ہالینڈ میں سائیکل سواری اتنی مقبول کیوں؟

ہالینڈ میں رہائشیوں سے زیادہ سائیکلیں ہیں اور ایمسٹرڈیم اور ہیگ جیسے بڑے شہروں میں لوگ اپنا ستر فیصد سفر سائیکلوں پر ہی کرتے ہیں۔ ہیگ میں بی بی سی کی نامہ نگار اینا ہولیگن کے پاس بھی پیڈل بریکوں اور تنکوں کی ٹوکری والی ایک ’اومافیٹ‘ سائیکل ہے۔ نامہ نگار نے یہ جاننے کی کوشش کی ہے کہ سائیکلوں کے اس قدر رجحان کی وجہ کیا ہے؟

ستر کی دہائی

دوسری جنگِ عظیم سے پہلے ہالینڈ میں سفر زیادہ تر سائیکل پر ہی کیا جاتا تھا تاہم انیس سو پچاس اور ساٹھ کی دہائیوں میں گاڑیوں کے بڑھتے ہوئے رجحان نے یہ سب تبدیل کر دیا۔ یورپ کے بہت سے ممالک کی طرح سڑکوں پر رش میں اضافہ ہوا اور سائیکل سوار فٹ پاتھوں تک محدود ہوگئے۔

گاڑیوں کی بڑھتی ہوئی تعداد کی وجہ سے سڑکوں پر ہلاک ہونے والے افراد کی شرح بھی اضافہ ہوا۔ انیس سو اکہتر میں تین ہزار افراد موٹر گاڑیوں کی وجہ سے ہلاک ہوئے جن میں ساڑھے چار سو بچے بھی تھے۔

اس کے ردِعمل میں ایک سماجی تحریک شروع ہوئی جس کا مطالبہ بچوں کے سائیکلیں چلانے کے لیے محفوظ تر ماحول تھا۔ سڑک کے ایک حادثے میں اپنا بچہ کھو دینے والے صحافی وِک لیگناف کے مضمون کی سرخی ’سٹاپ دی کندرمورد‘ (بچوں کا قتل روکو) اس تحریک کا نام بن گیا۔

ہالینڈ کے لوگوں کے گاڑیوں پر اعتماد کو اس وقت بھی دھچکہ پہنچا جب انیس سو تہتر میں تیل کا بحران آیا اور تیل پیدا کرنے والے ممالک نے امریکہ اور مغربی یورپ کے ممالک کو تیل کی برآمد روک دی۔

ان دونوں وجوہات کی بنا پر ہالینڈ کی حکومت نے سائیکل سواروں کو بہتر انتظامی ڈھانچہ فراہم کرنے کے لیے سرمایہ کاری کا آغاز کیا اور دیگر یورپی شہروں کے برعکس ہالینڈ میں شہروں کی منصوبہ بندی کرنے والوں کی سوچ گاڑیوں کے لیے سڑکیں بنانے سے ہٹ گئی۔

کامیابی کی راہ

سائیکل کی سواری کو محفوظ تر بنانے کے لیے ہالینڈ کی حکومت نے سائیکلوں کے لیے مخصوص راستوں کا ایک وسیع نیٹ ورک تعمیر کیا۔

ان راستوں کی واضح نشادہی کی گئی، ان کی سطح ہموار بنائی گئی، ٹریفک کے علیحدہ نشان اور لائٹیں لگائی گئیں اور انہیں اتنا چوڑا بنایا گیا کہ ایک وقت میں دو سائیکلیں ساتھ ساتھ چل سکیں۔

کچھ شہروں میں سائیکل سواروں کے لیے سڑکیں گاڑیوں کی سڑکوں سے بالکل علیحدہ بنائی گئیں۔ جہاں جگہ کی کمی تھی اور دونوں سواریوں کو سانجھی سڑک ملی وہاں آپ کو ایک نشان نظر آئے گا جس میں سائیکل سوار آگے اور گاڑی پیچھے ہوگی۔ اس نشان پر لکھا ہوتا ہے کہ ’سڑکیں سائیکلوں کے لیے ہیں، گاڑیاں تو صرف مہمان ہیں۔‘

گول چکروں پر بھی سائیکل سواروں کو ترجیح حاصل ہے۔

آپ چوک میں موجود گول چکر کے گرد بہت آرام سے سائیکل چلا کر جا سکتے ہیں اور گاڑیاں تقریباً ہمشہ ہی انتظار کرتی ہیں۔ ٹریفک میں سائیکلوں کو ترجیح حاصل ہونا سیاحوں کو اتنا عجیب لگتا ہے کہ بہت سے سائیکل سوار سیاحوں کو شروع میں سڑکوں پر بہت سی مشکلات کا سامنا ہوتا ہے۔

ابتدائی تربیت

ہالینڈ میں بچے چلنے سے پہلے سائیکل سواری کی دنیا سے متعارف ہوتے ہیں۔ نومولود بچے سائیکلوں کی خصوصی سیٹوں پر سفر کرتے ہیں اور موسمی حالات سے بچاؤ کے لیے ان سیٹوں پر ایک پردہ بھی لگا ہوتا ہے۔ چند والدین تو ان خصوصی سیٹوں پر بہت خرچہ کرتے ہیں۔

سائیکلوں کے لیے مخصوص چوڑے اور محفوظ راستوں کی بدولت بڑے ہوتے ہی بچے اپنی سائیکلیں چلانا شروع ہو جاتے ہیں اور ان کے ہمراہ نگرانی کے لیے والدین پیدل چل سکتے ہیں۔

ہالینڈ میں اٹھارہ سال سے کم عمر کے افراد کو بغیر نگرانی کے گاڑی چلانے کی اجازت نہیں اسی لیے سائیکل سواری اٹھارہ سال سے کم عمر افراد کے لیے آزادی کا متبادل ہے۔

سائیکل سواری کو نوجوانوں میں مقبول بنانے کے لیے ریاست بھی اپنا کردار ادا کرتی ہے۔ سکولوں کے نصاب میں سائیکل سواری ایک اہم جُز ہے۔ تمام سکولوں میں سائیکلیں کھڑی کرنے کی جگہ ہے اور نوے فیصد طلبہ سائیکل پر ہی سکول آتے ہیں۔

سائیکلوں کے پیچھے کی دنیا

یونیورسٹی ٹاؤن گروننگن کے مرکزی ٹرین سٹیشن کی نچلی سطح پر دس ہزار سائیکلوں کی پارکنگ ہے۔ سائیکل سواروں کو وہی سہولیات میسر ہیں جو کہ دنیا بھر میں موٹر کار سواروں کو ہوتی ہیں۔

ہالینڈ میں سائیکلوں کی پارکنگ ہر جگہ موجود ہے، سکولوں کے باہر، دفاتر کے باہر، بازاروں اور دکانوں کے قریب۔ سائیکل سواروں سے توقع کی جاتی ہے کہ وہ اپنی سائیکل ان مخصوص جگہوں پر رکھیں گے اور اگر آپ نے غلط جگہ پر سائیکل کھڑی کر دی تو اسے ضبط کیا جا سکتا ہے اور آپ کو سائیکل دوبارہ حاصل کرنے کے لیے پچیس یورو تک کا جرمانہ بھی دینا پڑ سکتا ہے۔

جو لوگ فلیٹوں میں رہتے ہیں جہاں سائیکل کھڑی کرنے کی کوئی مخصوص جگہ نہیں ہوتی تو وہ عمارت کے اجتماعی استعمال کی جگہ پر سائیکل کھڑی کر سکتے ہیں۔

سولہویں صدی میں ایمسٹرڈیم میں مکانات پر ٹیکس ان کی چوڑائی کے حساب سے لگایا جاتا تھا۔ لوگوں نے اس کا حل یہ نکالا کہ وہ مکانات اونچے سے اونچے بنانے لگے۔ تو آج ان مکانوں کے تنگ راستے سائیکلوں سے بھر جاتے ہیں مگر اتنے لوگ سائیکل چلاتے ہیں کہ کوئی بھی اس کا برا نہیں مناتا۔

معاملہ آپ کی سواری کا نہیں۔۔۔

سائیکل سواری اس قدر عام ہے کہ اس سوال پر کہ کیا آپ سائیکل چلاتے ہیں، چند لوگ برا منا گئے۔ ان کا جواب تھا ’ہم سائیکل سوار نہیں، ہم تو بس ہالینڈ کے لوگ ہیں۔‘

سائیکل سواری چند لوگوں کی روز مرہ زندگی کا اتنا اہم حصہ ہے کہ یہاں لوگ جدید ترین سائیکل یا آلات پر زیادہ توجہ نہیں دیتے۔

وہ اپنی سائیکلوں کو ایسا ساتھی سمجھتے ہیں جس پر وہ اعتماد کر سکتے ہیں۔ ایسے رشتے میں وابستگی کا طویل ہونا اہم ہوتا ہے، جتنی پرانی سائیکل، اتنی بہتر۔ بہت دفعہ آپ کو پیچھے سے آتی ہوئی سائیکل میں مڈ گارڈ پہیہ سے ٹکراتا سنائی دیتا ہے۔ جتنی پرانی آپ کی سائیکل اتنا بہتر آپ کا اعزاز کیونکہ یہ ایک طویل محبت کی علامت ہے۔

نہ کوئی پسینہ، نہ کوئی مخصوص لباس

ہالینڈ کی معروف متوازی سڑکوں اور گنجان آباد علاقوں کے باعث سائیکلوں پر زیادہ تر سفر دشوار نہیں ہے۔

بہت کم لوگ سائیکل سواری کے لیے مخصوص لباس پہنتے ہیں اور چاہے دفتر جا رہے ہوں یا دوستوں سے ملنے، سفر سائیکل پر ہی ہوتا ہے۔ وہ کپڑے وہی پہنتے ہیں جو ان کے خیال میں ان کی منزل کے لیے مناسب ہوں۔

سائیکل کے مخصوص راستوں کی وجہ سے آپ کو سائیکل تیز بھی نہیں چلانی پڑتی اور اس لیے لوگوں کو دفاتر میں جا کر نہانے کی ضرورت نہیں پڑتی کیونکہ آپ کا سفر بغیر پسینے کے ہوتا ہے۔

ہالینڈ کے لوگ سائیکلوں پر ہیلمٹ پہننے کے بھی عادی نہیں کیونکہ سائیکلوں کو ذہن میں رکھ کر بنائے گئے قوانین اور اس کے لیے بنایا گیا ڈھانچہ سائیکل سواروں کی حفاظت کرتے ہیں۔ اگر آپ کو ہالینڈ میں کوئی سائیکل پر ہیلمٹ پہنے نظر آئے تو شاید وہ سیاح یا پیشہ وارانہ سائیکل سوار ہی ہوں گے۔

طاقت نہیں، حق کا راج

چونکہ ہر کوئی سائیکل چلاتا ہے یا کم از کم کسی سائیکل سوار کو جانتا ہے، اسی لیے گاڑیاں چلانے والے سڑک پر سائیکل سواروں کا خیال رکھتے ہیں۔

اس کے بدلے سائیکل سواروں سے توقع کی جاتی ہے کہ وہ سڑکوں کے قوانین کا احترام کریں۔ اشارہ توڑنے، غیر ذمہ دارانہ انداز میں سائیکل چلانے یا غلط راستے پر چلانے کی وجہ سے آپ پر جرمانہ ہو سکتا ہے۔ رات کو سائیکل پر لائٹیں نہ ہونے کی صورت میں سائیکل سوار پولیس اہلکار آپ کو ساٹھ یورو کا جرمانہ کر سکتا ہے۔ اور اگر ہالینڈ کے قوانین کے تحت سائیکل پر روشنی کے ’ریفلیکٹرز‘ نہ ہونے کی صورت میں جرمانہ اس سے بھی زیادہ ہو سکتا ہے۔

اس سب کے باوجود بھی حادثے تو ہوتے ہیں۔ سائیکل سوار جن حادثوں میں ملوث ہوں، اُس میں اکثر بیما کمپنیاں ہالینڈ کے سڑکوں پر تحفظ کے قانون کے آرٹیکل 185 کا استعمال کرتی ہیں جس کے تحت قصوروار کا تعین کیا جاتا ہے۔ اس کے تحت گاڑی سوار کو کم از کم سائیکل سوار کے مالی نقصان کا پچاس فیصد ادا کرنا ہوتا ہے۔

سڑکوں پر نکلتے وقت ہالینڈ کے سائیکل سوار محفوظ محسوس کرتے ہیں جس سے سائیکل سواری اور بھی لطف اندوز ہو جاتی ہے۔ سڑکوں پر خطرات تو ہیں مگر ان میں سامان سے بھرے ٹرک، غیر ذمہ دار ڈرائیور یا غیر معیاری سڑکیں کم ہی قصواروار ہوتی ہیں۔

اسی بارے میں