روم: سو میٹر دوڑ میں بولٹ کو شکست

Image caption میرا جذبہ آج کل ویسا نہیں جیسا کہ ہوا کرتا تھا:یوسین بولٹ

دنیا کے تیز ترین ایتھلیٹ یوسین بولٹ کو روم میں منعقدہ ڈائمنڈ لیگ میں سو میٹر کی دوڑ میں امریکہ کے جسٹن گیٹلن کے ہاتھوں غیرمتوقع شکست کا سامنا کرنا پڑا ہے۔

جمعرات کی شب اطالوی دارالحکومت میں ہونے والی دوڑ گیٹلن نے نو اعشاریہ نو چار سیکنڈ میں جیتی۔

اولمپکس میں چھ طلائی تمغے جیتنے والے جمیکا کے ایتھلیٹ نے اس شکست پر کہا ہے کہ ان کے جذبے میں تو کچھ کمی آئی ہے لیکن وہ اگست میں ماسکو میں ہونے والی عالمی چیمپیئن شپ کے لیے فکرمند نہیں ہیں۔

چھبیس سالہ بولٹ گزشتہ ماہ ’ہیم سٹرنگ‘ کا شکار بھی ہوئے تھے اور جزائر کیمن میں ہونے والی سو میٹر کی دوڑ میں بھی بمشکل کامیابی حاصل کر پائے تھے۔

روم میں شکست کے بعد انہوں نے کہا کہ ’میں یہ کہوں گا کہ میرا جذبہ آج کل ویسا نہیں جیسا کہ ہوا کرتا تھا۔ آپ کو جوش دلانے کے لیے چیزیں تلاش کرنا پڑتی ہیں تاکہ آپ مزید محنت کریں۔‘

یوسین بولٹ نے 2012 کے لندن اولمپکس میں سو اور دو سو میٹر کے علاوہ چار ضرب سو میٹر کی ریلے ریس میں 3 طلائی تمغے جیتے تھے۔ وہ دو ہزار آٹھ کے بیجنگ اولمپکس میں بھی انہی تینوں دوڑوں میں کامیاب رہے تھے اور یوں ان کے اولمپکس طلائی تمغوں کی تعداد 6 ہے۔

یہ کسی عالمی مقابلے میں بولٹ کی 2011 کی عالمی چیمپیئن شپ کے بعد پہلی شکست ہے۔ اس ریس میں بولٹ مقررہ وقت سے قبل دوڑنے کی وجہ سے نااہل قرار دے دیے گئے تھے۔

بولٹ کو شکست دینے کے بعد جسٹن گیٹلن نے کہا کہ ’بولٹ کے ساتھ دوڑنا اور ان کا مقابلہ کرنا ایک اعزاز ہے۔ وہ گزشتہ چند برسوں میں اس کھیل کے لیے ایک روشن مثال رہے ہیں۔‘

خیال رہے کہ جسٹن گیٹلن کو ماضی میں ممنوعہ ادویات کے الزام کا سامنا رہا ہے اور ان پر 2001 میں دو سال اور 2006 میں چار سال کی پابندی بھی لگائی جا چکی ہے۔

اسی بارے میں