ڈیوس کپ: پاکستان کا ٹریبونل سے رجوع کا فیصلہ

Image caption اعصام الحق نے اس سال اپنی کارکردگی پر اطمینان کا اظہار کیا ہے

پاکستان نے انٹرنیشنل ٹینس فیڈریشن کی جانب سے ڈیوس کپ کا میچ دوبارہ کرانے کی درخواست مسترد کیے جانے کے بعد ورلڈ سپورٹس ٹریبونل سے رجوع کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔

یاد رہے کہ پاکستان نے ڈیوس کپ میں ایشیا اوشیانا گروپ دو کا میچ نیوزی لینڈ کے خلاف میانمار میں کھیلا تھا۔ جس میں سری لنکن ریفری نے کورٹ کو کھیل کے لیے ناقابلِ استعمال قرار دیتے ہوئے نیوزی لینڈ کو فاتح قرار دے دیا تھا۔

پاکستان کے سٹار کھلاڑی اعصام الحق نے پیرس سے بی بی سی کو دیے گئے انٹرویو میں کہا کہ انٹرنیشنل ٹینس فیڈریشن نے بدھ کو پاکستان کی اپیل مسترد کردی ہے۔ جس سے ظاہر ہے کہ وہ اپنے ریفری کو بچا رہے ہیں اوراب یہی راستہ بچا ہے کہ آئی ٹی ایف اور سری لنکن ریفری کے خلاف کھیلوں کے عالمی ٹریبونل سے رجوع کیا جائے۔

واضح رہے کہ پاکستان ٹینس فیڈریشن نے گزشتہ ماہ ڈیوس کپ کی کمیٹی میں ریفری کے فیصلے کے خلاف اپیل کی تھی۔ جس کے مسترد ہونے کے بعد اب آئی ٹی ایف کے بورڈ آف ڈائریکٹرز نے بھی پاکستان کے خلاف فیصلہ دیا ہے۔

اعصام الحق کا کہنا تھا کہ یہ معاملہ صرف ان کی ذات تک محدود نہیں بلکہ یہ پاکستان کامعاملہ ہے۔ جس کے ساتھ ناانصافی ہوئی ہے اور وہ انصاف کے حصول تک خاموش نہیں رہیں گے۔

اعصام الحق نے اس سال اپنی کارکردگی پر اطمینان کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ وہ ان پانچ ماہ میں ایک ٹورنامنٹ جیتے ہیں اور اُنہیں دو کے فائنلز میں شکست ہوئی ہے ۔

فرنچ اوپن کے مکسڈ ڈبلز میں شکست کے بارے میں انہوں نے کہا کہ ہارجیت کھیل کا حصہ ہے اور انٹرنیشنل سرکٹ اتنا آسان نہیں جیسا کہ بہت سے لوگ سمجھتے ہیں لیکن گرینڈ سلیم مقابلوں میں بھی ان کی کارکردگی اچھی رہی ہے۔

انہوں نے کہا کہ گراس کورٹ سیزن شروع ہونے والا ہے اور وہ ومبلڈن میں اچھے نتائج دینے کے لیے پُرامید ہیں۔

اعصام الحق نے اس بات پر خوشی کا اظہار کیا کہ دس گرینڈ سلیم ڈبلز ٹائٹلز جیتنےوالی خاتون کھلاڑی کارا بلیک نے ان کے ساتھ کھیلنے کی خود خواہش ظاہر کی جس کا انہوں نے کبھی سوچا بھی نہ تھا۔

انہوں نے کہا کہ کارا بلیک کے ساتھ کھیلنا اعزاز کی بات ہے کیونکہ وہ ایک تجربہ کار کھلاڑی ہیں اور انہیں ان کے ساتھ کھیلتے ہوئے بہت کچھ سیکھنے کا موقع ملا ہے۔

اسی بارے میں