آسٹریلیوی سلیکٹرز صبر سے کام لے، پونٹنگ

Image caption آسٹریلیا کی جانب سے 168 ٹیسٹ میچوں میں 13,378 رنز بنانے والے 38 سالہ پونٹنگ نے سنہ 2012 میں کرکٹ کو خیر آباد کہہ دیا تھا

آسٹریلیا کے سابق کپتان رکی پونٹنگ نے سلیکٹرز کو نوجوان بلے بازووں کے ساتھ تحمل سے پیش آنے کی استدعا کی ہے۔

ان کا کہنا تھا ’سلیکٹروں کو بہترین کھلاڑیوں کو پہچاننا، انھیں موقع فراہم اور ہارنے کی صورت میں بھی ان کا ساتھ دینا ہو گا‘۔

آسٹریلیا کی جانب سے 168 ٹیسٹ میچوں میں 13,378 رنز بنانے والے 38 سالہ پونٹنگ نے سنہ 2012 میں کرکٹ کو خیر آباد کہہ دیا تھا کہا کہ آسٹریلیا کے چند نوجوان بلے باز بین القوامی کرکٹ کے پریشر سے باہر آنے کی کوشش کر رہے ہیں۔

انھوں نے انگلینڈ کے این بیل اور ایلسٹر کک کی مثال دیتے ہوئے کہا کہ اگر آپ چھ سال پہلے ان دونوں کی کارکردگی کا جائزہ لیں تو آپ کو معلوم ہو گا کہ ان کی کامیابی راتوں رات ممکن نہیں ہوئی۔

پونٹنگ کو یقین ہے کہ فلپ ہیوز، عثمان خواجہ اور سٹیون سمتھ کو کرکٹ کھیلنے کا زیادہ سے زیادہ موقع فراہم کرنا آسٹریلین کرکٹ بورڈ کے لیے فائدہ مند ثابت ہو گا۔

سابق کپتان کے مطابق’ اگر ہمارے پاس یہ بہترین کھلاڑی ہیں تو انھیں سیکھنا ہو گا تاکہ ان میں خود اعتمادی پیدا ہو‘۔خیال رہے کہ انگلینڈ میں جاری ایشز سیریز کے دوران شین واٹسن، عثمان خواجہ سٹیون سمتھ، ایڈورڈ کوون اور فلپ ہیوز زیادہ رنز بنانے میں ناکام رہے ہیں۔

اس سے پہلے آسٹریلیا کی کرکٹ ٹیم کے کوچ ڈیرن لیہمن نے انگلینڈ کے ہاتھوں ایشز سیریز ہارنے کے بعد آسٹریلوی بلے بازوں پر تنقید کرتے ہوئے کہا تھا کہ چند کھلاڑیوں کا کیرئیر اب داؤ پر لگ چکا ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ بلے بازوں کو سیکھنا پڑے گا اور اگر وہ نہیں سیکھتے تو ہم ان کا متبادل تلاش کریں گے۔

انگلینڈ میں جاری حالیہ ایشز سیریز کے پہلے دو ٹیسٹ میچوں میں آسٹریلیا کو شکست کا سامنا کرنا تھا جبکہ مانچسٹر میں کھیلا جانے والا سیریز کا تیسرا ٹیسٹ میچ بےنتیجہ رہا تھا۔ ایشز سیریز کے چوتھے کرکٹ ٹیسٹ میں انگلینڈ نے آسٹریلیا کو 74 رنز سے شکست دے دی۔

اسی بارے میں