فرنچ اوپن ٹینس: سونگا کی فیڈرر کو مات

Image caption سیمی فائنل میں جو ولفرڈ ٹسونگا کا مقابلہ ڈیوڈ فیرر سے ہو گا

فرانسیسی ٹینس سٹار جو ولفرڈ سونگا نے عالمی نمبر دو روجر فیڈرر کو شکست دے کر اپنے ملک کے لیے فرنچ اوپن جیتنے کے حوالے سے نئی امید پیدا کی ہے۔

رولینڈ گیروز میں کھیلے جانے والے فرنچ اوپن کے مقابلوں میں سونگا نے روجر فیڈرر کو سات پانچ، چھ تین اور چھ تین سے شکست دے کر فرنچ اوپن کے سیمی فائنل تک رسائی حاصل کی۔

اگر سونگا فائنل جیت جاتے ہیں تو یہ تیس سال میں پہلا موقع ہو گا کہ کوئی فرانسیسی ٹینس کھلاڑی فرنچ اوپن کے مردوں کے مقابلے کا فاتح ہو گا۔

سیمی فائنل میں جو ولفرڈ سونگا کا مقابلہ ڈیوڈ فیرر سے ہو گا۔

لا مان تعلق رکھنے والے سونگا کے والد کونگو سے تعلق رکھتے ہیں جبکہ والدہ فرانسیسی ہیں۔

سونگا نے فیڈرر کو ہرانے کے بعد کہا کہ ’یہ بہت غیر معمولی بات ہے کہ میں یہاں جیتا ہوں میں نے کبھی خواب میں بھی نہیں دیکھا تھا کہ ایسا ہو گا اور آج یہ میرا دن تھا ایک ایسے چیمپیئن کے مقابلے میں جس نے سب کچھ جیتا ہوا ہے‘۔

انہوں نے مزید کہا کہ ’میں نہیں سمجھتا تھا کہ میں اس طرح کوئی سیٹ ہارے بغیر سیمی فائنل میں پہنچ جاؤں گا مگر فیرر نے بھی اب تک کوئی سیٹ نہیں ہارا ہے اور وہ بہت اچھی فارم میں ہیں۔‘

سونگا نے جیتنے کے کچھ دیر بعد بڑے فخر سے کہا کہ ’یہاں رولینڈ گیروز، فرانس میں ایک بڑے کورٹ میں جہاں بڑی تعداد میں لوگ موجود ہیں ایک دوپہر کو میں نے ابھی روجر فیڈرر کو شکست دی ہے۔‘

اس شکست کا مطلب ہے کہ فیڈرر ایک گرینڈ سلیم ٹینس ٹورنامنٹ سے باہر ہو گئے ہیں اور نو سال بعد ایسا ہوا ہے جب انہوں نے فرنچ اوپن میں شکست کھائی ہے۔

اس سے قبل سونگا اور فیڈرر کے مابین مقابلوں میں سے صرف تین ٹسونگا نے جیتے تھے۔

فیڈرر نے مقابلے کے بعد کہا کہ ’میں سمجھتا ہوں کہ تقریباً ہر چیز میں مشکل کا شکار تھا اور ایمانداری سے ذاتی طور پر میں بہت افسردہ ہوں اس میچ کے بارے میں اور جیسا کھیل میں نے پیش کیا۔‘

’مگر ایسا تو پھر ہوتا ہے میں نے کوشش کی کہ کیا غلط ہو رہا ہے مگر جو نے بہت اچھا کھیل پیش کیا اور مجھ پر دباؤ برقرار رکھا۔‘

اسی بارے میں