’ہاکی کو بچانے کے لیے نئے لوگ ضروری‘

Image caption ملائشیا میں کھیلی جانے والی ورلڈ ہاکی لیگ میں پاکستانی ٹیم آٹھ ٹیموں میں سے ساتویں نمبر پر آئی تھی

پاکستان کے سابق ہاکی اولمپیئنز نے قومی ہاکی ٹیم کی شرمناک کارکردگی پر وزیراعظم سے اپیل کی ہے کہ ملک میں ہاکی کے کھیل سے مذاق کرنے والی فیڈریشن کو فوری طور پر گھر بھیج دیا جائے۔

خیال رہے کہ ملائشیا میں کھیلی جانے والی ورلڈ ہاکی لیگ میں پاکستانی ٹیم آٹھ ٹیموں میں سے ساتویں نمبر پر آئی تھی اور اب آئندہ سال ورلڈ کپ کے لیے کوالیفائی کرنے کے لیے اس کے پاس صرف ایک ہی راستہ رہ گیا ہے کہ وہ ہر صورت ایشیا کپ جیتے۔

سابق کپتان اصلاح الدین اور سمیع اللہ نے بی بی سی اردو سروس کے پروگرام کھیل کے میدان میں گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان ہاکی فیڈریشن کے اربابِ اختیار کی غیرسنجیدگی کے سبب اس وقت پاکستانی ٹیم عالمی کپ میں کوالیفائنگ کے لیے ترس رہی ہے اور ٹیم منیجمنٹ یہ راگ الاپ رہی ہے کہ وہ ایشیا کپ جیت لیں گے۔

اصلاح الدین نے کہا کہ وزیراعظم پاکستان ہاکی فیڈریشن کے پیٹرن ہیں اور انھیں اس ناطے قومی ہاکی کی بربادی پر فوری توجہ دینی چاہیے کیونکہ قاسم ضیا، آصف باجوہ اور رانا مجاہد کو پیپلز پارٹی کے حکومت کے دوران پانچ سال ملے لیکن وہ ہاکی کی بہتری کے لیے کچھ بھی نہ کرسکے۔

سابق ہاکی اولمپیئن نے کہا کہ قومی ہاکی پر توجہ دینے کے بجائے قاسم ضیا نے اپنی توانائی پاکستان اولمپک ایسوسی ایشن کے الیکشن پر صرف کردی جس کا نتیجہ یہ نکلا کہ اولمپکس میں ٹیم آٹھویں نمبر پر آئی اور اب عالمی کپ سے باہر ہونے کے خطرے سے بھی دوچار ہوگئی ہے۔

اصلاح الدین نے کہا کہ ورلڈ ہاکی لیگ میں آٹھ ٹیموں میں پاکستان کے لیے سنہری موقع تھا کہ وہ پہلی تین پوزیشنز میں سے کوئی ایک حاصل کرکے عالمی کپ میں جگہ بناتی لیکن وہ صرف جنوبی افریقہ جیسی کمزور ترین ٹیم کو ہی ہرا سکی۔

سابق کپتان سمیع اللہ کا کہنا ہے کہ ایشیا کپ میں بھارت، جنوبی کوریا، جاپان اور ملائشیا کے مقابلے میں پاکستان کے لیے جیت بہت مشکل ہوگی۔

انھوں نے کہا کہ یہ فیڈریشن وہ کام کر جائے گی اور ایسے ریکارڈ بنا جائے گی کہ جب اگلی فیڈریشن آئے گی تو اسے حالات بہتر کرنے میں ہی پانچ سال لگ جائیں گے۔

سمیع اللہ نے کہا کہ اس فیڈریشن کو صرف ایشین گیمز کے گولڈ میڈل کا زعم ہے لیکن باقی تمام عرصے میں بڑے بڑے ٹورنامنٹس میں آخری نمبر پر آنے کی عادت نے مذاق والی صورت حال پیدا کر دی ہے۔

انھوں نے کہا کہ اب لوگ مذاق میں کہتے ہیں کہ مبارک ہو پاکستانی ٹیم پہلے یا دوسرے نمبر پر آئی لیکن نیچے سے۔

ان کے مطابق ’اس الٹی گنتی میں ہم نے ورلڈ کپ میں بارہویں، اولمپکس میں آٹھویں پوزیشن لیتے اور دیگر کئی ٹورنامنٹس میں ٹیم کو شرمناک طریقے سے ہارتے دیکھ لیا ہے۔ موجودہ ٹیم منیجمنٹ اور کھلاڑیوں سے کسی اچھی کارکردگی کی توقع رکھنا فضول ہے کیونکہ کھلاڑیوں میں فٹنس کی کمی ہے اور کوچنگ سٹاف عصر حاضر کے تقاضوں کے تحت سکھانے کی اہلیت نہیں رکھتا۔

انھوں نے کہا کہ اس فیڈریشن کی اب یہی کوشش ہوگی کہ کسی طرح پاکستانی ٹیم کی ورلڈ کپ میں شرکت کو یقینی بنانے کے لیے وائلڈ کارڈ حاصل کر لیا جائے جو وہ پہلے بھی کر چکی ہے۔

سمیع اللہ نے کہا کہ فیڈریشن نے دعوے تو بہت کیے لیکن عملی اقدامات اس کے برعکس رہے ۔ اکیڈمیز میں ایسے کوچز بھرتی کیے گئے جو مفت کی تنخواہیں لیتے رہے اور بلیک بورڈ پر دو منٹ کھڑے ہوکر لیکچر نہیں دے سکتے۔

دونوں سابق اولمپئنز کا کہنا ہے کہ وقت آگیا ہے کہ قومی ہاکی کو مزید تباہی سے بچانے کے لیے نئے لوگ سامنے آئے کیونکہ موجودہ لوگ اپنی باری لے چکے۔

اسی بارے میں