دانش کنیریا کی تاحیات پابندی کے خلاف اپیل مسترد

پاکستان کے سابق لیگ سپنر دانش کنیریا کی انگلش اینڈ ویلز کرکٹ بورڈ کی جانب سے تاحیات کرکٹ کھیلنے کی پابندی کے خلاف اپیل مسترد کر دی گئی۔

کرکٹ کے ایک ڈسپلنیری پینل نے سنہ 2012 میں 32 سالہ کرکٹر کو انگلش کاؤنٹی ایسیکس کی جانب سے کھیلتے ہوئے بدعنوانی یعنی سپاٹ فکسنگ کے الزامات کے تحت کرکٹ کھیلنے سے منع کیا تھا۔

دانش کنیریا سنہ 2009 میں کھیلے گئے ایک ون ڈے میچ کے دوران اپنے ساتھی کھلاڑی مرون ویسٹ فیلڈ پر مخصوص رنز دینے کے لیے ڈباؤ ڈالنے کے مرتکب بھی پائے گئے تھے۔

پچیس سالہ مرون ویسٹ فیلڈ کو ایک میچ میں اپنی صلاحیت سے کم کھیل کا مظاہرہ کرنے کا مرتکب پایا گیا اور ان پر پانچ سال کی پابندی لگائی گئی تھی لیکن اب انھیں تین سال کے بعد کلب کرکٹ کھیلنے کی اجازت ہوگی۔

اولڈ بیلی میں سماعت کے بعد 24 سالہ بالر ویسٹ فیلڈ نے چار مہینے قید کی سزا میں سے دو ماہ جیل میں بھی گزارے۔

دانش کنیریا کے خلاف اپیل کی سماعت دسمبر میں ہونا تھی تاہم اسے اس لیے ملتوی کر دیا گیا کیونکہ ای سی بی مرون ویسٹ فیلڈ کو مقدمے میں حصہ لینے پر قائل کرنے میں ناکام رہا تھا۔

انگلینڈ اور ویلز کرکٹ بورڈ کے چیئرمین جائلز کلارک جنھوں نے سنہ 2002 سے 2010 کے دوران آئی سی سی کی پاکستان میں ٹاسک فورس کی جانب سے کام کیا کہا ’اس کیس میں ڈسپلنیری پینل کی تحقیقات سے ظاہر ہوتا ہے کہ کنیریا نے کرکٹ میں سپاٹ فکسر کو بھرتی کرنے کا کام کیا اور اس کے لیے انھوں نے اپنی سنیارٹی اور بین الاقوامی تجرے کو استمعال کیا‘۔

انھوں نے مزید کہا ’ہم نے افسوس کے ساتھ یہ بات نوٹ کی ہے کہ کنیریا نے اپنے خلاف پیش کیے جانے والے ٹھوس ثبوت کے باوجود نہ ہی اپنے جرم کا اقرا کیا اور نہ ہی احساسِ ندامات کا اظہار کیا‘۔

جائلز کے مطابق یہ صحیح وقت ہے کہ کننریا پاکستان میں کرکٹ شائیقین کو گمراہ کرنے سے باز آ جائیں۔

دوسری جانب ای سی بی کے چیف ایگزیکٹو ڈیوڈ کولیر نے کہا ’میں پینل کے فیصلے کا خیرمقدم کرتا ہوں، بدعنوانی کی کھیل میں کوئی جگہ نہیں ہے۔ ای سی بی آئندہ بھی ہوشیار رہے گی اور اس حوالے کچھ بھی برداشت نہیں کرنے کی پالیسی اپنائے گی‘۔

پاکستان کے سابق کرکٹر دانش کنیریا اپنے خلاف عائد کیے والے سپاٹ فکسنگ کے الزامات میں ملوث ہونے سے انکار کرتے رہے ہیں۔

واضح رہے کہ سنہ 2000 سے سنہ 2010 کے دوران 261 وکٹ لینے والے دانش کنیریا کے خلاف عائد تاحیات پابندی کو بین الاقوامی طور پر تسلیم کر لیا گیا ہے۔

اسی بارے میں