پہلی ٹیسٹ چیمپیئن شپ کا میزبان انگلینڈ

Image caption ٹیسٹ چیمپیئن شپ کے افتتاحی ٹورنامنٹ کی میزبانی انگلینڈ کریگا

انٹرنیشنل کرکٹ کونسل (آئی سی سی) نے اس بات کی تصدیق ہے کہ انگلینڈ افتتاحی عالمی ٹیسٹ چیمپیئن شپ اور دو ہزار سترہ میں خواتین کے عالمی کپ کی میزبانی کرےگا۔

آئي سی سی نے ورلڈ ٹیسٹ چیمپیئن شپ کو پچاس اوور کی چیمپیئنز ٹرافی کے متبادل کے طور پر پیش کیا ہے۔

کرکٹ سے متعلق عالمی تنظیم آئی سی سی نے حال ہی میں انگلینڈ میں ہونے والی چیمپیئنز ٹرافی کی کامیابی کو تسلیم کیا لیکن کہا یہ اپنی نوعیت کی آخری ٹرافی تھی۔

تنظیم نے اس موقع پر کئی اہم اعلانات کیے ہیں جس کے مطابق دو ہزار اکیس کی ٹیسٹ چیمپیئن شپ بھارت میں کھیلی جائیگی۔

دوہزار تیئس کا ورلڈ کپ بھی بھارت میں کھیلا جائیگا جبکہ دوہزار اکیس میں خواتین کے ورلڈ کپ کی میزبانی کا حق نیوزی لینڈ کو دیا گیا ہے۔

دو ہزار بیس کا ٹی ٹونٹی ورلڈ کپ آ‎سٹریلیا میں کھیلا جائیگا جبکہ دو ہزار اٹھارہ میں ہونے والاخواتین کا ٹوئنٹی 20 ورلڈ کپ ویسٹ انڈیز میں اور دو ہزار بائیس کا جنوبی افریقہ میں ہوگا۔

دو ہزار سولہ کا ٹی ٹوئنٹی ورلڈ کپ بھارت میں ہوگا جس کے لیے کوالیفائنگ میچز کی میزبانی آئرلینڈ اور سکاٹ لینڈ مشترکہ طور پر دو ہزار پندرہ میں کریں گے۔

آئی سی سی کے چيف ایگزیکٹیو ڈیوڈ رچرڈسن کا کہنا تھا '' دو ہزار تیئس تک کے لیے پر جوش شیڈولز کی تصدیق کرنے پر ہمیں بہت خوشی ہے۔''

مسٹر رچرڈسن نے کہا کہ بورڈ نے چمیئنز ٹرافی کو ورلڈ ٹیسٹ چیمپیئن شپ سے بدلنے پر اتفاق کیا ہے۔

ان کا کہنا تھا '' اب جبکہ ورلڈ چیمپیئن شپ کی تصدیق ہوچکی ہے، ہم کھیلنے کی طور طریقے اور کوالیفائی کرنے کے معیار کو طے کرنے کے لیے کام کریں گے اور اسے آئی سی سی کے بورڈ کو سونپیں گے تاکہ انہیں مناسب وقت میں منظوری دی جاسکے۔''

آئی سی سی کو امید تھی کہ وہ دو ہزار تیرہ میں ہی ٹیسٹ کھیلنے والی چار سب سے اچھی ٹیموں کے ساتھ ٹیسٹ چیمپیئن شپ کو متعارف کریگي۔

لیکن چونکہ آئي سی سی کے کمرشل پارٹنرز کی جانب سے اس کی حمایت نہیں ملی اس لیے اسے دو ہزار سترہ تک کے لیے موخر کر دیا گيا۔

آئی سی سی نے بنگلہ دیش میں سٹیڈیم کی تعمیر اور دو مقامات جہاں پر میچ ہونے ہیں ان کی حالت کی بہتری میں پیش رفت پر تشویش ظاہر کی ہے جہاں دو ہزار چودہ میں خواتین اور مردوں کے ٹوئنٹی ٹوئنٹی ورلڈ کپ کے میچز ہونے طے ہیں۔

اس طرح کی بھی اطلاعات ہیں کہ اگر بنگلہ دیش میں تعمیری کا کام مکمل نہ ہوا تو ممکنہ طور سری لنکا اور جنوبی افریقہ کو میزبانی کے لیے متبادل کے طور پر تیار رہنے کو کہا گيا ہے۔

لیکن آئی سی سی کے بورڈ کا کہنا ہے کہ وہ اس سے متعلق مزید معائنے اور تفتیش کے بعد آئندہ اگست میں کوئی فیصلہ کریگي۔

آئی سی سی کی جانب سے عالمی سطح کے کھیلوں کے قواعد و ضوابط میں بھی کئي ایک تبدیلیاں کی گئي ہیں جن کا اطلاق یکم اکتوبر سے ہونے والا ہے۔

اگر امپائر کو پتہ چلے کہ گيند کی حالت بدل دی گئی ہے اور اس کوئي عینی شاہد نہ ملے کہ کس کھلاڑی نے گيند سے چھیڑ چھاڑ کی ہے تو اس پر دو قدم اٹھائے جا سکتے ہیں۔

امپائر اس صورت میں فیلڈنگ کپتان کو پہلی اور آخری وارننگ دیتے ہوئےگيند تبدیل کر سکتا ہے اور پھر آگے اس طرح ہونے پر امپائر بلے باز کی پسند کے مطابق گيند بدلنے کے ساتھ ہی وہ بیٹنگ سائڈ کو پانچ رن بطور انعام بھی دے سکتاہے۔

اکتوبر سے وکٹ گرنے پر ٹی وی امپائر فل ٹاس گيند پر کمر سے اونچے ہونے پر اور باؤنسر کے لیے کندھوں سے اوپر ہونے پر ممکنہ نو بال کی بھی جانچ پڑتال کر سکتا ہے۔

اسی بارے میں