سپاٹ فکسنگ میں سری سانت کا ’اقبالِ جرم‘

Image caption شری سنت، انکت چوہان اور چنڈیلا کو دہلی پولیس نے ایک دن پہلے گرفتار کیا تھا

انڈین پریمیئر ليگ کے میچوں میں سپاٹ فکسنگ کے معاملے میں راجستھان رائلز کے کھلاڑی سری سانت، انکت چوہان اور اجیت چنڈیلا نے مبینہ طور پر اپنے جرم کا اعتراف کر لیا ہے۔

بھارتی خبر رساں ایجنسی پی ٹی آئی کے مطابق دہلی پولیس کا کہنا ہے کہ تفتیش کے دوران سپاٹ فکسنگ کے معاملے میں جن دیگر کھلاڑیوں کے نام سامنے آئے ہیں، ان کے بارے میں بھی تحقیقات کی جا سکتی ہیں۔

پی ٹی آئی نے دہلی پولیس کمشنر نیرج کمار کے حوالے سے کہا ہے کہ جب بھارتی فاسٹ بالر سری سانت اور ان کے دوسرے ساتھیوں کو گرفتار کیا گیا تو اس وقت وہ دوشیزاؤں کے ساتھ تھے۔

پولیس کمشنر نیرج کمار سے جب یہ سوال پوچھا گیا کہ کیا تینوں کرکٹرز نے سپاٹ فکسنگ میں اپنے جرم کا اقبال کیا ہے، تو اس کے جواب میں پولیس کمشنر نے’ہاں‘ کہا لیکن ساتھ ہی انہوں نے یہ بھی کہا ’ان ملزمان کے پاس اس کے علاوہ کوئی اور چارہ تھا ہی نہیں‘۔

پولیس کمشنر نے یہ بھی دعویٰ کیا کہ ان تینوں کے خلاف ٹھوس ثبوت ہیں اور وہ پر اعتماد ہیں کہ ان کو مجرم قرار دیا جائے گا۔

سری سانت اور دو دیگر کھلاڑیوں کو دہلی پولیس نے ایک دن پہلے گرفتار کیا تھا۔

نجی ٹی وی چینل این ڈی ٹی وی کے ایک پروگرام میں سپیشل سیل کے ایس پی ایس این شریواستو نے بھی ایک سوال کے جواب میں کہا کہ تینوں کھلاڑیوں نے سٹے بازی کی بات قبول کی ہے۔ تاہم جب بی بی سی نے دہلی پولیس کے ترجمان راجن بھگت سے اس خبر کی تصدیق کرنی چاہی تو انہوں نے اس طرح کے اعتراف سے انکار کیا۔

دریں اثناء تینوں ملزم کھلاڑیوں کے وکلاء نے کہا ہے کہ ان کے موکل بے قصور ہیں اور انہیں سازش کے تحت پھنسایا گیا ہے۔

سری سانت کے وکیل دیپک پرکاش نے کہا ’سری سانت کو غلط طور پر یا غلط فہمی کی بنیاد پر گرفتار کیا گیا ہے۔ دہلی پولیس کو غلط اطلاع ملی یا انہوں نے غلطی سے اسے گرفتار کیا‘۔

دوسری جانب بھارت کی جنوبی ریاست تمل ناڈو کے دارالحکومت چنّئی میں چھ سٹے بازوں کو گرفتار کر کے ان سے 14 لاکھ روپے بھی برآمد کیے گئے ہیں۔

کرائم برانچ سی آئی ڈی کے پولیس سپریٹنڈنٹ پیرومل اور راجیشوري نے چنّئی میں نامہ نگاروں سے بات کرتے ہوئے کہا کہ مشتبہ اہم سٹے باز دہلی سے کام کر رہا ہے۔گرفتاریوں کے بعد چنئی میں 13 مقامات پر چھاپے مارے گئے۔

اسی بارے میں