’کرپشن کے خاتمے کے لیے سخت فیصلے ضروری‘

Image caption چند گندے انڈوں کی وجہ سے کرکٹ سے متنفر ہونے کی ضرورت نہیں: رمیز راجہ

پاکستانی کرکٹ ٹیم کے سابق کپتان رمیز راجہ کا کہنا ہے کہ کرکٹ میں کرپشن ختم کرنے کے لیے انتہائی سخت فیصلے کرنا ہوں گے۔

ان کا کہنا ہے کہ کرکٹ کے کھیل میں بےایمانی کسی ایک ملک کا مسئلہ نہیں ہے اور اس پر جتنا جلد ممکن ہو سکے قابو پایا جانا چاہیے۔

بی بی سی کے عبدالرشید شکور سے بات چیت میں رمیز راجہ نے کہا کہ ’اس میں کوئی شک نہیں کہ آئی پی ایل میں سپاٹ فکسنگ سکینڈل سے سب کو زبردست دھچکا پہنچا ہے یہ کسی ایک ملک کا مسئلہ نہیں ہے اور تین سال پہلے پاکستانی کرکٹرز اس میں ملوث ہوئے تھے۔‘

انہوں نے کہا ’اس ناسور کو ختم کرنے کے لیے سخت فیصلے کرنا ہوں گے اور نوجوان کرکٹرز کے لیے اپنے ملک اور کھیل سے محبت کا ماحول پیدا کرنا ہوگا۔‘

انہوں نے کہا کہ سترہ اور انیس سال سے کم عمر کے کرکٹرز میں ان کے والدین اور اساتذہ کے ذریعے یہ شعور پیدا کرنا ہوگا کہ ملک کے لیے کھیلنے سے بڑھ کر اور کوئی چیز نہیں اور جب آپ غیر معمولی کارکردگی کا مظاہرہ کریں گے تو پیسہ خود بخود آپ کو ملے گا۔

رمیز راجہ نے کہا کہ ’شارٹ کٹ کے ذریعے پیسہ بنانے کا رجحان خطرناک صورت اختیار کرگیا ہے جسے ختم کرنے کے لیے سخت انتظامیہ اور بے رحمانہ فیصلوں کی بہت ضرورت ہے۔‘

رمیز راجہ نے کہا کہ فکسنگ کے واقعات سے لوگوں کا کرکٹ کے کھیل سے اعتبار ضرور کم ہوا ہے اور ان کے جذبات کو ٹھیس پہنچی ہے لیکن چند گندے انڈوں کی وجہ سے کرکٹ سے متنفر ہونے کی بھی ضرورت نہیں۔

ان کا کہنا تھا کہ ننانوے فیصد کرکٹرز کھیل سے سچی محبت کرنے والے جذباتی ہیں اور یہ کرکٹ ہی ہے جس نے برصغیر میں کروڑوں لوگوں کو ایک دھاگے میں باندھ رکھا ہے۔

رمیز راجہ نے کہا کہ چیمپئنز ٹرافی میں وہ ویسٹ انڈیز کو ایک چونکادینے والی ٹیم کے طور پر دیکھ رہے ہیں جہاں تک پاکستان کا تعلق ہے تو اس کی اچھی کارکردگی کا انحصار ہمیشہ کی طرح بیٹنگ پر ہوگا۔

اسی بارے میں