا سہارا بن گیا۔

2004 تک ماریہ پاکستان کی ٹاپ رینکنگ کھلاڑی بن چکی تھیں۔ 2007 میں مصر میں ہونے والے ٹورنامنٹ میں ماریہ نے اچھی کارکردگی دکھائی اور کئی بہتر درجہ بندی والے کھلاڑیوں کو شکست دی۔

لیکن یہ بڑھتی ہوئی شہرت ایک تیز تلوار تھی اور ماریہ کے والد کو دھمکیاں ملنے لگیں۔

شمس القیوم کہتے ہیں،’میری کار کے شیشے پر ایک خط چپکا ہوا ملا جس میں کہا گیا تھا کہ میں اپنی بیٹی کو سكواش کھیلنے سے روكوں کیونکہ یہ غیر اسلامی ہے۔ مجھے سنگین نتائج بھگتنے کی دھمکی دی گئی۔‘

اب ماریہ گھر پر رہ کر ہی مشق کرنے لگیں۔ پاکستان کی سكواش فیڈریشن نے یہ معاملہ پارلیمنٹ کے سامنے اٹھایا اور ماریہ کو حکومت نے سکیورٹی فراہم کی۔

"اپنے دماغ میں میں ہمیشہ چنگیز خان ہی رہی۔ مجھے لگتا تھا کہ جب میں لڑتی ہوں تو لوگ میری بات سنتے ہیں۔"

ماریہ طورپکے

اس سب کے باوجود بھی ماریہ کا ڈر ختم نہ ہوا۔ ’مجھے اپنے لیے ڈر نہیں لگتا تھا۔ میں ایک سپاہی رہی ہوں اور سپاہی کی طرح ہی مروں گی۔ لیکن مجھے دوسروں کے لیے ڈر لگتا تھا‘۔

کھیل کے لیے بیٹی کی لگن دیکھ کر شمس القیوم نے کہا ’اگر تم سكواش کھیلنا چاہتی ہو تو ملک چھوڑ دو، یہی ایک راستہ ہے۔‘

اس کے بعد تقریباً ساڑھے تین سال تک ماریہ نے کسی مغربی ملک میں تربیت حاصل کرنے کی خواہش کے تحت ہزاروں ای میلز کیں۔ انہوں نے تمام سكواش اکیڈمیوں، کالجوں، یونیورسٹیوں، کلبوں، سکولوں سمیت ہر اس جگہ ای میل بھیجي، جہاں سكواش کورٹ تھا۔

ان میں سے ایک ای میل سكواش کے سابق عالمی چیمپیئن جوناتھن پاور تک بھی پہنچی۔

جوناتھن کہتے ہیں کہ ماریہ نے لکھا تھا کہ وہ کن مشکلات کا سامنا کرتے ہوئے کھیل رہی ہے اور یہ کہ وہ دنیا کی سب سے اچھی کھلاڑی بننا چاہتی ہے۔

جوناتھن کے مطابق خود وہ جہانگیر خان جیسے پاکستانی کھلاڑیوں سے بہت متاثر تھے لیکن انہیں یقین نہیں تھا کہ وہاں سے کوئی خاتون کھلاڑی بھی آ سکتی ہے۔ تاہم ان کی ساتھی نے انہیں بتایا کہ ماریہ ایک اچھی کھلاڑی ہیں اور ورلڈ سكواش چیمپیئن شپ میں تیسری پوزیشن پر رہی تھی۔

جوناتھن نے ماریہ کو کینیڈا بلوانے کا فیصلہ کیا لیکن ماریہ کو یقین دلانے کے لیے کہ وہ مذاق نہیں کر رہے، انہیں تین مرتبہ ای میل کرنی پڑی۔

خاندان کو چھوڑ کر اکیلے اتنی دور جانا آسان نہیں تھا اور وہ بھی ایسی جگہ جہاں وہ کسی کو جانتی بھی نہیں تھیں۔ شمس القیوم کے ایک دوست امریکہ میں رہتے تھے۔ انہوں نے ماریہ کو پہلے نارتھ كیرولائنا میں اپنے گھر آنے کی دعوت دی۔

"مجھے اپنے لیے ڈر نہیں لگتا تھا۔ میں ایک سپاہی رہی ہوں اور سپاہی کی طرح ہی مروں گی۔ لیکن مجھے دوسروں کے لیے ڈر لگتا تھا۔"

ماریہ طورپکے

وہاں پہنچ کر ماریہ نے جوناتھن کو ای میل کی اور کینیڈا کا رخ کیا جہاں ہوائی اڈے پر خود جوناتھن ان کے استقبال کے لیے موجود تھے۔

ماریہ کا کہنا ہے کہ اس کامیابی کے پیچھے سب سے بڑا ہاتھ ان کے والد کا ہے۔

شمس کہتے ہیں، ’اسلام اور دیگر کوئی بھی مذہب مرد اور عورت میں کوئی فرق نہیں کرتا۔ میں نے کبھی اپنے بیٹوں اور بیٹیوں میں کوئی فرق نہیں کیا۔ میں چاہتا ہوں کہ ہر قبائلی لڑکی کو یہ موقع ملے۔‘

ان کا کہنا ہے کہ ’مجھے اپنی بیٹی پر بہت فخر ہے۔ پاکستان اور تمام مسلم دنیا کو اس پر فخر ہونا چاہیے۔‘

جوناتھن کے خیال میں ماریہ میں بہترین کھلاڑی بننے کی پوری صلاحیت ہے۔’اب اس کے آس پاس بہت سے اچھے کھلاڑی ہیں اور جلد ہی وہ ٹاپ کھلاڑیوں میں شامل ہو سکتی ہے۔‘

ماریہ کو امید ہے کہ وہ پاکستان میں لڑکیوں کی زندگی کو بہتر بنانے کے سلسلے میں مثال بنیں گی اور ابھی سے ہی کچھ لوگ اپنی بیٹیوں کا نام اس کے نام پر رکھنے لگے ہیں۔

اسی بارے میں

متعلقہ عنوانات

BBC © 2014 بی بی سی دیگر سائٹوں پر شائع شدہ مواد کی ذمہ دار نہیں ہے

اس صفحہ کو بہتیرن طور پر دیکھنے کے لیے ایک نئے، اپ ٹو ڈیٹ براؤزر کا استعمال کیجیے جس میں سی ایس ایس یعنی سٹائل شیٹس کی سہولت موجود ہو۔ ویسے تو آپ اس صحفہ کو اپنے پرانے براؤزر میں بھی دیکھ سکتے ہیں مگر آپ گرافِکس کا پورا لطف نہیں اٹھا پائیں گے۔ اگر ممکن ہو تو، برائے مہربانی اپنے براؤزر کو اپ گریڈ کرنے یا سی ایس ایس استعمال کرنے کے بارے میں غور کریں۔