برازیلوی کلب کی’طالبان بنو‘ مہم کی مذمت

Image caption برازیل میں فٹبال مقابلوں کے دوران متنازع پرچم لہرانے اور نعرے بازی نئی بات نہیں

برازیل کے مقامی فٹبال کلب فلومینینس نے اپنے شائقین اور کھلاڑیوں سے وہ انٹرنیٹ مہم بند کرنے کو کہا ہے جس میں طالبان جنگجوؤں کا روپ دھارنے اور اس قسم کی تصاویر آن لائن اپ لوڈ کرنے کی حوصلہ افزائی کی گئی تھی۔

یہ مہم کلب کی جنوبی امریکی فٹبال ٹورنامنٹ کے میچ میں شکست کے بعد اس وقت شروع ہوئی تھی جب کلب کے حامیوں نے ٹوئٹر پر کھلاڑیوں اور دیگر شائقین سے ’اپنی جنگجویانہ روح کا اظہار‘ کرنے اور مہم کا حصہ بننے کو کہا تھا۔

ایک بیان میں کلب نے کہا ہے کہ اس قسم کے اقدامات دہشتگردی کی ترویج کرتے ہیں۔

اس مہم کے تحت برازیل کے کئی عالمی کھلاڑیوں نے کلب کے رنگوں سے بنے نقاب سے اپنے چہرے چھپا کر کھینچی گئی تصاویر آن لائن لگائی ہیں۔

فلومینینس کلب جو برازیلی لیگ کا دفاعی چیمپیئن ہے اپنے حامیوں میں ’جنگجوؤں کی ٹیم‘ کے نام سے جانا جاتا ہے۔

کلب نے بیان میں کہا ہے کہ ’یہ مہم شروع کرنے یا اس میں حصہ لینے والوں کے ارادے طالبان کی شبیہ سے ملتے جلتے ہیں جو کہ دہشتگرد ہیں۔ اس لیے فلومیننس کلب اس مہم کی مذمت کرتا ہے۔‘

کلب کا کہنا ہے کہ ’طالبان جنگجو بنو‘ نامی مہم ’تشدد کی دعوت‘ کے مترادف ہے۔

برازیل میں فٹبال مقابلوں کے دوران متنازع پرچم لہرانے اور نعرے بازی نئی بات نہیں۔

ماضی میں شائقین میچوں کے دوران ایسے پرچم لا چکے ہیں جن پر آیت اللہ خمینی، صدام حسین اور اسامہ بن لادن کی تصاویر کلب کے مخصوص رنگوں کے ساتھ بنی ہوئی تھیں۔

نامہ نگاروں کا کہنا ہے کہ ایسے وقت میں جب آئندہ برس برازیل میں فٹبال کا عالمی کپ منعقد ہونا ہے، فٹبال حکام یہ جان گئے ہیں کہ شائقین کا یہ رویہ ملک کی شبیہ کے لیے نقصان دہ ہو سکتا ہے۔

اسی بارے میں