امپائر ندیم غوری پر چار سالہ پابندی

Image caption ندیم غوری نے بھارتی ٹی وی چینل کی ویڈیو کو جعلی قرار دیا تھا

پاکستان کے انٹرنیشنل کرکٹ امپائر ندیم غوری پر چار سالہ پابندی عائد کردی گئی ہے۔

ایک اور امپائر انیس صدیقی پر تین سال کی پابندی عائد کی گئی ہے۔

پاکستان کرکٹ بورڈ نے ان دونوں امپائرز کے خلاف یہ کارروائی ایک بھارتی ٹی وی چینل کے سٹنگ آپریشن کے نتیجے میں کی ہے جس میں ان دونوں سمیت بنگلہ دیش اور سری لنکا کے چھ امپائرز نے بھاری معاوضوں کے عوض من پسند فیصلے کرنے میں مبینہ طور پر دلچسپی ظاہر کی تھی۔

پاکستان کرکٹ بورڈ کے چیئرمین ذکا اشرف کا کہنا ہے کہ پاکستان کرکٹ بورڈ ڈسپلن اور کرپشن پر کوئی سمجھوتہ نہیں کر سکتا اور اس کے مرتکب افراد کے خلاف ہر وہ سخت کارروائی کی جائے گی جو آئی سی سی کی پالیسی کے مطابق ہو۔

’دونوں امپائرز کے خلاف فیصلہ بھی یہ ثابت کرتا ہے کہ پاکستان کرکٹ بورڈ کرکٹ کو ہر قسم کی کرپشن سے پاک دیکھنا چاہتا ہے‘۔

یاد رہے کہ گزشتہ سال بھارتی ٹی وی چینل انڈیا ٹی وی نے اپنے انڈر کور رپورٹرز کے ذریعے یہ سٹنگ آپریشن کیا تھا جس میں ان رپورٹرز نے خود کو ایک سپورٹس مینجمنٹ کمپنی کے نمائندے ظاہر کرتے ہوئے ان امپائرز سے سکائپ کے ذریعے بات چیت ریکارڈ کی تھی۔

ان چھ میں سے بنگلہ دیشی امپائر نادر شاہ پر پہلے ہی دس سالہ پابندی عائد کی جا چکی ہے۔

پاکستان کرکٹ بورڈ نے ندیم غوری اور انیس صدیقی کا معاملہ اپنی تحقیقاتی کمیٹی کے سپرد کر دیا تھا جس نے بھارتی ٹی وی چینل سے اس سٹنگ آپریشن کی ویڈیو حاصل کی تھی اور دیگر شواہد کا جائزہ لینے کے بعد اپنی سفارشات پاکستان کرکٹ بورڈ کی انٹیگریٹی کمیٹی کے حوالے کر دیں جس نے پی سی بی کے چیئرمین ذکا اشرف کی صدارت میں منعقدہ اجلاس میں اس بات سے اتفاق کیا کہ ندیم غوری اور انیس صدیقی کے خلاف ٹھوس شواہد موجود ہیں۔

ندیم غوری چونکہ آئی سی سی کے ایلیٹ پینل اور پی سی بی کے انٹرنیشنل پینل میں بھی شامل رہے ہیں لہذٰا ان پر چار سال کی پابندی عائد کی گئی ہے۔

انیس صدیقی پر ایک سال کم دورانئے کی پابندی کی وجہ یہ بتائی گئی ہے کہ وہ ڈومیسٹک کرکٹ میں امپائرنگ کرتے رہے ہیں۔

ندیم غوری پاکستان کی طرف سے ایک ٹیسٹ اور چھ و ن ڈے انٹرنیشنل کھیل چکے ہیں۔

انہوں نے پانچ ٹیسٹ تنتالیس ون ڈے اور چار ٹی ٹوئنٹی میچوں میں امپائرنگ کی ہے۔

اسی بارے میں