سپاٹ فکسنگ: محمد آصف کا اعترافِ جرم

پاکستان کے سابق فاسٹ باؤلر محمد آصف نے سنہ دو ہزار دس کے سپاٹ فکسنگ سکینڈل کے حوالے سے پہلی بار اپنا جرم قبول کرتے ہوئے اس کے لیے معافی مانگی ہے۔

محمد آصف کو سپاٹ فکسنگ کے الزامات کے تحت پانچ سالہ پابندی کا سامنا ہے۔

تیس سالہ کرکٹر اپنے جرم کا اعتراف کرنے والے آخری کھلاڑی ہیں۔ ان کے ساتھ اس سپاٹ فکسنگ کے شریک ملزم سلمان بٹ اور محمد عامر پہلے ہی اپنے جرم کا اعتراف کر چکے ہیں۔

محمد آصف رہا ہوگئے

پاکستان کی قومی ٹیم کے یہ تینوں کھلاڑی باؤلر محمد آصف، محمد عامر اور اُس وقت ٹیم کے کپتان سلمان بٹ پر سنہ دو ہزار دس میں لارڈز کے میدان میں انگلینڈ کے خلاف کھیلے جانے والے ٹیٹ میچ میں جان بوجھ کا نو بال کروانے کے الزام میں پابندی عائد کی گئی تھی۔

بین القوامی کرکٹ کونسل کے انسدادِ بدعنوانی ٹریبینول کی جانب سے سلمان بٹ پر دس سال، محمد آصف پر سات سال اور محمد عامر پر پانچ سال کی پابندی عائد کی تھی۔

ٹربینونل نے اعترافِ جرم، معافی اور بحالی کو کم کی گئی سزا کے بدلے لازم قرار دیا تھا۔

محمد آصف نے ایک نیوز کانفرنس میں کہا کہ ’میں نے سنہ دو ہزار گیارہ میں آئی سی سی کی جانب سے سزا کو قبول کیا۔‘

’میں اپنے کیے کے لیے معافی مانگتا ہوں جس کی وجہ سے میرے پیارے ملک اور پاکستان کے لاکھوں شائیقن کی دنیا بھر میں بدنامی ہوئی۔‘

سنہ دو ہزار گیارہ میں تینوں کھلاڑیوں کے ساتھ ان کے ایجنٹ مظہر مجید کو بھی برطانوی عدالت نے قید کی سزا سنائی تھی۔ تینوں کھلاڑی گذشتہ برس رہا ہو گئے تھے۔

آصف کا یہ اعتراف ان کوششوں میں ناکامی کے بعد آیا ہے جس میں انہوں نے سزا اور آئی سی سی کی جانب سے پابندی کو چیلنج کیا تھا۔

سوئٹزرلینڈ میں قائم کھیلوں کی ثالثی عدالت نے محمد آصف کی جانب سے آئی سی سی کے فیصلے کے خلاف اپیل مسترد کر دی تھی جس کے بعد جون میں لندن کی اپیل کی عدالت نے بھی ان کی جانب اپیل مسترد کر دی تھی۔

محمد آصف کا کہنا تھا کہ وہ اپنی غلطیوں پر نادم ہیں۔

انہوں نے کہا ’جب میں اپنے کیرئر کے واقعات کو دیکھتا ہوں تو مجھے شرمندگی ہوتی ہے۔‘

’میں اپنے ملک کی نمائندگی کی خواہش رکھنے والے تمام کھلاڑیوں سے درخواست کرتا ہوں کہ وہ ہر قسم کی بدعنوانی سے دور رہیں‘۔

انہوں نے مزید کہا ’جو کھلاڑی ان خطرات سے بچنا چاہتے ہیں میں ان کی مدد کے لیے تیار ہوں۔ میں آئی سی سی اور اس کے انسدادِ بدعنوانی یونٹ اور پی سی بی کے ساتھ کرکٹ کے کھیل سے بدعنوانی کے خاتمے کے لیے تعاون کروں گا‘۔

محمد آصف کے بارے میں پاکستان کے سابق کپتان عمران خان نے کہا تھا کہ وہ نئی گیند کے ساتھ باؤلنگ کروانے والے دنیا کے بہترین کھلاڑی ہیں۔

ان کا کرئیر پہلی بار اس وقت داغدار ہوا جب ان پر اور ان کے ساتھی کھلاڑی شعیب اختر کے خلاف ممنوعہ ادویات کے ٹیسٹ مثبت آئے۔ پاکستانی کرکٹ بورڈ نے تو انہیں کھیلنے دیا تاہم دو ہزار آٹھ میں انڈین پریمئر لیگ کے دوران ڈوپ ٹیسٹ میں ناکامی کے بعد ان پر ایک سال کی پابندی عائد کی گئی۔

انہیں دو ہزار آٹھ میں آئی پی ایل کی پابندی کے بعد واپسی پر دوبئی کے ہوائی اڈے پر اس وقت حراست میں لیا گیا جب ان کے پاس سے منشیات برآمد ہوئی۔

اسی بارے میں