’پاکستانی بلے بازوں کو ذمہ داری کا مظاہرہ کرنا ہوگا‘

Image caption مصباح الحق کا کہنا تھا کہ پاکستان کے لیے باقی تمام میچ بہت اہم ہیں

لندن کے اوول کرکٹ گراؤنڈ پر آئی سی سی چیمپیئنز ٹرافی کے پہلے میچ میں ویسٹ انڈیز کے ہاتھوں دو وکٹوں سے شکست کا واضح سبق یہ ہے کہ پاکستان ٹیم کے بلے بازوں کو آئندہ آنے والے میچوں میں ذمہ داری کا مظاہرہ کرتے ہوئے مثبت انداز اختیار کرنا ہوگا۔

پاکستان ٹیم کے کپتان مصبح الحق نے یہ بات میچ کے بعد پریس کانفرنس میں ذرائع ابلاغ کے نمائندوں کے سوالوں کا جواب دیتے ہوئے کہی۔

مصباح الحق جو ایک مرتبہ پھر ایک روزہ میچوں میں اپنے کیریئر کی پہلی سنچری بنانے سے محروم رہے اس بات سے متفق نہیں تھے کہ پاکستان بیٹنگ میں کسی تبدیلی کی ضرورت ہے۔

پاکستان ٹیم کی بیٹنگ میں کسی ممکنہ تبدیلی پر ان کا کہنا تھا کہ ایک میچ میں ہار کے بعد پریشان نہیں ہونا چاہیے۔ انھوں نے کہا یہ صرف ایک میچ تھا اور آنے والے میچوں میں پاکستان کے بلے بازوں کو ذمہ داری کا مظاہرہ کرنا ہو گا اور مثبت انداز اختیار کرتے ہوئے بہتر کارکردگی دکھانا ہو گی۔

مصباح الحق کا کہنا تھا کہ پاکستان کے لیے باقی تمام میچ بہت اہم ہیں اور پاکستانی بلے بازوں کو ذمہ داری کا مظاہرہ کرنا ہوگا۔

انھوں نے یہ بھی کہا کہ ماضی میں پاکستان کی ٹیم مشکل صورت حال میں زیادہ بہتر کارکردگی دکھا چکی ہے اور اس ٹورنامنٹ میں بھی کوئی وجہ نہیں ہے کہ وہ ایک مرتبہ پھر مشکل صورت حال سے نکلنے کی صلاحیت کا مظاہرہ کرے۔

ویسٹ انڈیز کے خلاف میچ میں فیصلہ کن موڑ پاکستان کے کپتان کے مطابق ناصر جمشید کا کیچ تھا۔ ناصر جمشید اپنی نصف سنچری سکور کرنے کے بعد لانگ آف پر ایک اونچا شاٹ کھیلنے کی کوشش میں آؤٹ ہو گئے تھے۔

مصباح الحق نے کہا کہ یہ میچ کا فیصلہ کن موڑ تھا جہاں سے میچ پاکستان کے ہاتھ سے نکل گیا۔

انھوں نے کہا کہ اوول میں ایک ابر آلود صبح بیٹنگ کرنا آسان نہیں تھا۔ انھوں نے کہا کہ جلدی وکٹ گر جانے کے بعد حکمت عملی یہی تھی کہ دو سو تیس سے دو سو چالیس رن بنا لیے جائیں لیکن ناصر جمشید کے آؤٹ ہونے کے بعد اس منصوبہ پر عمل نہ ہو سکا۔

انھوں نے اپنے کیریئر کی پہلی سنچری نہ بنانے پر ناامید کا اظہار نہیں کیا۔ ان کا کہنا تھا کہ اہم بات میچ میں جیت ہوتی ہے۔

پاکستان کی ہار میں تین اہم عناصر کی نشاندھی کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ سب سے پہلے ٹاس کا ہارنا۔ اسکے بعد ناصر جمشید کا آؤٹ ہونا اور کرس گیل کا عرفان کی جارحانہ بالنگ کے سامنے انتالیس رن بنا جانا۔

مصباح الحق نے کہا کہ اگر پاکستان کی ٹیم صرف پندرہ سے بیس اور رن بنا جاتی تو میچ کا فیصلہ مختلف ہوتا۔ انھوں نے کہا کہ کم سکور کے باوجودہ پاکستان کے بالرز کی بالنگ کی بدولت ایک موقع پر میچ ففٹی ففٹی ہو گیا تھا۔

اسی بارے میں