ایتھلیٹ علی محمد پر ایک سالہ پابندی

پاکستان ایتھلیٹکس فیڈریشن نے ایتھلیٹ علی محمد پر ایک سال کی پابندی عائد کر دی ہے۔

ایتھلیٹ علی محمد نے پابندی کے فیصلے کے خلاف اپیل کر دی ہے۔

انہوں نے اس فیصلے کو جانبدارانہ اور غیرمنصفانہ قرار دیا ہے تاہم پاکستان ایتھلیٹکس فیڈریشن نے ان کے تمام الزامات کو مسترد کر دیا ہے۔

واپڈا سے تعلق رکھنے والے علی محمد نے اس سال فروری میں ایران میں ہونے والی ایتھلیٹک میٹ میں800 میٹرز کی ریس میں طلائی تمغہ جیتا تھا تاہم ان کا ڈوپ ٹیسٹ مثبت پایا گیا تھا اور یہ بتایا گیا تھا کہ انہوں نے فوڈ سپلیمنٹ جیک تھری ڈی کا استعمال کیا تھا جس پر اب پابندی عائد کی جا چکی ہے۔

نامہ نگار عبدالرشید شکور کے مطابق علی محمد پاکستان ایتھلیٹکس فیڈریشن کی قائم کردہ کمیٹی کے سامنے پیش ہوئے تھے جس نے ان کے خلاف ایک سالہ پابندی تجویز کرتے ہوئے فیڈریشن کے صدر میجر جنرل ( ریٹائرڈ) اکرم ساہی کو اس بارے میں آگاہ کر دیا ہے۔

علی محمد نے بی بی سی سے بات کرتے ہوئے کہا کہ انھیں اس بات پر حیرت ہے کہ انٹرنیشنل ایتھلیٹکس فیڈریشن کے جس خط کے تحت ان کے خلاف کارروائی کی گئی ہے اس میں دو فیصلے رکھے گئے تھے اول یہ کہ ان سے جیتا ہوا تمغہ واپس لے کر آئندہ کے لیے محتاط رہنے کی تنبیہ کی جائے اور دوسرا یہ کہ ان پر سال بھر کی پابندی عائد کردی جائے۔اگر پاکستان ایتھلیٹکس فیڈریشن چاہتی تو انہیں کم سزا دے سکتی تھی۔

علی محمد نے کہا کہ وہ پاکستان ایتھلیٹکس فیڈریشن کی قائم کردہ انضباطی کمیٹی کی تشکیل سے مطمئین نہیں کیونکہ اس میں آرمی سے تعلق رکھنے والے ارکان شامل تھے جس کا ایتھلیٹکس میں واپڈا سے ہمیشہ سخت مقابلہ رہتا ہے لہذا کمیٹی کی غیرجانبداری کیسے قائم رہ سکتی ہے؟

پاکستان ایتھلیٹکس فیڈریشن کے صدر میجر جنرل ( ریٹائرڈ) اکرم ساہی نے بی بی سی کو دیے گئے انٹرویو میں کہا کہ انہیں پورا یقین ہے کہ کمیٹی نے تمام حقائق کو مدنظر رکھتے ہوئے ایک سالہ پابندی کی تجویز دی ہے۔

انہوں نے کہا کہ ہر ایتھلیٹ فوڈ سپلیمنٹ استعمال کرنے سے پہلے اس کی مکمل چھان بین کر لیتا ہے۔

سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ ایران کے مقابلے میں حصہ لینے والے دیگر سات ایتھلیٹس کا ڈوپ ٹیسٹ مثبت کیوں نہیں آیا؟

اکرم ساہی نے علی محمد کے اس الزام کو یکسر مسترد کر دیا کہ انہیں واپڈا سے تعلق ہونے پر سزا دی گئی ہے۔

انہوں نے کہا کہ اس معاملے کا آرمی اور واپڈا سے کوئی تعلق نہیں بلکہ فیڈریشن کے صدر کی حیثیت سے انہوں نے ہمیشہ واپڈا کے باصلاحیت ایتھلیٹس کو آگے آنے کا موقع فراہم کیا ہے۔

ان کے دور میں واپڈا کے ایتھلیٹس کی اکثریت بین الاقوامی مقابلوں میں شرکت کرتی رہی ہے یہاں تک کہ انٹرنیشنل ٹریننگ ٹور پر بھی واپڈا کے ایتھلیٹ کو بھیجا گیا ہے۔

انہوں نے کہا کہ کمیٹی میں واڈا کے پاکستان میں نمائندے بھی شامل تھے لیکن انہوں نے خود یہ درخواست کی تھی کہ انہیں رکن کے بجائے مبصر کے طور کمیٹی میں رکھا جائے۔

اسی بارے میں