بےایمانی روکنے کے لیے نیا قانون: کپل سبل

Image caption اس تنازع کی وجہ سے بھارت میں آئی پی ایل کی مخالفت میں اضافہ ہوا ہے

بھارت کے وزیرِ قانون کپل سبل نے کہا ہے کہ کھیل کی دنیا میں بےایمانی کو روکنے کے لیے حکومت جلد ہی نیا قانون متعارف کروائے گی۔

انہوں نے یہ بات انڈین پریمیئر لیگ میں سپاٹ فکسنگ اور سٹے بازی کے الزامات پر کھلاڑیوں اور ایک ٹیم کے مالک کی گرفتاری کے بعد کہی۔

اس سکینڈل کے سامنے آنے کے بعد اب تک دہلی اور ممبئی کی پولیس ٹیسٹ کرکٹ سری سانت سمیت آئی پی ایل کی ٹیم راجستھان رائلز کے تین کرکٹرز اور اس سال فائنل میں پہنچنے والی ٹیم چنئی سپر کنگز کے ’پرنسپل‘ اور بی سی سی آئی کے صدر این شری نواسن کے دامادگروناتھ ميئپن سمیت متعدد افراد کو گرفتار کر چکی ہے۔

کپل سبل نے سنیچر کو صحافیوں کو بتایا ہے کہ اٹارنی جنرل نے انہیں مشورہ دیا ہے کہ کھیل میں بےایمانی جیسے الزامات سے نمٹنے کے لیے بہتر ہوگا کہ الگ سے قانون بنایا جائے نہ کہ آئی پی سی میں ترمیم کی جائے۔

انہوں نے کہا کہ اس قانون کے دائرے میں صرف کرکٹ ہی نہیں بلکہ دوسرے کھیل بھی آئیں گے۔

کپل سبل نے کہا کہ یہ قانون بھارت میں کھیلنے والے غیر ملکی کھلاڑیوں پر بھی لاگو ہوگا اور اس میں نئی ٹیکنالوجی کے استعمال پر بھی نظر ہوگی ۔

اس سلسلے میں اپوزیشن کے لیڈر ارون جیٹلی اور بی سی سی آئی کے راجیو شکلا نے کپل سبل سے ملاقات بھی کی ہے. کپل سبل نے بتایا کہ حزب اختلاف اس معاملے پر حکومت کے ساتھ ہے.

کپل سبل نے کہا کہ قانون کا ڈھانچہ تیار کر کے وزارتِ کھیل کو بھیجا جائے گا اور ان سے بات چیت کے بعد مسودہ تیار کیا جائے گا۔

وزیر قانون کے مطابق بے ایمانی کی تعریف میں بكي، ناظرین کی کوئی حرکت، کھلاڑی، یا ایسا اشارہ جو کھیل کے نتائج کو متاثر کرتا ہے تمام کو لایا جائے گا۔

انہوں نے یہ بھی بتایا کہ اس طرح کے کاموں میں نئی ٹیکنالوجی کے استعمال کو بھی نئے قانون میں شامل کیا جائے گا۔

اسی بارے میں