ڈوپنگ سکینڈل، ڈاکٹرایوفیمیانو فیونٹس کو سزا

سپین کے ایک ڈاکٹر کے خلاف کھیلوں کی دنیا کا سب سے بڑا ممنوعہ ادویات کا نیٹ ورک چلانے کے الزام میں ایک سال کی قید کی سزا سنائی گئی ہے۔

عدالت نے ڈاکٹر ایوفیمیانو فیونٹس کی جانب سے سائیکل سواروں کو خون کے بیگ فراہم کرنے پر سزا سنائی۔

ان کے خلاف عوام کی صحت سے متعلق قوانین کو توڑنے کا الزام کے تحت کارروائی کی گئی کیونکہ ان کی گرفتاری کے وقت سپین میں انسداد ڈوپنگ قوانین موجود نہیں تھے۔

عدالت نے ڈاکٹر ایوفیمیانو فیونٹس کے ہمراہ سابق سائیکلنگ ٹیم کے ایک اہلکار کو چار ماہ کے لیے جیل کی سزا سنائی جبکہ تین دوسرے افراد کو رہا کر دیا۔

خیال رہے کہ پولیس نے اس کیس کی تحقیقات جسے آپریشن ’پیروٹو‘ کا نام دیا گیا تھا کے دوران مئی سنہ 2006 میں میڈرڈ، زاراگوزا، ایل ایسکوریل میں واقع دفاتر، لیبارٹریز، فلیٹس پر کئی چھاپے مارے۔

ان چھاپوں کے دوران پولیس نے منجمد خون یا پلازما کے دو سو بیگ برآمد کیے جن پر لیبل موجود تھے جن کے بارے میں خیال کیا جا رہا تھا کہ یہ ڈاکٹر فینونٹس کے گاہکوں کے خفیہ نام ہیں۔

سپین کے دارالحکومت میڈرڈ کی عدالت نے کیلمی سائیکلنگ ٹیم کے سابق اہلکار ایگناسیو لابرٹا کو بھی چار ماہ قید کی سزا سنائی۔

اس سکینڈل میں سائیکلنگ ٹیم کے دوسرے دو سابق اہلکاروں کو جرم ثابت نہ ہونے پر رہا کر دیا گیا۔

اسی بارے میں