سپاٹ فکسنگ:اسد رؤف چیمپیئنز ٹرافی سے باہر

Image caption اسد رؤف کا نام ماضی میں ایک بھارتی ماڈل کے مبینہ سکینڈل میں بھی سامنے آیا تھا

بین الاقوامی کرکٹ کی گورننگ باڈی آئی سی سی نے پاکستانی امپائر اسد رؤف کے خلاف بھارت میں سپاٹ فکسنگ سکینڈل کے حوالے سے مبینہ تحقیقات کو وجہ قرار دیتے ہوئے انہیں جون میں ہونے والی آئی سی سی چیمپیئنز ٹرافی کے لیے امپائرز کے ایلیٹ پینل سے نکال دیا ہے۔

اس بات کا اعلان آئی سی سی کی جانب سے جمعرات کو جاری ہونے والے ایک بیان میں کیا گیا۔

آئی سی سی کا کہنا ہے کہ بدھ کو سامنے آنے والی میڈیا رپورٹس سے ظاہر ہوتا ہے ممبئی کی پولیس اسد رؤف کے خلاف تحقیقات کر رہی ہے۔

آئی سی سی کے چیف ایگزیکٹو ڈیوڈ رچرڈسن نے اس فیصلے کی تفصیل بتاتے ہوئے کہا کہ ’ان اطلاعات کی روشنی میں کہ ممبئی پولیس اسد رؤف کی سرگرمیوں کے بارے میں تحقیقات کر رہی ہے ہم یہ سمجھتے ہیں کہ یہ اسد اور اس کھیل اور ٹورنامنٹ کے بہترین مفاد میں ہے کہ آئی سی سی چیمپیئنز ٹرافی کے لیے ان کا نام واپس لے لیا جائے۔‘

ادھر بھارت سے موصول ہونے والی اطلاعات کے مطابق نئی دہلی پولیس کے سربراہ نیرج کمار کا کہنا ہے کہ پولیس آئی پی ایل کے سپاٹ فکسنگ سکینڈل کے سلسلے میں مزید تین کھلاڑیوں کی سرگرمیوں پر نظر رکھے ہوئے ہے۔

پولیس سربراہ کے مطابق ان تین مزید کھلاڑیوں کا تعلق بھارت سے ہی ہے اور وہ آئی پی ایل میں ایک ہی ٹیم کی جانب سے کھیلتے ہیں تاہم انھوں نے ان کے نام بتانے سے انکار کر دیا۔

بھارتی پولیس کے سربراہ نے اخبار ’دی انڈین ایکسپریس‘ کو بتایا کہ سپاٹ فکسنگ میں سٹّے بازوں اور کھلاڑیوں کے درمیان اس پر اتفاق کیا جاتا تھا کہ کب جان بوجھ کر ’وائیڈ‘ یا ’نو بال‘ کروائی جائے گی اور اس کا فائدہ بکیز کو جاتا ہے‘۔

Image caption پولیس مزید تین کھلاڑیوں کی سرگرمیوں پر نظر رکھے ہوئے ہے: نیرج کمار

نیرج کمار کے مطابق ہم اپنی تفتیش کا دائرہ بہت جلد بڑھائیں گے اور ہمیں امید ہے کہ ہم بکیز کے سنڈیکیٹ کو توڑنے میں کامیاب ہو جائیں گے۔

نئی دہلی پولیس کے سربراہ کا کہنا تھا ’ہم آئی پی ایل میں شامل دیگر ٹیموں اور کھلاڑیوں اور خاص طور پر ان تین کھلاڑیوں جو ایک ہی ٹیم کی جانب سے کھیلتے ہیں کو دیکھ رہے ہیں‘۔

انھوں نے مزید تین کھلاڑیوں کے نام ظاہر کرنے سے انکار کرتے ہوئے کہا کہ ایسا کرنے کہ تفتیش پر اثر پڑے گا۔

پاکستان کرکٹ بورڈ کے سربراہ ذکاء اشرف نے کہا ہے کہ اسد رؤف کا پاکستان کرکٹ بورڈ سے کوئی تعلق نہیں ہے اور وہ آئی سی سی کی جانب سے آئی پی ایل میں امپائرنگ کے فرائض انجام دے رہے ہیں۔

ذکاء اشرف نے مزید کہا کہ انہیں اب تک اس بارے میں نہ تو بی سی سی آئی نے یا آئی سی سی نے رابطہ کیا ہے۔ اب تک صرف زرائع ابلاغ پر آنے والی رپورٹیں ہیں جن پر تبصرہ قبل از وقت ہو گا۔

پی سی بی کے چیئر مین نے کہا کہ فی الوقت تحقیقات ہو رہی ہیں جن کے نتائج کا انتظار کیا جانا چاہیے۔ ان تحقیقات کے نتائج سامنے آنے پر قواعد و ضوابط کے تحت کارروائی کی جائے گی۔

خیال رہے کہ پولیس نے ایس سری سانت، اجیت چنڈيلا اور انكيت چوہان کو بھارت میں جاری آئی پی ایل ٹورنامنٹ میں سپاٹ فکسنگ کے الزام میں جمعرات کو 11 مبینہ سٹّے بازوں کے ساتھ گرفتار کیا تھا اور بدھ کو عدالت نے تینوں کھلاڑیوں کے ریمانڈ میں مزید پانچ دن کی توسیع کی تھی۔

سری سانت اور دیگر دونوں کھلاڑیوں کے خاندان والوں نے ان الزامات کی تردید کی تھی۔

راجستھان رائلز کی ٹیم اور بھارتی کرکٹ بورڈ ان تینوں کھلاڑیوں کے معاہدے پہلے ہی منسوخ کر چکی ہے۔

اسی بارے میں