’حکومتی مداخلت پر پی سی بی ہی کو نقصان ہوگا‘

پاکستان کرکٹ بورڈ کے چیئرمین ذ کا اشرف کا کہنا ہے کہ کرکٹ بورڈز میں حکومتی مداخلت کے بارے میں آئی سی سی کا موقف بالکل واضح ہے اور پاکستان کرکٹ بورڈ میں اس طرح کی کوئی بھی مداخلت نہیں ہونی چاہیے کیونکہ اس کا نقصان پاکستانی کرکٹ کو ہوگا۔

ذ کا اشرف نے بی بی سی کو دیے گئے تفصیلی انٹرویو میں یہ بات واضح کر دی کہ وہ آئی سی سی کی جانب سے پاکستان کرکٹ بورڈ کے آئین کو دی گئی منظوری کے بعد تمام تر آئینی تقاضے پورے کرتے ہوئے چیئرمین منتخب ہوئے ہیں۔

اس سوال پر کہ کرکٹ بورڈز کے آئین میں حکومتی مداخلت ختم کرنے کے بارے میں جو شقیں شامل کی ہیں اس کے نتیجے میں اب ایسی کوئی مداخلت نہیں ہوگی پر ان کا کہنا تھا ’یہ مداخلت نہیں ہونی چاہیے کیونکہ آئی سی سی نے واضح کردیا ہے کہ اگر ایسا ہوا تو وہ سخت کارروائی کرے گی اور ہو سکتا ہے کہ کرکٹ بورڈ کی رکنیت معطل کردی جائے یا کوئی اور سخت قدم اٹھایا جائے۔ ظاہر ہے اس کا نقصان پاکستانی کرکٹ کا ہی ہو گا۔‘

ذکا اشرف سے جب پوچھا گیا کہ آپ پر یہ اعتراض کیا جا رہا ہے کہ عام انتخابات سے صرف تین دن پہلے آپ نے خود کو منتخب کرالیا تو انہوں نے کہا ’پاکستان کرکٹ بورڈ کو ہر صورت میں آئی سی سی کی دی ہوئی ڈیڈ لائن سے پہلے اپنا چیئرمین منتخب کرنا تھا۔ ظاہر ہے اس کے لیے ملک کے عام انتخابات یا حکومتی تبدیلی کا انتظار کرنے کی ضرورت نہیں تھی۔‘

انہوں نے کہا کہ جو لوگ ان پر اعتراض کر رہے ہیں انہیں اصل صورت حال کا علم نہیں یا پھر ان کے ذاتی مفادات ہیں۔

ذکا اشرف نے کہا کہ پاکستان کرکٹ بورڈ کا آئین سنہ 2007 سے موجود تھا لیکن اس میں تبدیلی کی ضرورت آئی سی سی نے محسوس کی تھی کیونکہ وہ چاہتی تھی کہ تمام کرکٹ بورڈز کے آئین اس کے قواعد وضوابط سے مطابقت پیدا کر لیں۔

انہوں نے کہا کہ ان سے پہلے بھی کئی لوگ پی سی بی کے چیئرمین رہے لیکن کسی نےاس جانب توجہ نہیں دی لیکن انہوں نے پاکستان کرکٹ بورڈ کا چیئرمین بننے کے بعد اس پر کام شروع کردیا تھا اور آئی سی سی کے تحفظات دور کرنے کے بعد انہوں نے نیا آئین حکومت سے منظور کروایا۔

ذکا اشرف نے کہا کہ نئے آئین کے تحت صدر مملکت اب کرکٹ بورڈ کے چیئرمین کے لیے دو یا زائد نام تجویز کرسکتے ہیں اور کرکٹ بورڈ کی نامزدگی کمیٹی ان میں سے کسی ایک کا انتخاب میرٹ پر کرے گی جیسا کہ ان کے انتخاب میں ہوا۔

’میں ذاتی طور پر سمجھتا ہوں کہ پاکستان کرکٹ بورڈ کے تحفظ کے لیے بورڈ میں صدر مملکت کا کچھ نہ کچھ کردار رہنا چاہیے۔ تیسری دنیا کے کرکٹ بورڈ کے پاس کوئی اختیار نہیں ہوتا اس کے پاس تھانے کا ایک سپاہی بھی آجائے تو وہ بھی بھاری ہوتا ہے۔‘

انہوں نے کہا کہ آج اگر آصف علی زرداری ملک کے صدر ہیں تو کل کوئی اور صدر ہوگا جو پاکستان کرکٹ بورڈ پیٹرن انچیف کی حیثیت سے کرکٹ بورڈ کے کسی چیئرمین کے نام پیش کرے گا۔ اسی طرح وہ بھی ساری زندگی پاکستان کرکٹ بورڈ کے چیئرمین نہیں رہیں گے لیکن جب تک وہ بورڈ میں ہیں کرکٹ کی خدمت کرتے رہیں گے۔

انہوں نے کہا ’اگر پاکستان کرکٹ بورڈ کا تبدیل کیا گیا یا یہ موجودہ آئین نہ ہوتا تو لوگ نوٹوں کی بوریاں لے کر بیٹھ جاتے اور یہ عہدہ حاصل کرنے کے لیے ایک ایک ووٹ کروڑوں میں فروخت ہوتا، اسی صورت حال کو روکنے کے لیے چیک اینڈ بیلنس کا نظام رکھوایا گیا اور آئی سی سی نے بھی پاکستان کے حالات کو سمجھتے ہوئے اس سے اتفاق کیا‘۔

اسی بارے میں