مخصوص چہروں کی سلیکشن آخر کب تک

Image caption ہر کوئی اپنی کرسی بچانے یا اسے مضبوط کرنے میں لگا ہوا ہے:وقار یونس

پاکستانی کرکٹ ٹیم کے سابق کپتان اور کوچ وقاریونس کا کہنا ہے کہ پاکستانی کرکٹ ٹیم میں چند مخصوص چہروں کا بار بار سلیکشن ڈومیسٹک کرکٹ میں عمدہ کارکردگی کا مظاہرہ کرنے والے باصلاحیت کھلاڑیوں کے ساتھ مذاق ہے اور یہ ظاہر کرتا ہے کہ پاکستانی کرکٹ کا مستقبل روشن نہیں۔

وقاریونس نے سڈنی سے بی بی سی کو دیے گئے انٹرویو میں کہا کہ ٹیم سلیکشن میں مستقل مزاجی نہیں ہے۔

’جن کرکٹرز کو ایک ایونٹ کے لیے ڈراپ کردیا جاتا ہے وہ اگلے ہی ایونٹ میں بغیر ڈومیسٹک کرکٹ کھیلے اور کارکردگی دکھائے بغیر ٹیم میں شامل کر لیے جاتے ہیں اس کا سبب مختلف نوعیت کے دباؤ ہیں‘۔

وقاریونس نے کہا کہ یا تو پاکستان کی ڈومیسٹک کرکٹ میں اب باصلاحیت کھلاڑی نہیں رہے ہیں یا پھر اکیڈمیز بنا کر جو بلند بانگ دعوے کیے گئے تھے وہ سب دکھاوا ہے۔

وقار یونس نے کہ جب تک باصلاحیت کھلاڑیوں کو مواقع نہیں ملیں گے ان کے کھیل میں نکھار کیسے آئے گا اور وہ ٹیم میں جگہ کیسے بنائیں گے اس وقت صورتحال یہ ہے کہ چند مخصوص چہرے بار بار ٹیم میں واپس آ جاتے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ’بورڈ نے ابھی تک مصباح الحق کے بعد کسی کپتان کو مستقبل کے لیے تیار کرنے کے بارے میں بھی نہیں سوچا۔ پاکستان کرکٹ بورڈ کا حال یہ ہے کہ آج کی فکر کرو کل دیکھا جائے گا‘۔

وقار یونس نے کہا کہ جب وہ پاکستانی ٹیم کے کوچ تھے انہوں نے اپنے ساتھیوں کے ساتھ بڑی محنت سے ٹیم تیار کی دو ہزار دس کے دورۂ انگلینڈ میں متعدد نئے کھلاڑیوں کو موقع دیا گیا جو آج بھی ٹیم کا حصہ ہیں۔

انہوں نے کہا کہ آسٹریلوی ٹیم یقیناً اس وقت مشکل وقت سے گزر رہی ہے لیکن انہیں یقین ہے کہ مستقبل میں یہ ٹیم ایک اچھی شکل میں موجود ہوگی لیکن جہاں تک پاکستانی کرکٹ ٹیم کا تعلق ہے۔ منصوبہ بندی کے فقدان کے سبب وہ یقین سے نہیں کہہ سکتے کہ یہ ٹیم اگلے ورلڈ کپ میں کوئی پوزیشن حاصل کر سکے۔

وقاریونس نے کہا کہ پاکستانی ٹیم کا مسئلہ صرف بیٹنگ نہیں بلکہ فٹنس بھی بڑا ہے۔خامیوں اور کمزوریوں کو دور کرنے کے لیے حکمت عملی موجود نہیں کیونکہ ہر کوئی اپنی کرسی بچانے یا اسے مضبوط کرنے میں لگا ہوا ہے۔

اسی بارے میں