سلمان بٹ کا اعتراف، قوم سے معافی مانگ لی

پاکستان کرکٹ کے سابق کپتان سلمان بٹ نے پہلی مرتبہ سپاٹ فکسنگ میں ملوث ہونے کا اعتراف کرتے ہوئے قوم سے معافی مانگی ہے۔

لاہور میں پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے سلمان بٹ نےسپاٹ فکسنگ میں ملوث ہونے کا اعتراف کرتے ہوئے کہا ’وہ آئی سی سی ٹریبیونل کے ہر فیصلے کو تسلیم کرتے ہیں اور قوم سے معافی مانگتے ہیں‘۔

ان کا کہنا تھا ’ میں آج تمام پاکستانیوں اور پورے دنیا میں موجود کرکٹ کے شائقین سے اپنی غلطی کی معافی مانگتا ہوں‘۔

خبر رساں ایجنسی رائیٹرز کے مطابق سابق کپتان نے کہا کہ انھوں نے شائقین کی دل آزاری کی، جس پر وہ شرمندہ ہیں، کرکٹ کھیلنے والوں کو سپاٹ فکسنگ سے دور رہنا چاہیئے تا کہ انھیں اپنے کیرئیر میں کبھی پریشانی کا سامنا نہ کرنا پڑے۔

سلمان بٹ نے کہا کہ ان کی سزا میں دو سال باقی ہیں اور انھوں نے انٹرنیشنل کرکٹ کونسل سے ڈومیسٹک کرکٹ کھیلنے کی اجازت دینے کی بھی درخواست کی ہے۔

خبر رساں ایجنسی اے پی کے مطابق سابق کپتان نے کہا کہ وہ آئی سی سی ٹریبیونل کے ہر فیصلے کو تسلیم کرتے ہوئے قوم سے معافی مانگتے ہیں۔

انھوں نے کہا کہ وہ پاکستان کرکٹ بورڈ اور آئی سی سی کے بحالی کے پروگرام میں شرکت کے لیے تیار ہیں۔

خیال رہے کہ 30 سالہ محمد آصف، 21 سالہ محمد عامر اور 28 سالہ سابق کپتان سلمان بٹ کو سنہ 2010 میں انگلینڈ کے خلاف ٹیسٹ میچ کے دوران جان بوجھ کر نو بالز کروانے پر جیل بھیج دیا گیا تھا۔

سپاٹ فکسنگ کے مقدمے کی سماعت کرنے والی عدالت نے سلمان بٹ کو ڈھائی سال، محمد آصف کو ایک سال اور محمد عامر کو چھ ماہ کی قید کی سزا سنائی تھی۔

پاکستان کے سابق کپتان سلمان بٹ کو ڈھائی سال قید کی سزا سنائی گئی تھی اور ان پر آئی سی سی کی جانب سے کسی بھی قسم کی کرکٹ کھیلنے کی دس سالہ پابندی عائد ہے۔

سلمان بٹ، محمد آصف اور محمد عامر کی جانب سے سپاٹ فکسنگ معاملے میں قید کی سزا کے خلاف اپیلیں کی تھیں جن کو لندن کی ایپلٹ کورٹ نے مسترد کرتے ہوئے ان کی سزا برقرار رکھی تھی۔

سپاٹ فکسنگ میں سلمان بٹ کے علاوہ محمد عامر، محمد آصف اور ان کرکٹرز کے مبینہ ایجنٹ مظہرمجید کو بھی جیل ہوئی تھی۔ تینوں کرکٹرز جیل سے باہر آ چکے ہیں البتہ مظہر مجید ابھی بتیس ماہ قید کی سزا کاٹ رہے ہیں۔

اسی بارے میں