خواتین کھلاڑیوں کے جنسی استحصال کی تفتیش

Image caption پی سی بی کی تین رکٹی ٹیم جنسی استحصال کے ایک معاملے میں جانچ کررہی ہے

پاکستانی کرکٹ بورڈ ایک علاقائی کرکٹ کلب کی خواتین کرکٹرز کی جانب سے جنسی استحصال کے الزام کے معاملے کی تفتیش کر رہا ہے۔

تاہم ملتان کرکٹ کلب (ایم سی سی) کے حکام نے ان الزامات کو مسترد کر دیا ہے اور اس نے خواتین کے رویوں پر سوال اٹھایا ہے اور ڈسپلن توڑنے کا الزام لگایا ہے۔

بی بی سی کے نامہ نگار کے مطابق حکام کا کہنا ہے کہ پی سی بی کی ایک تین رکنی ٹیم ملتان شہر میں اس معاملے کی شنوائی کر رہی ہے اور بدھ کے روز اپنی رپورٹ پیش کرے گی۔

لیکن یہ ظاہر نہیں ہے کہ آیا پی سی بی اس رپورٹ کو فوری طور پر منظر عام پر لائے گی یا نہیں۔

انسانی حقوق کے کارکنان کا کہنا ہے کہ کھیلوں میں خواتین کو جنسی طور پر حراساں کیے جانے کے واقعات وسیع پیمانے پر ہیں لیکن اس معاملے میں شاذونادر ہی شکایت ہوتی ہے۔

ملتان کرکٹ کلب سے وابستہ چار خواتین کرکٹرز نے جمعہ کو ایک ٹی وی ٹاک شو میں یہ الزامات لگائے۔

انھوں نے الزام لگایا کہ کلب کے چیئرمین اور ٹیم منتخب کرنے والے ایک شخص نے ان لڑکیوں کو علاقائی ٹیم میں شامل کرنے اور قومی ٹیم کے لیے ان کے ناموں کی سفارش کرنے کے بدلے ان سے جنسی عنایات کی مانگ کی۔

ایم سی سی کے چیئرمین مولوی سلطان عالم اور ٹیم سیلکٹر محمد جاوید دونوں بھی شو میں موجود تھے اور انھوں نے ان الزامات کو مسترد کیا۔

شو میں حصہ لینے والی ایک لڑکی سیما جاوید نے کہا کہ 70 سالہ سلطان عالم ایک بار ان کے پاس آئے اور ان سے کہنے لگے کہ ’کرن سے پوچھو اگر وہ مجھے ایک بوسہ دیتی ہے تو میں اسے انڈر-19 ٹورنامنٹ میں کھیلنے دوں گا‘۔

ان کا الزام ہے کہ صرف انھیں لڑکیوں کو ایم سی سی میں آگے بڑھایا جاتا ہے جو اعلیٰ عہدیداروں سے ’دوستی‘ رکھنے کے لیے رضامندی ظاہر کرتی ہیں۔

انھوں نے کہا: ’جب کچھ سال قبل میں نے ایم سی سی میں شمولیت اختیار کی تو ایک سینيئر کھلاڑی نادیہ حسن نے کلب کے حکام سے ہوشیار رہنے کو کہا تھا۔ انھوں نے کہا تھا کہ پہلے وہ تمہیں قومی ٹیم میں بھیجنے کا وعدہ کریں گے اور پھر تمہیں اپنے بیڈ روم میں لے جائیں گے۔‘

لیکن محمد جاوید نے ان پر الٹا الزام لگاتے ہوا کہا کہ ان کے رویے قابل اعتراض ہیں۔

انھوں نے سیما جاوید کا پولیس ریکارڈ پیش کرتے ہوئے کہا کہ کچھ عرصہ قبل وہ ایک لڑکی کی گمشدگی میں ملوث تھیں جس کے سبب کلب نے ان پر پابندی عائد کر دی ہے۔

بہر حال انھوں نے یہ اعتراف بھی کیا کہ جب گمشدہ لڑکی واپس ملی تو انھیں پھر سے کھیلنے کی اجازت دے دي گئي۔

انھوں نے کرن ارشاد پر ملتان میں لڑکیوں کے کالج میں شراب پہنچانے کا الزام لگایا جہاں انھوں نے ایک سپورٹس کا پروگرام منعقد کیا تھا۔ انھوں نے کہا کہ مز غفور کا داخلہ ابھی بھی کالج میں ممنوع ہے۔

Image caption بہترین کھلاڑیوں کو آگے آنے میں یہ ایک بڑی رکاوٹ ہے

پی سی بی کے اہلکار شکیل خان نے بی بی سی سے بتایا کہ یہ الزامات ایم سی سی میں خواتین کے دو گروپوں کی اندرونی سیاست کا نتیجہ ہیں۔

انھوں نے کہا: ’دونوں گروپوں کو اپنے اپنے موقف رکھنے کے لیے انکوائری کمیٹی کے سامنے پیش ہونے کے لیے کہا گیا ہے۔‘

پی سی بی حکام کا کہنا ہے کہ ان کے سامنے شکایت کرنے کے بجائے سرعام الزام لگاکر لڑکیوں نے ڈسپلن کی خلاف ورزی کی ہے۔

ملتان سے پاکستان کے ایک روزنامہ کے سپورٹس صحافی نے بی بی سی کو بتایا کہ دونوں کے الزامات میں سچائیاں ہیں۔

صحافی محمد ندیم قیصر نے کہا کہ ’خواتین کے کھیل میں جنسی طور پر حراساں کیا جانا وسیع پیمانے پر ہوتا ہے اور بہترین کھلاڑیوں کو آگے آنے میں یہ ایک بڑی رکاوٹ ہے۔‘

انھوں نے کہا کہ ’اس کا ایک نقصان یہ ہے کہ دوسرے درجے کی کھلاڑی جو جنسی اعانت کے لیے تیار ہوجاتی ہیں انہیں اکثر و بیشتر اہم پوزیشن مل جاتی ہے۔‘

اسی بارے میں