ایتھلیٹ علی محمد کا مثبت ڈوپ ٹیسٹ

Image caption علی محمد نے فوڈ سپلیمنٹ جیک تھری ڈی استعمال کی تھی جس پر اب پابندی عائد کی جاچکی ہے

پاکستانی ایتھلیٹ علی محمد کو مثبت ڈوپ ٹیسٹ کے بعد ہر سطح کے قومی اور بین الاقوامی مقابلوں میں حصہ لینے سے روک دیا گیا ہے اور ان کے مستقبل کا فیصلہ پاکستان ایتھلیٹکس فیڈریشن کرے گی۔

علی محمد نے ایران میں ہونے والی انٹرنیشنل ایتھلیٹک میٹ میں آٹھ سو میٹرز میں طلائی تمغہ جیتا تھا جبکہ چار ضرب سو ریلے ریس میں انہوں نے چاندی کا تمغہ حاصل کیا تھا۔

معلوم ہوا ہے کہ انہوں نے فوڈ سپلیمنٹ جیک تھری ڈی استعمال کی تھی جس پر اب پابندی عائد کی جاچکی ہے۔

واپڈا سے تعلق رکھنے والے ستائیس سالہ علی محمد آٹھ سو اور پندرہ سو میٹرز کے ایتھلیٹ ہیں اور گزشتہ چھ سال سے وہ قومی سطح پر ان دونوں فاصلوں کی ریس میں ناقابل شکست ہیں اور ابتک انیس طلائی تمغے جیت چکے ہیں۔

علی محمد نے بی بی سی کو دیے گئے انٹرویو میں کہا کہ ایران کے ایونٹ سے قبل وہ تقریباً ایک ماہ قومی کیمپ میں رہے لیکن اس دوران ان کے کسی بھی کوچ اور یہاں تک کہ ورلڈ اینٹی ڈوپنگ ایجنسی (واڈا) کے پاکستان میں نمائندے نے بھی انہیں اس بارے میں نہیں بتایا کہ جیک تھری ڈی پر پابندی عائد کی جاچکی ہے جسے یہاں ملٹی وٹامن کے طور پر استعمال کیا جاتا رہا ہے۔

علی محمد نے کہا کہ اگر واڈا نے جیک تھری ڈی پر پابندی کے بارے میں پاکستان ایتھلیٹکس فیڈریشن کو مطلع کیا ہو تو اس کا انہیں علم نہیں۔

علی محمد نے کہا کہ ان کا کیریئر بے داغ رہا ہے اورانہوں نے ممنوعہ قوت بخش ادویات کا کبھی بھی سہارا نہیں لیا۔ ’اس بات کا ثبوت یہ ہے کہ دو مرتبہ قومی سطح پر اور ایک بار بین الاقوامی ایونٹ میں ان کے ڈوپ ٹیسٹ ہوچکے ہیں اور تینوں بار وہ کلیئر قرار دیے گئے۔‘

علی محمد کہتے ہیں کہ واڈا کے پاکستان میں نمائندے اور پاکستان ایتھلیٹک فیڈریشن ایتھلیٹس کو ڈوپنگ کے مضمرات کے بارے میں آگاہی دیتے رہے ہیں لیکن اس بار ایسا نہیں ہوا۔

انہوں نے کہا کہ اگر ان پر پابندی عائد کی گئی تو اس کا انہیں زندگی بھر افسوس رہے گا کیونکہ انہیں پتہ ہے کہ انہوں نے جان بوجھ کر ایسی کوئی حرکت نہیں کی جس پر انہیں ندامت ہو۔

انٹرنیشنل ایتھلیٹک فیڈریشن کے قوانین کے تحت ممنوعہ قوت بخش ادویات کا استمعال کرنے والے ایتھلیٹ کے خلاف کارروائی کے تین طریقے ہیں اگر یہ ثابت ہوجائے کہ ایتھلیٹ کو کسی ممنوعہ قوت بخش دوا کے بارے میں پتہ نہ تھا اور اس کا ڈوپ ٹیسٹ مثبت ہوجائے تو اسے صرف وارننگ دی جاتی ہے دوسری صورت میں اسے اس کے جیتے ہوئے تمغے سے محروم کردیا جاتا ہے جبکہ سب سے سخت کارروائی ایک سالہ پابندی ہے۔

پاکستان ایتھلیٹکس فیڈریشن کے صدر میجر جنرل ( ریٹائرڈ ) اکرم ساہی نے بی بی سی کو دیے گئے انٹرویو میں کہا کہ علی محمد کو فیڈریشن کی انضباطی کمیٹی کے سامنے پیش ہونا پڑے گا جو تمام حقائق کو پیش نظر رکھتے ہوئے فیصلہ کرے گی اور انصاف کے تمام تقاضے پورے کئے جائیں گے۔

پاکستانی ایتھلیٹکس پر گہری نظر رکھنے والے صحافی ندیم قیصر کا اس بارے میں کہنا ہے کہ علی محمد کا مثبت ڈوپ ٹیسٹ صرف اور صرف انہیں بروقت قوت بخش دوا کے ممنوعہ قرار دیے جانے کے بارے میں مطلع نہ کرنے کا نتیجہ ہے۔

علی محمد کی وجہ شہرت ایک محنتی اور پرجوش ایتھلیٹ کی ہے جنہوں نے اب تک جتنی بھی کامیابیاں حاصل کی ہیں وہ صرف محنت کے بل پر ہیں۔

اسی بارے میں