ایشز 2013: ’سنیکو‘ کا استعمال ہو سکتا ہے

Image caption انگلینڈ اور آسٹریلیا کے درمیان آئندہ ایشز سیریز میں ’سنیکو‘ ٹیکنالوجی کا استعمال ہو سکتا ہے

بین الاقوامی کرکٹ کونسل آئی سی سی کے چیف ایکزیکٹیو ڈیوڈ رچرڈسن نے کہا ہے کہ اس سال موسم سرما میں ہونے والی ایشز سیریز کے دوران امپائرنگ میں تعاون فراہم کرنے کے لیے ’سنیکو‘ ٹیکنالوجی کا استعمال کیا جا سکتا ہے۔

رچررڈ سن نے کہا کہ اس سال امپائرنگ پر اٹھنے والے سوالات کے پیش نظر آئندہ سنیکو ٹیکنالوجی کا استعمال کیا جا سکتا ہے جس میں آواز کے ذریعے یہ پتہ چلتا ہے کہ کیا گیند کی بلے سے ٹکرائی یا نہیں۔

واضح رہے کہ انگلینڈ اور آسٹریلیا کے درمیان جاری حالیہ سیریز میں تھرمل امیجنگ سسٹم ’ہاٹ سپاٹ‘ کو ختم کرنے کی مانگ کی جارہی تھی۔

رچرڈسن نے کہا کہ ’اس گیم میں سنیکو پہلی ایسی ٹیکنالوجی ہوگی جس کا استعمال کیا جائے گا۔ یہ ٹیکنالوجی ہمیشہ قابل اعتماد رہی ہے۔‘

سنیکو کے تحت سٹمپس میں لگے مائکروفون کا استعمال ہوگا جس میں آواز کے ذریعے یہ پتہ چلے گا کہ آیا گیند نے بلے کا کنارہ لیا تھا یا نہیں۔

اس بار تیسرے امپائر کو اس ٹیکنالوجی کی سہولیات دستیاب نہیں ہو سکی تھیں کیونکہ ٹیلی ویژن کی تصاویر اور سٹمپس سے موصول آواز کو ہم آہنگ کرنے میں کافی وقت درکار ہوتا تھا۔

لیکن اب ایک بروقت نئی سنیکو ٹیکنالوجی کے استعمال کی جانچ کی جا رہی ہے۔

انھوں نے بی بی سی فائیو کے براہ راست سپورٹس ویک پروگرام کے دوران کہا ’بہت زیادہ ٹیکنیکل ہوئے بغیر بروقت آواز اور ٹی وی کی تصویر کا ہم آہنگ ہونا ایک نازک نظام ہے اور یہ کہ گیند کی صحیح جگہ کے ساتھ اس کا ملنا بھی اہم ہے۔‘

حالیہ ایشز سیریز میں امپائرنگ کی کئی غلطیوں کو ریویو سسٹم یعنی نظر ثانی کے نظام کے باوجود درست نہیں کیا جا سکا۔ یاد رہے کہ ریویو سسٹم کے تحت ٹیم فیصلے کے لیے فیلڈ امپائر کی بجائے تیسرے امپائر یا ٹی وی امپائر سے رجوع کرتی ہے۔

اس سیریز کے پہلے ٹیسٹ میں انگلینڈ کے کھلاڑی جوناتھن ٹراٹ کو پہلے آؤٹ نہیں قرار دیا گیا تھا لیکن ریویو میں انہیں ایل بی ڈبلیو قرار دیا گیا حالانکہ گیند ان کے بلے سے لگی تھی۔

اسی ٹیسٹ میں سٹوارٹ براڈ کو ناٹ آوٹ قرار دیا گیا کیونکہ آسٹریلیا اپنے ریویو کا دونوں موقعے گنوا چکی تھی۔

اسی بارے میں