آئی پی ایل سپاٹ فکسنگ، ثبوت عدالت میں پیش

Image caption پولیس نے مئی میں راجستھان رائلز کےتین کھلاڑی سری شانتھ، اجیت چنڈیلا اور انکیت چاون کوگرفتار کیا تھا

دلی پولیس نے آئی پی ایل میں مبینہ سپاٹ فکسنگ کےمعاملے میں ٹیسٹ بولر سری شانتھ اور انڈرورلڈ ڈان داؤد ابراہیم سمیت 39 افراد کے خلاف الزامات عدالت میں پیش کر دیے ہیں۔

دلی پولیس کئی ماہ سےاس مقدمے کی تفتیش کر رہی تھی اور مئی 2013 میں آئی پی ایل کی ٹیم راجھستان رائلز کے تین کھلاڑیوں کو حراست میں لے کر تحقیقات کی تھیں۔

کھلاڑیوں پر مجرمانہ سازش، دھوکہ دہی اور بدیانتی کا الزام عائد کیا گیا ہے۔

استغاثہ نے سابق بھارتی کپتان راہول ڈراوڈ کا نام بطورگواہ پیش کیا ہے۔

خبر رساں ادارے اے ایف پی کے مطابق استغاثہ نے جن لوگوں کے خلاف ثبوت عدالت میں پیش کیے ہیں ان میں راجستھان رائلز کے تین کھلاڑی سری شانتھ، اجیت چنڈیلا اور انکیت چاون شامل ہیں۔

Image caption پولیس نے داؤد ابراہیم کو ملزمان کی فہرست میں شامل کیا ہے

سری شانتھ نے بھارت کی جانب سے ستائیس ٹیسٹ اور ستاون ایک روزہ میچوں میں ملک کی نمائندگی کی ہے۔

پولیس نے تین کھلاڑیوں کے علاوہ کئی بک میکروں اور انڈر ورلڈ ڈان داؤد ابراہیم کو بھی ملزمان کی فہرست میں شامل کیا ہے۔

پولیس کے علاوہ بھارتی کرکٹ بورڈ نے فکسنگ کے الزامات کے لیے انکوائری پینل قائم کیا تھا جسے پیر کے روز ممبئی ہائی کورٹ نے غیر قانونی قرار دے کر کرکٹ بورڈ کو حکم دیا تھا کہ وہ کرکٹ میچوں میں سٹے بازی اور میچ فکسنگ کے معاملے کی جانچ کے لیے نئی کمیٹی تشکیل دے۔

کرکٹ بورڈ نے آئی پی ایل کے میچوں میں سپاٹ فکسنگ اور جوئے بازی کے انکشافات کے بعد دو ججوں کی ایک تحقیقحاتی کمیٹی بنائی تھی۔ اس کمیٹی نے گزشتہ دنوں بورڈ کے صدر سری نیواسن اور ان کے داماد کے ساتھ ساتھ کرکٹ بورڈ کو میچ فکسنک کے سبھی الزامات میں کلین چٹ دے دی تھی۔

سری نیواسن کے دامادگروناتھ میپن کو ممبئی پولیس نے آئی پی ایل کے میچوں پر جوا کھیلنے کے الزام میں گرفتار کیا تھا۔ میپن اپنے سسر کے ساتھ آئی پی ایل کی چنئی سپر کنگز ٹیم کے مشترکہ مالک بتائے جاتے ہیں لیکن ان پر جوئے بازی کا الزام لگنے کے بعد ان کی ملکیت کی خبروں کی تردید کی گئی تھی۔

اسی بارے میں