’پاکستان کی رکنیت معطل کرانے کی کوشش کی گئی‘

پاکستان کرکٹ بورڈ کے عبوری چیئرمین نجم سیٹھی نے تصدیق کی ہے کہ آئی سی سی میں پاکستان کی رکنیت معطل کرانے کی کوشش کی گئی اور اس کے پس پردہ پاکستانی کرکٹ کے کچھ سابقہ آفیشلز شامل تھے۔

خیال رہے کہ ایک عدالتی حکم کے ذریعے ذکا اشرف کی معطلی کے بعد نجم سیٹھی پاکستان کرکٹ بورڈ کے عبوری چیئرمین مقرر کیے گئے اور اس حیثیت میں انہوں نے آئی سی سی کے سالانہ اجلاس میں پاکستان کی نمائندگی کی۔

نجم سیٹھی نے لندن سے وطن واپسی پر صحافیوں سے بات کرتے ہوئے کہا ’انھیں اس بات پر دکھ ہے کہ ان کی تقرری کو تسلیم نہ کرنے والوں نے یہاں سے بیٹھ کر یہ کوشش کر ڈالی کہ آئی سی سی پاکستان کی رکنیت معطل کر دے لیکن جب انھوں نے آئی سی سی کو تمام حالات و واقعات سے آگاہ کیا تو صورت حال تبدیل ہوگئی اور آئی سی سی نےان کی تقرری کو تسلیم کر لیا۔

نامہ نگار عبدالرشید شکور کے مطابق نجم سیٹھی نے پاکستان کی رکنیت معطل کرنے کے لیے آئی سی سی سے رابطہ کرنے والوں کے نام بتانے سے انکار کردیا اور کہا کہ ان میں پاکستانی کرکٹ کے چند سابق آفیشلز شامل تھے۔

انھوں نے کہا کہ وہ عبوری طور پر کرکٹ بورڈ کے چیئرمین بنے ہیں اور وہ سابق چیئرمین ذکا اشرف اور عدالت میں ان کی تقرری کو چیلنج کرنے والے پٹیشنرز کے ساتھ مل بیٹھ کر مسائل حل کرنا چاہتے ہیں۔ انھوں نے واضح کیا کہ آئی سی سی ان کے ساتھ ہے وہ کسی سابق چیئرمین یا پٹیشنر کے ساتھ نہیں ہے۔

نجم سیٹھی نے کہا کہ پاکستان میں اس وقت حالات ایسے نہیں کہ فوری طور پر بین الاقوامی کرکٹ بحال ہوسکے اس کے علاوہ سپاٹ فکسنگ سکینڈل نے بھی پاکستان کا امیج متاثر کیا ہے لہذا آئی سی سی کوئی بات سننے کے لیے تیار نہیں تاہم اس نے پاکستان کرکٹ بورڈ سے کہا ہے کہ جیسے ہی پاکستان دہشت گردی پر مکمل قابو پالیتا ہے وہ پاکستان میں انٹرنیشنل کرکٹ کے بارے میں سوچے گی۔

کرکٹ بورڈ کے عبوری چیئرمین نے کہا کہ بھارت آئی سی سی میں چھایا ہوا ہے اسے اپنی بات خود کرنے کی ضرورت ہی نہیں پڑتی ہر کوئی اس کی بات کرتا ہے اس کا سبب آئی پی ایل ہے جس میں پیسہ حکمرانی کر رہا ہے۔

نجم سیٹھی نے کہا کہ آئی سی سی کے متعدد اراکین سے جب انہوں نے بات کی تو انہیں مشورہ دیا گیا کہ وہ بھارت سے بات کریں اپنے وزیراعظم سے کہیں کہ وہ بھارتی حکومت سے بات کریں کیونکہ پاکستان بھارت کے ساتھ امن رکھے گا تو بھارت اپنے کچھ میچ پاکستان کے ساتھ شیئر کرسکتا ہے۔

اسی بارے میں