’عالمی کپ کی تاریخیں تبدیل کرنا پڑیں گی‘

Image caption 2022 میں پہلی بار فٹبال کا عالمی کپ مشرقِ وسطیٰ میں ہوگا

عالمی فٹبال ایسوسی ایشن کے چیئرمین گریگ ڈائک کا کہنا ہے کہ سنہ دو ہزار بائیس میں قطر میں فٹبال کے عالمی کپ کا موسمِ گرما میں ہونا ’ناممکن‘ ہوگا۔

گذشتہ ماہ اپنا عہدہ سنبھالنے والے گریگ ڈائک کا خیال ہے کہ ٹونامنٹ کو قطر میں گرمی کی وجہ سے سردیوں میں کروانا ہوگا۔

فٹبال کی پریمیئر لیگ عالمی کپ کی تاریخیں تبدیل کرنے کی مخالفت کرتی ہے جبکہ ایسوسی ایشن کے سابقہ چیئرمین ڈیوڈ برنسٹیئن کہہ چکے ہیں کہ تاریخوں میں تبدیلی ایک بنیادی غلطی ہوگی۔

قطر میں عالمی کپ کی منتظم تنظیم کا کہنا ہے کہ وہ موسمِ گرما میں ٹورنامنٹ کا انعقاد کرنے کے لیے تیار ہے۔

گریگ ڈائک کا کہنا ہے کہ ’چاہے تمام سٹیڈیم ایئر کنڈیشنڈ بھی ہوں پھر شائقین کے لیے یہ ناممکن ہوگا۔ آپ اس گرمی میں ذرا باہر جا کر تو دیکھیں۔ میرے خیال میں یہ بالکل ممکن نہیں۔‘

ان کا مزید کہنا تھا کہ ’میرا موقف اور میرے خیال میں فٹبال ایسوسی ایشن کا بھی موقف یہی ہوگا کہ آپ یہ ٹونامنٹ گرمیوں میں نہیں کھیل سکتے۔‘

قطر میں عالمی کپ کی منتظم سپریم کمیٹی نے بی بی سی کو بتایا کہ ’مشرقِ وسطیٰ کو پہلی بار سنہ دو ہزار بائیس میں فٹبال کے عالمی کپ کی میزبانی دینا درست فیصلہ تھا۔

’ہم عالمی کپ موسمِ گرما یا پھر سرما دونوں میں میزبانی کرنے کو تیار ہیں۔ ہم نے ہمیشہ کہا ہے کہ یہ معاملہ عالمی فٹبال برادری میں اتفاقِ رائے کا ہے۔‘

’تاریخوں میں تبدیلی سے ہمارے منصوبوں کی تیاری پر کوئی فرق نہیں پڑے گا۔‘

مانا جا رہا ہے کہ فٹبال کی پریمیئر لیگ گریگ ڈائک کے بیان پر حیران اور مایوس ہے۔ ان کا ارادہ ہے کہ فٹبال ایسوسی ایشن کے ساتھ مل کر اس تبدیلی کی مخالفت کریں گے۔

پریمیئر لیگ کےچیف ایگزیکٹوو رچرڈ سکوڈامور نے جولائی میں کہا تھا کہ قطر کے عالمی کپ کی تاریخوں میں تبدیلی سے دنیا بھر کی فٹبال لیگوں میں افراتفری مچ جائے گی۔

ان کی تنظیم کا موقف ہے کہ اس تبدیلی سے دنیا کی مختلف لیگوں کے تین داخلی سیزنوں پر اثر پڑے گا جس سے نشریات کے معاہدوں اور کھلاڑیوں کے معاہدے دوبارہ کرنا پڑیں گے۔

سنہ دو ہزار دس میں قطر نے جنوبی کوریا، جاپان، آسٹریلیا اور امریکہ کو شکست دے کر عالمی کپ کی میزبانی کے حقوق حاصل کیے تھے۔

البتہ ان حقوق کی نیلامی کے حوالے سے بدعنوانی کے الزامات سامنے آتے رہے ہیں مگر منتظمین کا اصرار ہے کہ انھوں نے کچھ میں غلط نہیں کیا۔

مشرقِ وسطیٰ میں موسمِ گرما میں درجہِ حرارت پچاس ڈگری سینٹی گریڈ تک پہنچ جاتا ہے اور فیفا کے جنرل سیکٹریجروم ویلک مارچ میں اس بات کا اعتراف کر چکے ہیں کہ ٹورنامنٹ کی تاریخوں کو تبدیل کیا جا سکتا ہے۔

مئی میں فیفا کے صدر سیپ بلیٹر نے کہا تھا کہ اتنی گرمی میں کھیلنے کا جواز نہیں بنتا۔

تاہم فٹبال ایسوسی ایشن کے چیئرمین کا عہدہ چھوڑتے ہی ڈیوڈ برنسٹیئن نے کہا تھا کہ کوئی تبدیلی نہیں ہبونی چاہیے۔ ’عالمی کپ جون اور جولائی میں کھیلا جانا تھا اور نیلامی بھی اسی بات پر کی گئی تھی۔ تاریخوں میں تبدیلی بنیاد طور پر غلط ہوگی۔‘

’اگر لوگ موسمِ سرما میں کھیلنا چاہتے ہیں تو پھر نیلامی بھی انہی بنیادوں پر ہونی چاہیے۔‘

تاہم گریگ ڈائک کاماننا ہے کہ یہ تبدیلی ہونا ضروری ہے اور انہیں شبہہ ہے کہ اس سے قانونی کارروائی ہونا پڑے گی۔

اسی بارے میں