’مغربی جرمنی نے ڈوپنگ کی حوصلہ افزائی کی‘

جرمنی میں سیاست دانوں اور سپورٹس حکام نے اس تحقیق کو شائع کرنے کا مطالبہ کیا ہے جس کے کچھ افشا کیے گئے حصوں میں مغربی جرمنی پر ڈوپنگ یا کھلاڑیوں کی کاررکردگی بڑھانے کے لیے انھیں منظم انداز میں ممنوع ادویات دینے کی حوصلہ افزائی کرنے کا الزام عائد کیا گیا ہے۔

یہ الزامات سنہ 1960 اور 1970 کی دہائی کے دوران پیش سامنے آئے ہیں۔

جرمن میڈیا کے مطابق برلن کی ہمبولڈ یونیورسٹی نے دعویٰ کیا ہے کہ مشرقی جرمنی کے ایتھلیٹ کارکردگی بڑھانے کے لیے ممنوع ادویات استعمال کرتے رہے۔

ہمبولڈ یونیورسٹی نے یہ دعویٰ بھی کیا ہے کہ سنہ 1966 میں فٹ بال کے عالمی کپ کے فائنل میں مغربی جرمنی کے تین کھلاڑیوں نے انگلینڈ کے خلاف کارکردگی بڑھانے والی ادویات استعمال کیں۔

سنہ 1990 میں مغربی اور مشرقی جرمنی کے دوبارہ یکجا ہونے کے بعد مشرقی جرمنی کے کھیلوں میں ڈوپنگ یا ممنوع ادویات استعمال کرنے کے بارے میں مکمل معلومات سامنے آئی تھیں۔ لیکن اب تشویش کا اظہار کیا جا رہا ہے کہ شاید مغربی جرمنی نے بھی کھیلوں میں اسی قسم کی دھوکہ دہی کی حوصلہ افزائی کی ہو۔

ایک جرمن اخبار کے مطابق اس تحقیق میں کہا گیا ہے کہ مغربی جرمنی کے حکام نے کارکردگی بڑھانے والی ادویات پر تحقیق کے لیے رقم پر فراہم کی۔ ان ادویات میں اینابولِک سٹیروئیڈ، ٹیسٹاسٹیرون، ایسٹروجن اور ای پی او شامل ہیں ۔

اطلاعات کے مطابق اس پروگرام نے سنہ 1970 کی دہائی میں منظم انداز اختیار کیا۔

جرمن اولمپک سپورٹس یونین کے مائیکل ویسپر نے زی ڈی ایف ٹی وی کو فیڈرل انسٹی ٹیوٹ آف سپورٹس سائنس (بی آئی ایس پی) کے بارے میں کہا: ’ ظاہر ہے کہ بی آئی ایس پی نے ٹیکس کے پیسے سے ڈاکٹروں کے ریسرچ پراجکٹس کو پروموٹ کیا لیکن آپ اس کا ریاست کی جانب سےڈوپنگ کا حکم دینے سے موازنہ نہیں کر سکتے۔‘

انھوں نے کہا: ’ہم چاہتے ہیں کہ اس رپورٹ کو جلد از جلد ہمارے حوالے کیا جائے‘۔

حزبِ اختلاف کی جماعت کے ترجمان مارٹن جیرسٹر نے کہا: ’جو چیز ٹکڑوں میں آ رہی ہے وہ ہمارے خدشات سے زیادہ خطرناک ہے۔ ہم چاہتے ہیں کہ جلد از جلد پورا سچ سامنے آئے‘۔

رپورٹ کے افشا ہونے والے حصے میں دعویٰ کیا گیا ہے کہ سنہ 1966 کے فٹ بال کے عالمی کپ کے فائنل میں مغربی جرمنی کے تین کھلاڑیوں کے خون میں ایفی ڈرین کے اثرات تھے، جو کارکردگی بڑھانے والی ممنوع دوا ہے۔

مغربی جرمنی کے ڈوپنگ میں ملوث ہونے کے بارے میں برلن کی ہمبولڈ یونیورسٹی کی طرف سے کی گئی تحقیق کے کچھ حصوں کو اختتامِ ہفتہ پر جرمن میڈیا نے افشا کیا تھا۔

فیڈرل انسٹی ٹیوٹ آف سپورٹس سائنس (بی آئی ایس پی) کی طرف سے کمشن کیے گئے اس مطالعے کو گذشتہ سال شائع ہونا تھا لیکن اسے ذاتی رازداری اور قانونی مسائل کی وجہ سے روک دیا گیا۔

فیڈرل انسٹی ٹیوٹ آف سپورٹس سائنس کو سنہ 1970 میں وزاتِ داخلہ کے زیرِانتظام بنایا گیا تھا۔

اسی بارے میں