سپاٹ فکسنگ: محمد آصف کی اپیل مسترد

سپاٹ فکسنگ سکینڈل میں سزا یافتہ پاکستان کے سابق فاسٹ بالر محمد آصف کی سزا کے خلاف اپیل مسترد ہو گئی ہے۔

خیال رہے کہ 30 سالہ محمد آصف، 21 سالہ محمد عامر اور 28 سالہ سابق کپتان سلمان بٹ کو سنہ 2010 میں انگلینڈ کے خلاف ٹیسٹ میچ کے دوران جان بوجھ کر نو بالز کروانے پر جیل بھیج دیا گیا تھا۔

لندن میں کورٹ آف ایپل کے ججوں کا کہنا ہے کہ وہ پاکستانی کرکٹر محمد آصف کو دی جانے والی سزا کو تبدیل کرنے سے متفق نہیں ہیں۔

نومبر سنہ 2011 میں سلمان بٹ کو دو پاکستانی بالروں محمد آصف اور محمد عامر کے ہمراہ سنہ 2010 میں انگلینڈ کے خلاف ٹیسٹ میچ کے دوران جان بوجھ کر نو بالز کروانے پر جیل بھیج دیا گیا تھا۔

سپاٹ فکسنگ کے مقدمے کی سماعت کرنے والی عدالت نے سلمان بٹ کو ڈھائی سال، محمد آصف کو ایک سال اور محمد عامر کو چھ ماہ کی قید کی سزا سنائی تھی۔

محمد آصف کو گزشتہ سال مئی میں ایک سال کی سزا پوری ہونے کے بعد رہا کر دیا گیا تھا۔ ان پر کسی بھی قسم کی کرکٹ کھیلنے کی سات سالہ پابندی عائد ہے۔

محمد آصف پاکستان کی جانب سے 36 ایک روزہ میچ اور 23 ٹیسٹ میچ کھیل چکے ہیں اور ایک روزہ میچوں میں 46 اور ٹیسٹ میچوں میں 106 وکٹیں حاصل کر چکے ہیں۔

پاکستان کے سابق کپتان سلمان بٹ کو ڈھائی سال قید کی سزا سنائی گئی تھی اور ان پر آئی سی سی کی جانب سے کسی بھی قسم کی کرکٹ کھیلنے کی دس سالہ پابندی عائد ہے۔

سلمان بٹ اور محمد عامر کی جانب سے سپاٹ فکسنگ معاملے میں قید کی سزا کے خلاف اپیلیں کی تھیں جن کو لندن کی ایپلٹ کورٹ نے مسترد کرتے ہوئے ان کی سزا برقرار رکھی تھی۔

اسی سکینڈل میں ملوث چھتیس سالہ سپورٹس ایجنٹ مظہر مجید کو دو سال آٹھ ماہ کے لیے جیل بھیجا گیا تھا۔

اسی بارے میں