زیادہ سے زیادہ ٹیسٹ میچز کی ضرورت

Image caption ٹیسٹ کرکٹ کھیل کر بیٹسمینوں کی مہارت میں اضافہ ہوتا ہے

پاکستانی کرکٹ ٹیم کے کپتان مصباح الحق کا کہنا ہے کہ کرکٹرز کی کارکردگی میں بہتری لانے کے لیے پاکستان کو زیادہ سے زیادہ ٹیسٹ میچز کی ضروررت ہے۔

واضح رہے کہ اس سال پاکستانی کرکٹ ٹیم نے اب تک صرف تین ٹیسٹ میچز کھیلے ہیں اور اس سال کے اواخر میں چھ ٹیسٹ میچز کھیلنے سے یہ تعداد نو ہوجائےگی جو دیگر کئی ٹیسٹ ممالک کے مقابلے میں بہت کم ہے۔

مصباح الحق نے لندن سے بی بی سی کو دیئے گئے انٹرویو میں کہا کہ پاکستان کا بہت کم ٹیسٹ میچز کھیلنا ایک اہم معاملہ ہے جس پر آئی سی سی اور پاکستان کرکٹ بورڈ کو سوچنا ہوگا کہ کرکٹرز کی ترقی کے لئے ٹیسٹ کرکٹ بہت ضروری ہے۔

مصباح الحق نے کہا کہ کرکٹرز خاص کر بیٹسمینوں میں پختگی زیادہ سے زیادہ ٹیسٹ کرکٹ کھیل کر آتی ہے۔ بیٹسمینوں کا سخت امتحان بھی ٹیسٹ کرکٹ میں ہوتا ہے اور ٹیسٹ میچز کھیل کر ان کی مہارت میں اضافہ ہوتا ہے اور ان کے کھیل میں نکھار پیدا ہوتا ہے۔

پاکستانی کرکٹ ٹیم کے کپتان نے کہا کہ پاکستان میں بیٹسمین پر اس لیے زیادہ پریشر ہوتا ہے کہ دو یا تین اننگز ہی اس کے کیریئر کا فیصلہ کردیتی ہیں اور اس کی پچھلی کارکردگی بھلادی جاتی ہے ایسا نہیں ہونا چاہئے۔

مصباح الحق نے کہا کہ دو تین خراب اننگز کے سبب کوئی بھی اچھا بیٹسمین خراب نہیں ہوجاتا اور دو یا تین اچھی اننگز کھیل کر کوئی ورلڈ کلاس بیٹسمین نہیں بن جاتا یہ ایک مسلسل عمل ہے جس میں بیٹسمین کو مستقل مزاجی دکھانی پڑتی ہے اس کا احساس بیٹسمین کو بھی کرنا چاہیے۔

مصباح الحق نے پاکستانی بیٹسمینوں کی مایوس کن کارکردگی کے بارے میں کہا کہ انہیں جتنا بھی سمجھالیں اور پریکٹس کرالیں یہ خامیاں اسی وقت درست ہوں گیں جب وہ سخت اور مختلف کنڈیشنز میں کھیلیں گے یہ اسی وقت ممکن ہے کہ آپ زیادہ سے زیادہ انٹرنیشنل کرکٹ مختلف کنڈیشنز میں کھیلیں اور آپ کی فرسٹ کلاس کرکٹ بھی مشکل اور سخت ہو۔

مصباح الحق نے اس بات پر افسوس ظاہر کیا کہ ان کی بیٹنگ چیمپئنز ٹرافی میں ٹیم کے کام نہ آسکی ۔انہیں خوشی ہوتی اگر ٹیم بھی اچھی کارکردگی کا مظاہرہ کرتی۔

یاد رہے کہ مصباح الحق نے تین میچز میں دو نصف سنچریاں سکور کیں۔

مصباح الحق نے کہا کہ چیمپئنز ٹرافی کے میچز جس موسم میں کھیلے گئےاس میں بیٹسمینوں کے لیے مشکلات رہیں تاہم چار فیلڈرز کے دائرے سے باہر رہنے کا قانون فیلڈنگ سائیڈ کے لئے مسئلہ نہیں بنا البتہ جب کنڈیشنز آسان ہونگی اور وکٹ بیٹسمینوں کے لیے سازگار ہوگی اسوقت فیلڈنگ سائیڈ کے لیے مشکلات پیدا ہونگی۔

مصباح الحق نے واضح کردیا کہ ویسٹ انڈیز میں پاکستانی ٹیم کے اچھے نتائج کا انحصار بیٹسمینوں کی کارکردگی پر ہوگا۔اگر بیٹسمینوں نے ذمہ داری سے بیٹنگ کی تو پاکستانی ٹیم کی جیت کے امکانات کافی روشن ہیں۔

انہوں نے کہا کہ ویسٹ انڈیز اسوقت ایک متوازن ٹیم ہے جس کے پاس آل راؤنڈرز بھی ہیں اور سنیل نارائن کے آنے سے اسپن بولنگ کا شعبہ بھی مضبوط ہوا ہے اور حالیہ برسوں میں اس نے ون ڈے اور ٹی ٹوئنٹی میں اچھی کارکردگی کا مظاہرہ کیا ہے۔

اسی بارے میں