سلمان بٹ اور محمد آصف کی اپیلیں مسترد

Image caption سپاٹ فکسنگ پر سلمان بٹ اور محمد آصف پر پانچ سال کی پابندی لگائی گئی ہے

سوئٹزرلینڈ میں کھیلوں کی عالمی ثالثی عدالت نے سپاٹ فکسنگ کے جرم میں عائد پابندی کے خلاف پاکستانی کرکٹ ٹیم کے سابق کھلاڑیوں سلمان بٹ اور محمد آصف کی اپیلیں مسترد کر دی ہیں۔

آئی سی سی نے سلمان بٹ اور محمد آصف کے علاوہ فاسٹ بولر محمد عامر پر اگست دو ہزار دس میں لندن میں انگلینڈ کے خلاف کھیلے جانے والے لارڈز ٹیسٹ میچ میں دانستہ نو بالز کروانے کے معاملے میں بالترتیب دس، سات اور پانچ سال کی پابندی عائد کی تھی جن میں سے سلمان بٹ کی پانچ اور محمد آصف کی دو سالہ سزا معطل تھی۔

سلمان بٹ اور محمد آصف نے اس پابندی کے خلاف لوزان میں کھیلوں کی عالمی ثالثی عدالت میں اپیل کی تھی جبکہ محمد عامر نے سزا کو چیلنج نہ کرنے کا فیصلہ کیا تھا۔

بدھ کو عدالت نے اپنے فیصلے میں کہا ہے کہ پاکستانی کرکٹرز سلمان بٹ اور محمد آصف کی جانب سے دائر کی گئی اپیلیں مسترد کر دی گئی ہیں۔

سلمان بٹ کے وکلاء کی جانب سے جاری ہونے بیان میں کہا گیا ہے کہ ان کے مؤکل کو اس فیصلے سے شدید مایوسی ہوئی ہے اور وہ سلمان بٹ کے پروفیشنل کیریئر کی بحالی کے لیے دیگر ذرائع کی تلاش جاری رکھیں گے۔

وکلاء کی فرم کے قانونی مشیر عامر رحمان نے کہا ہے کہ ’ہم اور سلمان دونوں عدالت کے فیصلے سے مایوس ہوئے ہیں۔ سلمان کو امید تھی کہ ان کی اپیل منظور ہو جائے گی۔ ہم ہمت نہیں ہاریں گے اور آنے والے وقت میں دستیاب مواقع کی تلاش جاری رکھیں گے۔‘

فیصلے کے بعد لاہور میں بی بی سی اردو سے بات کرتے ہوئے سلمان بٹ نے کہا کہ وہ نہیں سمجھتے کہ ان کے لیے دنیا ختم ہو گئی ہے۔ انہوں نے کہا کہ ان کی سزا کی مدت آدھی سے کم رہ گئی ہے اور جو باقی دو سال اور چار ماہ رہ گئے ہیں وہ بھی گزر جائیں گے۔

انہوں نے کہا کہ وہ محنت جاری رکھے ہوئے ہیں اور سزا کی مدت کے خاتمے پر دوبارہ بین الاقوامی کرکٹ کھیلنے کے لیے پر امید ہیں۔ سلمان بٹ کے مطابق ان کے خاندان اور دوست احباب نے اس کڑے وقت میں ان کا بہت ساتھ دیا ہے اور اسی وجہ سے وہ یہ مشکل دور گزار سکے ہیں۔

واضح رہے کہ سپاٹ فکسنگ کے اسی معاملے میں لندن کی ایک عدالت نے ستائیس سالہ سلمان بٹ کو ڈھائی سال، اٹھائیس سالہ محمد آصف کو ایک سال اور انیس برس کے محمد عامر کو چھ ماہ کی قید کی سزا سنائی تھی جو وہ پوری کر کے رہا ہو چکے ہیں۔

اسی سکینڈل میں ملوث چھتیس سالہ سپورٹس ایجنٹ مظہر مجید کو دو سال آٹھ ماہ کے لیے جیل بھیجا گیا تھا۔

اس مقدمے میں سلمان بٹ، محمد آصف اور محمد عامر پر الزام عائد کیا گیا تھا کہ انہوں نے سپورٹس ایجنٹ مظہر مجید کے کہنے پر چھبیس اور ستائیس اگست سنہ دو ہزار دس کو لارڈز ٹیسٹ کے دوران پہلے سے طے شدہ وقت پر نو بالز کروائیں تھیں۔

اس کے لیے ایجنٹ مظہر مجید نے محمد آصف کو پینسٹھ ہزار، سلمان بٹ کو ایک لاکھ اور محمد عامر کو ڈھائی ہزار برطانوی پونڈ کی رقم ادا کی تھی۔

عدالت نے پاکستانی کرکٹ ٹیم کے سابق کپتان سلمان بٹ اور بالر محمد آصف کو دھوکہ دہی اور بدعنوانی کا قصوروار ٹھہرایا گیا تھا۔

مقدمے کے دو دیگر ملزمان محمد عامر اور ایجنٹ مظہر مجید نے اپنے جرم کا اعتراف کر لیا تھا۔ محمد عامر نے عدالت کو بتایا تھا کہ وہ صرف ایک میچ میں فکسنگ کے مرتکب ہوئے تھے۔

اسی بارے میں