وارنر نے جھگڑنے پر معافی مانگ لی

Image caption ابتدائی طور پر وارنر کو بدھ کو نیوزی لینڈ کے خلاف میچ میں بطور سزا نہیں کھلایا گیا تھا

آسٹریلوی بلے باز ڈیوڈ وارنر نے برطانوی شہر برمنگھم کے ایک شراب خانے میں انگلش کرکٹر جوائے روٹ کو مکّا مارنے پر معافی مانگ لی ہے۔

26 سالہ وارنر کو اتوار کی صبح پیش آنے والے اس واقعے کے بعد دس جولائی تک ایشز سیریز کے پہلے ٹیسٹ میچ تک کے لیے معطل کر دیا گیا ہے اور ساتھ ہی انہیں 7 ہزار پاؤنڈ جرمانہ بھی کیا گیا ہے۔

جمعرات کو ایک پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے ڈیوڈ وارنر نے کہا کہ ’میں یہاں جو سے معافی مانگنے اور اپنا عمل قبول کرنے آیا ہوں۔‘

ان کا کہنا تھا کہ ’جو ہوا مجھے اس پر شدید افسوس ہے۔ میں اپنے ساتھی کھلاڑیوں، کرکٹ آسٹریلیا، شائقین اور خود اپنے اور اپنے خاندان کے لیے شرمندگی کی وجہ بنا ہوں۔‘

ڈیوڈ وارنر پر آسٹریلوی بورڈ کی جانب سے عائد کی گئی پابندی کا مطلب یہ ہے کہ اب وہ چیمپیئنز ٹرافی کے باقی میچوں میں آسٹریلیا کی طرف سے نہیں کھیل پائیں گے اور نہ ہی سمرسیٹ اور واركشائر کے خلاف ہونے والے پریکٹس میچوں کا حصہ ہوں گے۔

پریس کانفرنس میں وارنر نے کہا کہ ’میں نے اپنی سزا قبول کر لی ہے اور میں اپنے اعمال کا ذمہ دار ہوں۔ میں نے اس واقعے کے بعد سے جو سے ٹیکسٹ پیغامات پر بات کی ہے اور انہوں نے بھی میری معافی قبول کر لی ہے جس کے لیے میں ان کا شکرگزار ہوں۔‘

وارنر اب تک آسٹریلیا کی جانب سے 19 ٹیسٹ میچ کھیل چکے ہیں اور اس واقعے کے بعد ابتدائی طور پر وارنر کو بدھ کو نیوزی لینڈ کے خلاف میچ میں بطور سزا نہیں کھلایا گیا تھا۔

آسٹریلوی کپتان مائیکل کلارک کا کہنا ہے کہ وارنر کا رویہ ناقابلِ قبول تھا۔ انہوں نے کہا کہ ’اگرچہ ڈیوڈ کو دی گئی سزا سخت ہے لیکن حقیقت یہ ہے کہ آپ آسٹریلیا کی قومی ٹیم کے رکن ہیں۔‘

خیال رہے کہ حال ہی میں ڈیوڈ وارنر پر ٹوئٹر پر نازیبا تبصرے کرنے کے بھی الزامات لگے تھے۔

ڈیوڈ وارنر کے خلاف کیس کی سماعت میلبرن میں ٹیلي كانفرنس کے ذریعے کی گئی اور کرکٹ آسٹریلیا کے انتظامی معاملات کے افسر جسٹس گارڈن لیوس نے انہیں سزا سنائی۔

ادھر انگلینڈ اور ویلز کرکٹ بورڈ نے ایک بیان میں کہا ہے کہ اس واقعے میں اس کے کھلاڑیوں کا کوئی قصور نہیں تھا۔

اي سی بي نے ایک بیان میں کہا، ’پوری جانچ پڑتال کے بعد انگلش ٹیم کی انتظامیہ اس نتیجے پر پہنچی ہے کہ انگلش کھلاڑی اس واقعے کے لیے کسی بھی طریقے سے ذمہ دار نہیں ہیں۔ انہوں نے نہ تو حملہ کیا تھا، نہ ہی جوابی کارروائی کی۔‘

اسی بارے میں