کرکٹر دانش کنیریا کی اپیل مسترد

دانش کنیریا
Image caption دانش کنیریا نے پاکستان کی جانب سے کھیلتے ہوئے ٹیسٹ میچز میں 261 وکٹیں حاصل کی ہیں

پاکستان کے سابق لیگ سپنر دانش کنیریا کی انگلش اینڈ ویلز کرکٹ بورڈ کی جانب سے سپاٹ فکسنگ کے الزام میں دی جانے والی سزا کے خلاف اپیل مسترد کر دی گئی۔

دوسری جانب انگلش اینڈ ویلز کرکٹ بورڈ (ای سی بی) کی جانب سے دانش کنیریاکے انگلینڈ میں کھیلنے پر تاحیات پابندی کے کیس کی سماعت ہونا ابھی باقی ہے۔

یاد رہے کہ کرکٹ کے ایک ڈسپلنیری کمیشن نے ای سی بی کی جانب سے کیے گئے فیصلے کو درست قرار دیا جس میں بورڈ نے 32 سالہ کرکٹر کو بدعنوانی یعنی سپاٹ فکسنگ کے دو الزامات کا مرتکب قرار دیا تھا۔

کمیشن نے اپنے ایک بیان میں کہا ہے کہ اخراجات اور دوسری پابندیوں کے خلاف ان کے کیس کی اپیل کی سماعت بعد میں ہوگی۔

تاحیات پابندی کے علاوہ دانش کنیریا کو اپنی کاؤنٹی کے ایک کھلاڑی مرون ویسٹ فیلڈ پر 2009 میں کھیلے گئے ایک ون ڈے میچ کے دوران سپاٹ فکسنگ کے لیے ڈباؤ ڈالنے کا مرتکب بھی پائے گئے اور اس کے لیے ان پر ایک لاکھ پاؤنڈ کا جرمانہ عائد کیا گیا تھا۔

ویسٹ فیلڈ کو ایک میچ میں اپنی صلاحیت سے کم کھیل کا مظاہرہ کرنے کا مرتکب پایا گیا اور ان پر پانچ سال کی پابندی لگائی گئی تھی لیکن اب انھیں تین سال کے بعد کلب کرکٹ کھیلنے کی اجازت ہوگی۔

اولڈ بیلی میں سماعت کے بعد 24 سالہ بالر ویسٹ فیلڈ نے چار مہینے قید کی سزا میں سے دو ماہ جیل میں بھی گزارے۔

دانش کنیریا کے خلاف اپیل کی سماعت دسمبر میں ہونا تھی تاہم اسے اس لیے ملتوی کر دیا گیا کیونکہ ای سی بی مرون ویسٹ فیلڈ کو مقدمے میں حصہ لینے پر قائل کرنے میں ناکام رہا تھا۔

کمیشن نے اپنے بیان میں یہ بھی کہا ہے کہ جون سنہ 2012 میں عائد پابندی کے خلاف مرون ویسٹ فیلڈ کی اپیل کی سماعت بھی بعد میں ہوگی۔

ای سی بی کے چیف ایگزیکٹو ڈیوڈ کولیر نے کہا ’میں پینل کے فیصلے کا خیرمقدم کرتا ہوں، بدعنوانی کی کھیل میں کوئی جگہ نہیں ہے۔ ای سی بی آئندہ بھی ہوشیار رہے گی اور اس حوالے کچھ بھی برداشت نہیں کرنے کی پالیسی اپنائے گی‘۔

واضح رہے کہ سنہ 2000 سے سنہ 2010 کے دوران 261 وکٹ لینے والے دانش کنیریا کے خلاف عائد تاحیات پابندی کو بین الاقوامی طور پر تسلیم کر لیا گیا ہے۔

اسی بارے میں